خوش رہیں اور مسکرائیں کیونکہ یہ مفت علاج ہے
Web Desk
7 March 2026
ہنسنا، مسکرانا اور خوش رہنا انسانی صحت کے لیے اتنا ہی ضروری ہے جتنا باقاعدہ ورزش کرنا اور متوازن غذا کا استعمال کرنا۔ اداسی، پریشانی اور مایوسی ایسے احساسات ہیں جو انسان کو ذہنی اور جذباتی طور پر کمزور کر دیتے ہیں اور زندگی میں آگے بڑھنے کی صلاحیت کو متاثر کرتے ہیں۔ یہ کیفیت انسان کو اندھیرے میں دھکیل دیتی ہے اور وہ مزید اضطراب کا شکار ہو جاتا ہے۔
ایسی حالت میں بہت سے لوگ ڈپریشن کا شکار ہو جاتے ہیں، منفی سوچ ان پر غالب آ جاتی ہے اور وہ خود سے دوری اختیار کرنے لگتے ہیں۔ چڑچڑا پن، موڈ میں بار بار تبدیلی اور خوش رہتے ہوئے بھی ناخوش دکھائی دینا ان کی روزمرہ زندگی کا حصہ بن جاتا ہے۔ بعض اوقات یہ کیفیت اتنی شدید ہو جاتی ہے کہ کچھ افراد خودکشی جیسے خطرناک خیالات تک پہنچ جاتے ہیں۔ اس لیے ماہرین کا کہنا ہے کہ انسان کو اپنی اچھی صحت کے لیے ہمیشہ خوش رہنے اور مسکرانے کی کوشش کرنی چاہیے۔
زندگی میں اتار چڑھاؤ آنا فطری امر ہے، تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ انسان مایوسی کو اپنی زندگی پر حاوی ہونے دے۔ مثبت سوچ اپنانا اور امید کو برقرار رکھنا خوشحال زندگی کے لیے ضروری ہے۔ امریکا کے ایک نفسیاتی ہسپتال کے سابق ڈائریکٹر کے مطابق ہنسنا انسان کو بہتر محسوس کراتا ہے اور لوگوں کو ایک دوسرے کے قریب لانے میں مدد دیتا ہے۔ یہاں تک کہ ڈپریشن میں مبتلا مریضوں کے لیے بھی ہنسی اور مسکراہٹ بہترین علاج ثابت ہو سکتی ہے۔
ہارورڈ میڈیکل اسکول کے شعبۂ سائیکاٹری کے ماہر نفسیات ڈاکٹر ڈیٹیلو کے مطابق کسی بیماری کا ہسپتال میں علاج بہت مہنگا ہو سکتا ہے، لیکن ہنسنے کے لیے کسی خرچ کی ضرورت نہیں ہوتی۔ یہ ایک ایسا قدرتی علاج ہے جس کے کوئی مضر اثرات نہیں ہوتے۔
سائنسی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ ہنسی ذہنی تناؤ اور اضطراب کو کم کرتی ہے۔ جسمانی طور پر یہ تناؤ کے ہارمونز کی سطح کم کرتی ہے جبکہ خوشی کے احساس سے متعلق ہارمونز جیسے ڈوپامائن اور سیروٹونن میں اضافہ ہوتا ہے۔
برازیل اور کینیڈا کے محققین نے 2020ء میں ہسپتال میں زیر علاج 1600 سے زائد بچوں اور کم عمر مریضوں پر تحقیق کی۔ ان بچوں میں بے چینی، درد، تناؤ اور کینسر جیسی بیماریوں کے مریض شامل تھے۔ تحقیق سے معلوم ہوا کہ جن بچوں کو علاج کے دوران خوشگوار ماحول فراہم کیا گیا ان کی نفسیاتی حالت بہتر ہوئی اور وہ نسبتاً جلد صحت یاب ہونے لگے۔
ماہرین کے مطابق ہنسنا نہ صرف یادداشت کو بہتر بناتا ہے بلکہ قوتِ مدافعت کو بھی مضبوط کرتا ہے، جس سے جسم دل کی بیماریوں سمیت دیگر امراض کے خلاف بہتر انداز میں مقابلہ کر سکتا ہے۔ اس کے علاوہ مسکراہٹ شخصیت کو بھی زیادہ پُرکشش بناتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ چہرے پر مسکراہٹ دوسروں کے لیے مثبت پیغام ہوتی ہے جبکہ غصہ، ماتھے پر بل ڈالنا اور ناگواری کے تاثرات لوگوں کو آپ سے دور کر دیتے ہیں۔ اس لیے پُرکشش اور مثبت شخصیت کے خواہش مند افراد کے لیے مسکراہٹ ایک طاقتور ذریعہ ثابت ہو سکتی ہے۔
ماہرین اس بات پر بھی زور دیتے ہیں کہ نفرت، جلن اور حسد جیسے منفی جذبات انسان کی ذہنی اور جسمانی صحت کو نقصان پہنچاتے ہیں جبکہ محبت، خلوص اور ہمدردی جیسے مثبت جذبات معاشرے میں ہم آہنگی اور سکون کو فروغ دیتے ہیں۔
ان کے مطابق محبت ایک ایسی طاقت ہے جو برائیوں کو ختم کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اگر انسان اپنے رویے میں مثبت تبدیلی لائے اور دوسروں کے ساتھ محبت اور خلوص کا برتاؤ کرے تو نہ صرف اس کی اپنی زندگی بہتر ہو سکتی ہے بلکہ معاشرہ بھی زیادہ خوشگوار بن سکتا ہے۔
متعلقہ عنوانات
ادویات کنٹینرز روکنے کی خبر پر محسن نقوی کا نوٹس، فوری ریلیز کا حکم
17 September 2026
پمز ہسپتال کی آتشزدگی میں زندہ بچ جانے والی نومولود بچی انتقال کر گئی
17 September 2026
جی ایل پی-1 ادویات استعمال کرنے والوں میں نایاب بیماری کا انکشاف
17 September 2026
خیبر پختونخوا صحت پروگرام میں سی سیکشن کی شرح 47 فیصد سے تجاوز کرگئی
17 September 2026
وزیراعظم کی 3 ماہ میں پمز ہسپتال میں فائر سیفٹی سمیت نظام بہتر کرنے کی ہدایت
16 September 2026
ملک بھر میں 20 ستمبر کو ایم ڈی کیٹ کا انعقاد: 1 لاکھ 38 ہزار سے زائد طلبہ امتحان دیں گے، وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال
16 September 2026
حالتِ سکون میں پاؤں کی ہڈیوں میں درد دل کی خطرناک بیماری کی علامت، ماہرین
16 September 2026
سانحہ پمز؛ 14 نومولود کیوں نہیں بچائے جا سکے؟ انکوائری رپورٹ میں انکشافات
15 September 2026