LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
2سال میں پیٹرولیم لیوی سے 2 ہزار 725 ارب وصول، رقم آئی ایم ایف کے 2 قرض پروگراموں سے بھی زیادہ نکلی پاکستان کی پہلی شیڈو پالیسی دستاویزات جاری، نجی شعبے کی ترقی پر زور فیلڈ مارشل نے مذاکرات نتیجہ خیز بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا: امریکی ٹی وی اسلام آباد: وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب سے برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ کی ملاقات پاکستان اور چین کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کی 15 دستاویزات پر دستخط امریکا کے ساتھ فریم ورک پر پہنچ گئے، وفد ابھی پاکستان بھیجنے کا ارادہ نہیں: ایران پاکستان اور چین کا قومی مفادات پر ایک دوسرے کی مکمل حمایت کا اعلان ٹانک: چیسن کچ میں دہشت گردی، نامعلوم افراد نے مڈل اسکول اور بنیادی ہیلتھ مرکز (BHU) کو دھماکے سے اڑا دیا وزیر مذہبی امور کی سعودی ہم منصب سے ملاقات، حج سے متعلق امور پر گفتگو وزیراعظم کو عوامی ہال میں چینی ہم منصب کا پرتپاک استقبالیہ، گارڈ آف آنر پیش پاکستانی نژاد برطانوی باکسر حمزہ شیراز عالمی چیمپئن بن گئے سٹاک مارکیٹ میں زبردست تیزی، انڈیکس ایک لاکھ 71 ہزار پوائنٹس کی حد پر بحال عوامی ٹرانسپورٹ میں اوورچارجنگ، اوورلوڈنگ کیخلاف سخت کارروائی کا حکم امریکا،ایران معاہدے کو حتمی شکل دینے میں چند دن لگ سکتے ہیں: امریکی میڈیا سوات ایکسپریس وے پر وین کی بس کو ٹکر، 11 افراد جاں بحق، 7 زخمی

پھینکے گئے آلو جلد سنوارنے کا خزانہ بن گئے ، سائنسدانوں کی حیران کن دریافت

Web Desk

1 December 2025

سائنس اور صحت کی دنیا میں آلو ایک نئی بحث چھیڑ چکے ہیں۔ اس بار یہ نہ کھانوں کے ذائقے کا حصہ ہیں، نہ ڈائیٹ پلان کی توجہ، بلکہ حیران کن طور پر جدید تحقیق نے انہیں بیوٹی انڈسٹری کا ممکنہ ’’انقلابی جز‘‘ قرار دے دیا ہے۔

اسکاٹ لینڈ کی یونیورسٹی آف ابردین کے سائنسدانوں نے دریافت کیا ہے کہ آلو کے وہ پتے اور ٹہنیاں جو فصل کی کٹائی کے بعد عام طور پر پھینک دی جاتی ہیں، قیمتی اسکن کیئر انگریڈیئنٹس میں تبدیل ہوسکتی ہیں۔ ان حصوں میں سولانیسول نامی کمپاؤنڈ پایا جاتا ہے، جو اینٹی ایجنگ اور موئسچرائزنگ پروڈکٹس میں استعمال ہونے والے Coenzyme Q10 اور Vitamin K2 جیسی مصنوعات کا بنیادی جز ہے۔

اب تک سولانیسول کا بڑا ذریعہ تمباکو تھا، لیکن نئی تحقیق کہتی ہے کہ آلو اس کا زیادہ محفوظ، کم خرچ اور ماحول دوست متبادل ثابت ہوسکتے ہیں۔ صرف اسکاٹ لینڈ میں آلو کے بیجوں کی سالانہ کاشت 12,800 ہیکٹر سے زائد رقبے پر ہوتی ہے، اور اسی فضلے کو استعمال کرلیا جائے تو یہ بیوٹی انڈسٹری کے لیے ’’گیم چینجر‘‘ بن سکتا ہے۔

پراجیکٹ لیڈ سوفیا الیکسیو نے اسے ’’آلو کی صنعت کا اہم سنگ میل‘‘ قرار دیا، جبکہ پروفیسر ہیذر ولسن کے مطابق یہ ریسرچ بہترین مثال ہے کہ کس طرح ’’زرعی فضلہ سونے میں بدلا جاسکتا ہے‘‘ اور دیہی معیشت کو بھی فائدہ پہنچ سکتا ہے۔

ٹک ٹاک پر آلو کا بیوٹی ٹرینڈ:

دلچسپ بات یہ ہے کہ سوشل میڈیا  خصوصاً ٹک ٹاک پر  لوگ آلو کو پہلے ہی اسکن ٹریٹمنٹ کے طور پر آزما رہے ہیں۔
کوئی آنکھوں کے نیچے ڈارک سرکلز کم کرنے کے لیے آلو کے ٹکڑے رکھتا ہے، کوئی اسے پمپل پیچ کے طور پر استعمال کرتا ہے، جبکہ کچھ صارفین آلو رگڑ کر چہرے کے داغ دھبے کم کرنے کے دعوے کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

ایک صارف نے ویڈیو میں کہا، ’’آلو آنکھوں کے نیچے کنسیلر کی طرح کام کرتا ہے!‘‘ جبکہ دوسرے صارف کا دعویٰ تھا کہ ’’اس سے ڈارک سرکلز اور اسکارنگ فوراً کم ہوتی ہے۔‘‘

غذائیت کے ماہرین کے مطابق آلو  خاص طور پر شکر قندی  میں موجود بیٹا کیروٹین اور لائکوپین جلد کی چمک بڑھانے اور سورج کی شعاعوں سے قدرتی تحفظ فراہم کرنے میں کردار ادا کرتے ہیں۔

ممکن ہے مستقبل میں جھریاں کم کرنے والے سیرم، ڈارک سرکلز ختم کرنے والی کریم اور چمک بڑھانے والے ماسک  سب کچھ آلو سے تیار ہو۔
یوں محسوس ہوتا ہے کہ ’’فارم ٹو فیس‘‘ کا نیا دور شروع ہونے والا ہے، اور اس میں آلو مرکزی کردار نبھانے کے لیے بالکل تیار ہے۔