LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
یمن نے صنعاء ایئرپورٹ پر حملے کے بعد ملک کے تمام ہوائی اڈے بند کردیئے ٹرمپ کا آبنائے ہرمز کی دوبارہ ناکہ بندی کا اعلان، کارگو پر 20 فیصد فیس کا دعویٰ ایران، امریکا کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل مزید مہنگا ایران کا ٹرمپ کے آبنائے ہرمز پر کنٹرول سنبھالنے کے بیان پر ردعمل اسحاق ڈار سے اقوام متحدہ سیکرٹری جنرل کی امیدوار کی ملاقات موسلادھار بارشوں کا خدشہ، بالائی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا الرٹ جاری تربیلا ڈیم سے اضافی پانی چھوڑنے کا امکان، پی ڈی ایم اے کا الرٹ برطانیہ نےایرانی پاسداران انقلاب فورس کو دہشت گرد تنظیم قرار دے دیا امریکا جلد آبنائے ہرمز کا کنٹرول سنبھال کر دنیا سے معاوضہ وصول کریگا: ٹرمپ بحرین کا ایران پر شہری علاقوں کو نشانہ بنانے کا الزام، متعدد میزائل اور ڈرون تباہ ووٹرز لسٹوں سے مسلمانوں کے نام حذف: یواین نمائندوں کی بھارتی حکومت سے وضاحت طلب یورپی ممالک کا روس پر سائبر حملوں کا الزام، نئی پابندیاں عائد کردیں خواتین ترقی کی شراکت دار نہیں قیادت کا کردار ادا کریں: مریم نواز ایران امریکا تنازع ختم کرنے کی صلاحیت صرف پاکستان کے پاس ہے: صدر آذربائیجان شہباز شریف اور نوازشریف کی امیر قطر سے ملاقات، سابق امیر قطر کے انتقال پر تعزیت

پنجاب اسمبلی کی تاریخ میں پہلی بار پارلیمانی جوڈیشل کمیٹی قائم

Web Desk

13 July 2026

پنجاب اسمبلی کی تاریخ میں پہلی بار ایک اعلیٰ اختیاراتی ‘پارلیمانی جوڈیشل کمیٹی’ تشکیل دے دی گئی ہے۔ یہ اہم اقدام پنجاب اسمبلی پریولیجز ایکٹ 1972 کے سیکشن 11 سی (11-C) کے تحت اٹھایا گیا ہے۔ اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان کی خصوصی ہدایت پر قائم کی جانے والی اس نو تشکیل شدہ کمیٹی کے چیئرمین رکنِ اسمبلی سردار محمد اویس دریشک مقرر کیے گئے ہیں۔ کمیٹی کے دیگر ارکان میں سید علی حیدر گیلانی، شوکت راجہ، نورالامین وٹو، چودھری افتخار حسین چھچھر، امجد علی جاوید، ذوالفقار علی شاہ، راحیلہ خادم حسین اور احمر رشید بھٹی شامل ہیں، جبکہ اسپیکر کے مشیر اسامہ خاور گھمن کمیٹی کو کارروائی کے دوران قانونی و تکنیکی معاونت فراہم کریں گے۔

ذرائع کے مطابق، یہ جوڈیشل کمیٹی اسمبلی کے پارلیمانی استحقاق اور نظم و ضبط سے متعلق مقدمات کی سماعت، تحقیقات اور اسپیکر کی جانب سے بھجوائے گئے استحقاقی ریفرنسز پر کارروائی کرنے کی مجاز ہوگی۔ کمیٹی کو کسی بھی معاملے میں نوٹس جاری کرنے، شواہد و دستاویزات طلب کرنے، گواہوں کے بیانات ریکارڈ کرنے اور متعلقہ افراد کا مؤقف سننے کے وسیع اختیارات دیے گئے ہیں۔ تحقیقات مکمل ہونے پر کمیٹی اپنی حتمی رپورٹ اور سفارشات اسپیکر پنجاب اسمبلی کو پیش کرے گی، اور استحقاق کی خلاف ورزی ثابت ہونے کی صورت میں ملزمان کو سزا یا جرمانے کی سفارش کر سکے گی۔ واضح رہے کہ دیوانی اور فوجداری مقدمات اس کمیٹی کے دائرۂ اختیار میں شامل نہیں ہوں گے۔ اسمبلی ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈی پی او قصور وہ پہلے سرکاری افسر ہوں گے جن کا کیس اس نو تشکیل شدہ پارلیمانی جوڈیشل کمیٹی کے سامنے پیش کیا جائے گا۔