LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ہر طرف بدانتظامی، اس سال برآمدات میں 7 ارب ڈالر کا نقصان ہوگا: ایس ایم تنویر عوام کے لیے بڑی خوشخبری: لائٹ ڈیزل 70 روپے اور جیٹ فیول 23 روپے سے زائد سستا وزیراعظم شہباز شریف سہ ملکی دورہ مکمل کرکے انطالیہ سے پاکستان روانہ فیلڈ مارشل کا دورہ ایران مکمل، خطے میں امن، استحکام اور خوشحالی کیلئے مشترکہ اقدامات پر اتفاق صدر اور وزیراعظم کا عالمی یوم ورثہ پر پاکستان کی ثقافتی شناخت کے تحفظ کا عہد پاکستان، سعودیہ، مصر اور ترکیہ کا اجلاس، ثالثی کوششوں کا خیرمقدم، مستقل امن کی توقعات پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں گریجوایٹ کورس کی پروقار پاسنگ آؤٹ تقریب اسلام آباد اور خیبرپختونخوا میں زلزلے کے جھٹکے، شدت 5.5 ریکارڈ امریکا نے روسی تیل کی خرید و فروخت پر پابندیاں مزید ایک مہینے کیلئے ہٹا دیں کراچی سے پہلی حج پرواز 160 عازمین کے ساتھ حجازِ مقدس روانہ ایران، امریکا اختلافات برقرار، جنگ بندی میں توسیع اور ابتدائی ڈیل کی امید آبنائے ہرمز کی بحالی : پاسدارانِ انقلاب کی جہازوں کے لیے نئی شرائط پاکستان اور ارجنٹائن فٹبال ٹیموں کے درمیان فرینڈلی میچ کی تیاریاں وزیراعظم نے ڈیزل کی قیمت میں 32روپے12پیسے فی لٹرکمی کی منظوری دے دی ایران کا آبنائے ہرمزمکمل طورپر کھولنے کا اعلان ، وزیر خارجہ عراقچی کابڑا اعلان

خوش رہیں اور مسکرائیں کیونکہ یہ مفت علاج ہے

Web Desk

7 March 2026

ہنسنا، مسکرانا اور خوش رہنا انسانی صحت کے لیے اتنا ہی ضروری ہے جتنا باقاعدہ ورزش کرنا اور متوازن غذا کا استعمال کرنا۔ اداسی، پریشانی اور مایوسی ایسے احساسات ہیں جو انسان کو ذہنی اور جذباتی طور پر کمزور کر دیتے ہیں اور زندگی میں آگے بڑھنے کی صلاحیت کو متاثر کرتے ہیں۔ یہ کیفیت انسان کو اندھیرے میں دھکیل دیتی ہے اور وہ مزید اضطراب کا شکار ہو جاتا ہے۔

ایسی حالت میں بہت سے لوگ ڈپریشن کا شکار ہو جاتے ہیں، منفی سوچ ان پر غالب آ جاتی ہے اور وہ خود سے دوری اختیار کرنے لگتے ہیں۔ چڑچڑا پن، موڈ میں بار بار تبدیلی اور خوش رہتے ہوئے بھی ناخوش دکھائی دینا ان کی روزمرہ زندگی کا حصہ بن جاتا ہے۔ بعض اوقات یہ کیفیت اتنی شدید ہو جاتی ہے کہ کچھ افراد خودکشی جیسے خطرناک خیالات تک پہنچ جاتے ہیں۔ اس لیے ماہرین کا کہنا ہے کہ انسان کو اپنی اچھی صحت کے لیے ہمیشہ خوش رہنے اور مسکرانے کی کوشش کرنی چاہیے۔

زندگی میں اتار چڑھاؤ آنا فطری امر ہے، تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ انسان مایوسی کو اپنی زندگی پر حاوی ہونے دے۔ مثبت سوچ اپنانا اور امید کو برقرار رکھنا خوشحال زندگی کے لیے ضروری ہے۔ امریکا کے ایک نفسیاتی ہسپتال کے سابق ڈائریکٹر کے مطابق ہنسنا انسان کو بہتر محسوس کراتا ہے اور لوگوں کو ایک دوسرے کے قریب لانے میں مدد دیتا ہے۔ یہاں تک کہ ڈپریشن میں مبتلا مریضوں کے لیے بھی ہنسی اور مسکراہٹ بہترین علاج ثابت ہو سکتی ہے۔

ہارورڈ میڈیکل اسکول کے شعبۂ سائیکاٹری کے ماہر نفسیات ڈاکٹر ڈیٹیلو کے مطابق کسی بیماری کا ہسپتال میں علاج بہت مہنگا ہو سکتا ہے، لیکن ہنسنے کے لیے کسی خرچ کی ضرورت نہیں ہوتی۔ یہ ایک ایسا قدرتی علاج ہے جس کے کوئی مضر اثرات نہیں ہوتے۔

سائنسی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ ہنسی ذہنی تناؤ اور اضطراب کو کم کرتی ہے۔ جسمانی طور پر یہ تناؤ کے ہارمونز کی سطح کم کرتی ہے جبکہ خوشی کے احساس سے متعلق ہارمونز جیسے ڈوپامائن اور سیروٹونن میں اضافہ ہوتا ہے۔

برازیل اور کینیڈا کے محققین نے 2020ء میں ہسپتال میں زیر علاج 1600 سے زائد بچوں اور کم عمر مریضوں پر تحقیق کی۔ ان بچوں میں بے چینی، درد، تناؤ اور کینسر جیسی بیماریوں کے مریض شامل تھے۔ تحقیق سے معلوم ہوا کہ جن بچوں کو علاج کے دوران خوشگوار ماحول فراہم کیا گیا ان کی نفسیاتی حالت بہتر ہوئی اور وہ نسبتاً جلد صحت یاب ہونے لگے۔

ماہرین کے مطابق ہنسنا نہ صرف یادداشت کو بہتر بناتا ہے بلکہ قوتِ مدافعت کو بھی مضبوط کرتا ہے، جس سے جسم دل کی بیماریوں سمیت دیگر امراض کے خلاف بہتر انداز میں مقابلہ کر سکتا ہے۔ اس کے علاوہ مسکراہٹ شخصیت کو بھی زیادہ پُرکشش بناتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ چہرے پر مسکراہٹ دوسروں کے لیے مثبت پیغام ہوتی ہے جبکہ غصہ، ماتھے پر بل ڈالنا اور ناگواری کے تاثرات لوگوں کو آپ سے دور کر دیتے ہیں۔ اس لیے پُرکشش اور مثبت شخصیت کے خواہش مند افراد کے لیے مسکراہٹ ایک طاقتور ذریعہ ثابت ہو سکتی ہے۔

ماہرین اس بات پر بھی زور دیتے ہیں کہ نفرت، جلن اور حسد جیسے منفی جذبات انسان کی ذہنی اور جسمانی صحت کو نقصان پہنچاتے ہیں جبکہ محبت، خلوص اور ہمدردی جیسے مثبت جذبات معاشرے میں ہم آہنگی اور سکون کو فروغ دیتے ہیں۔

ان کے مطابق محبت ایک ایسی طاقت ہے جو برائیوں کو ختم کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اگر انسان اپنے رویے میں مثبت تبدیلی لائے اور دوسروں کے ساتھ محبت اور خلوص کا برتاؤ کرے تو نہ صرف اس کی اپنی زندگی بہتر ہو سکتی ہے بلکہ معاشرہ بھی زیادہ خوشگوار بن سکتا ہے۔