LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
سیکرٹری خارجہ آمنہ بلوچ سبکدوش، ترکیہ میں نئی سفارتی ذمہ داری سنبھالیں گی پٹرول کی قیمت میں معمولی کمی، ہائی سپیڈ ڈیزل مزید مہنگا وزیراعظم شہباز شریف کا ملک گیر سادگی و کفایت شعاری مہم کا اعلان حوثیوں کا سعودی عرب پر ڈرون حملہ، ایک شہری جاں بحق، پاکستانی سمیت 2 زخمی قیصر احمد شیخ کی نٹالی بیکر سے ملاقات، پاک امریکا اقتصادی و تجارتی تعاون بڑھانے پر زور امریکی ایوان نمائندگان نے ایران اور روس پر پابندیوں کا بل منظور کرلیا عراقچی کا ترک ہم منصب سے ٹیلی فونک رابطہ، علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال دفتر خارجہ میں دستاویزات کی تصدیق کی رپورٹ، ڈی جی آڈٹ عہدے سے ہٹا دیئے گئے ادویات کنٹینرز روکنے کی خبر پر محسن نقوی کا نوٹس، فوری ریلیز کا حکم چین کے ساتھ مذاکرات کامیاب، آج کے فیصلے خطے کے مستقبل کا تعین کرینگے: عراقچی نئی کفایت شعاری مہم، سرکاری فیول میں 50 فیصد کٹوتی، غیرملکی دوروں، خریداری پر پابندی پی ٹی آئی سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ کو حراست میں لے لیا گیا پنجاب نے کسی کا حق نہیں کھایا، اپنے حصے سے دوسروں کو دیا: وزیراعلیٰ مریم نواز تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان کا سربراہی اجلاس کل اسلام آباد میں طلب، لانگ مارچ پر مشاورت ہو گی اقوام متحدہ کی تحقیقات، ایران میں امریکی حملوں پر جنگی جرائم کے شواہد کا دعویٰ کردیا

بِنج ایٹنگ ڈس آرڈر میں مبتلا افراد کی مدد کیلئے اہم اقدام!

Web Desk

17 April 2026

یونیورسٹی کالج لندن اور کنگز کالج لندن کی ایک حالیہ تحقیق میں یہ انکشاف ہوا ہے کہ ریستورانوں کے مینو پر کیلوریز کا اندراج ‘بنج ایٹنگ ڈس آرڈر’ (حد سے زیادہ کھانے کی عادت) میں مبتلا افراد کے لیے انتہائی مفید ثابت ہو سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق، یہ اقدام نہ صرف ایسے افراد کو کھانے کے بہتر انتخاب میں مدد دیتا ہے بلکہ ان کی طبی بحالی (Recovery) کے عمل میں بھی معاون ثابت ہوتا ہے۔

انگلینڈ میں 2022 سے نافذ العمل قانون کے تحت بڑے ریستورانوں اور کیفے کے لیے مینو پر کیلوریز لکھنا لازمی ہے تاکہ موٹاپے پر قابو پایا جا سکے۔ اگرچہ کھانے پینے کے مختلف امراض (Eating Disorders) میں مبتلا افراد عموماً کیلوریز دیکھ کر بہت کم کھانے کا انتخاب کرنے لگتے ہیں، لیکن ‘بنج ایٹنگ’ کے مریضوں کے لیے یہ معلومات ایک حفاظتی رکاوٹ کا کام کرتی ہیں۔ ڈاکٹر نورا ٹرومپیٹر کے مطابق، یہ لیبلز ایسے افراد کو اپنی خوراک کی مقدار کو مانیٹر کرنے اور بے ہنگم کھانے کی لہر کو روکنے میں مدد فراہم کرتے ہیں۔

تحقیق یہ بھی بتاتی ہے کہ اگرچہ کیلوری لیبلنگ کے حوالے سے مختلف مریضوں کی آراء مختلف ہو سکتی ہیں، لیکن بنج ایٹنگ ڈس آرڈر کے شکار افراد اسے ایک مثبت ٹول کے طور پر دیکھتے ہیں۔ یہ شفافیت انہیں سماجی ماحول میں کھانا کھاتے وقت کم تناؤ کا شکار ہونے اور اپنی صحت کے اہداف کے مطابق بہتر فیصلے کرنے میں مدد دیتی ہے۔