LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ہر طرف بدانتظامی، اس سال برآمدات میں 7 ارب ڈالر کا نقصان ہوگا: ایس ایم تنویر عوام کے لیے بڑی خوشخبری: لائٹ ڈیزل 70 روپے اور جیٹ فیول 23 روپے سے زائد سستا وزیراعظم شہباز شریف سہ ملکی دورہ مکمل کرکے انطالیہ سے پاکستان روانہ فیلڈ مارشل کا دورہ ایران مکمل، خطے میں امن، استحکام اور خوشحالی کیلئے مشترکہ اقدامات پر اتفاق صدر اور وزیراعظم کا عالمی یوم ورثہ پر پاکستان کی ثقافتی شناخت کے تحفظ کا عہد پاکستان، سعودیہ، مصر اور ترکیہ کا اجلاس، ثالثی کوششوں کا خیرمقدم، مستقل امن کی توقعات پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں گریجوایٹ کورس کی پروقار پاسنگ آؤٹ تقریب اسلام آباد اور خیبرپختونخوا میں زلزلے کے جھٹکے، شدت 5.5 ریکارڈ امریکا نے روسی تیل کی خرید و فروخت پر پابندیاں مزید ایک مہینے کیلئے ہٹا دیں کراچی سے پہلی حج پرواز 160 عازمین کے ساتھ حجازِ مقدس روانہ ایران، امریکا اختلافات برقرار، جنگ بندی میں توسیع اور ابتدائی ڈیل کی امید آبنائے ہرمز کی بحالی : پاسدارانِ انقلاب کی جہازوں کے لیے نئی شرائط پاکستان اور ارجنٹائن فٹبال ٹیموں کے درمیان فرینڈلی میچ کی تیاریاں وزیراعظم نے ڈیزل کی قیمت میں 32روپے12پیسے فی لٹرکمی کی منظوری دے دی ایران کا آبنائے ہرمزمکمل طورپر کھولنے کا اعلان ، وزیر خارجہ عراقچی کابڑا اعلان

وزیراعظم شہباز شریف سہ ملکی دورہ مکمل کرکے انطالیہ سے پاکستان روانہ

Web Desk

18 April 2026

وزیراعظم محمد شہباز شریف اپنا انتہائی اہم اور مصروف سہ ملکی دورہ مکمل کرکے ترکیہ کے شہر انطالیہ سے پاکستان کے لیے روانہ ہو گئے ہیں۔ انطالیہ ایئرپورٹ پر ترکیہ کی وزارت خارجہ کے اعلیٰ حکام اور پاکستانی سفیر ڈاکٹر یوسف جنید نے وزیراعظم اور ان کے وفد کو رخصت کیا۔

یہ تین روزہ دورہ سعودی عرب، قطر اور ترکیہ پر مشتمل تھا، جس کا مقصد برادر ممالک کے ساتھ معاشی تعلقات کی مضبوطی اور خطے میں امن کے قیام کے لیے مشترکہ حکمت عملی وضع کرنا تھا۔ وزیراعظم نے انطالیہ ڈپلومیسی فورم کے موقع پر ترک صدر رجب طیب اردوان سمیت کئی عالمی رہنماؤں سے ملاقاتیں کیں، جہاں پاکستان کے موقف کو بھرپور انداز میں پیش کیا گیا۔

نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اس دورے کو “نہایت نتیجہ خیز” قرار دیتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب اور قطر کے ساتھ مختلف شعبوں میں تعاون کے لیے بامقصد مذاکرات ہوئے ہیں۔ انہوں نے انطالیہ ڈپلومیسی فورم کی کامیابی کو سراہتے ہوئے اسے عالمی امن اور استحکام کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم قرار دیا۔