LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ٹرمپ نے جنگ بندی میں توسیع صرف3سے 5روزکےلیے کی، جلد ڈیل چاہتےہیں، امریکی میڈیا اگلے 36سے 72گھنٹوں میں پاکستان میں امریکا ایران مذاکرات ممکن ہیں،ٹرمپ سفارتی میدان میں ہونے والی پیش رفت پر نظررکھے ہوئے ہیں، ایرانی وزارت خارجہ آبنائے ہرمزکے قریب 3بحری جہازوں پر فائرنگ، 2جہازایرانی تحویل میں وزیرِ اعظم شہباز شریف سے ایرانی سفیر کی ملاقات: علاقائی امن اور دوطرفہ تعاون پر اہم گفتگو برطانیہ کی امریکہ ایران مذاکرات میں پاکستان کے ثالثی کردار کی حمایت، اسحاق ڈار اور برطانوی ہائی کمشنر کی ملاقات حکومت اور آئی ایم ایف میں نئی آٹو پالیسی پر اتفاق، ڈیوٹیز میں کمی کا فیصلہ پہلگام واقعہ کے ایک سال بعد بھی بھارت شواہد پیش نہ کر سکا: عطاء اللہ تارڑ ایران جنگ کی مخالفت: ایرانی نژاد امریکی رکن کانگریس یاسمین انصاری کو دھمکیاں زمین کے قدرتی وسائل انسانی زندگی کی بقا کیلئے ناگزیر ہیں: وزیراعظم جنگ کیلئے تیار، جنگ بندی کے دوران صلاحیتیں مزید بہتر بنا رہے ہیں: سینٹ کام ایران سے حقائق پر بات کرنے کے بجائے اسے ٹرخایا گیا، دھمکیاں بھی دی گئیں: روس اقوام متحدہ کا جنگ بندی میں توسیع کا خیر مقدم، پاکستانی کوششوں کی مکمل حمایت امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا دورہ پاکستان منسوخ، وائٹ ہاؤس نے تصدیق کردی ایران نے مذاکرات کے حوالے سے امریکہ کی  شرائط مسترد کردیں: ایرانی سرکاری میڈیا

پھینکے گئے آلو جلد سنوارنے کا خزانہ بن گئے ، سائنسدانوں کی حیران کن دریافت

Web Desk

1 December 2025

سائنس اور صحت کی دنیا میں آلو ایک نئی بحث چھیڑ چکے ہیں۔ اس بار یہ نہ کھانوں کے ذائقے کا حصہ ہیں، نہ ڈائیٹ پلان کی توجہ، بلکہ حیران کن طور پر جدید تحقیق نے انہیں بیوٹی انڈسٹری کا ممکنہ ’’انقلابی جز‘‘ قرار دے دیا ہے۔

اسکاٹ لینڈ کی یونیورسٹی آف ابردین کے سائنسدانوں نے دریافت کیا ہے کہ آلو کے وہ پتے اور ٹہنیاں جو فصل کی کٹائی کے بعد عام طور پر پھینک دی جاتی ہیں، قیمتی اسکن کیئر انگریڈیئنٹس میں تبدیل ہوسکتی ہیں۔ ان حصوں میں سولانیسول نامی کمپاؤنڈ پایا جاتا ہے، جو اینٹی ایجنگ اور موئسچرائزنگ پروڈکٹس میں استعمال ہونے والے Coenzyme Q10 اور Vitamin K2 جیسی مصنوعات کا بنیادی جز ہے۔

اب تک سولانیسول کا بڑا ذریعہ تمباکو تھا، لیکن نئی تحقیق کہتی ہے کہ آلو اس کا زیادہ محفوظ، کم خرچ اور ماحول دوست متبادل ثابت ہوسکتے ہیں۔ صرف اسکاٹ لینڈ میں آلو کے بیجوں کی سالانہ کاشت 12,800 ہیکٹر سے زائد رقبے پر ہوتی ہے، اور اسی فضلے کو استعمال کرلیا جائے تو یہ بیوٹی انڈسٹری کے لیے ’’گیم چینجر‘‘ بن سکتا ہے۔

پراجیکٹ لیڈ سوفیا الیکسیو نے اسے ’’آلو کی صنعت کا اہم سنگ میل‘‘ قرار دیا، جبکہ پروفیسر ہیذر ولسن کے مطابق یہ ریسرچ بہترین مثال ہے کہ کس طرح ’’زرعی فضلہ سونے میں بدلا جاسکتا ہے‘‘ اور دیہی معیشت کو بھی فائدہ پہنچ سکتا ہے۔

ٹک ٹاک پر آلو کا بیوٹی ٹرینڈ:

دلچسپ بات یہ ہے کہ سوشل میڈیا  خصوصاً ٹک ٹاک پر  لوگ آلو کو پہلے ہی اسکن ٹریٹمنٹ کے طور پر آزما رہے ہیں۔
کوئی آنکھوں کے نیچے ڈارک سرکلز کم کرنے کے لیے آلو کے ٹکڑے رکھتا ہے، کوئی اسے پمپل پیچ کے طور پر استعمال کرتا ہے، جبکہ کچھ صارفین آلو رگڑ کر چہرے کے داغ دھبے کم کرنے کے دعوے کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

ایک صارف نے ویڈیو میں کہا، ’’آلو آنکھوں کے نیچے کنسیلر کی طرح کام کرتا ہے!‘‘ جبکہ دوسرے صارف کا دعویٰ تھا کہ ’’اس سے ڈارک سرکلز اور اسکارنگ فوراً کم ہوتی ہے۔‘‘

غذائیت کے ماہرین کے مطابق آلو  خاص طور پر شکر قندی  میں موجود بیٹا کیروٹین اور لائکوپین جلد کی چمک بڑھانے اور سورج کی شعاعوں سے قدرتی تحفظ فراہم کرنے میں کردار ادا کرتے ہیں۔

ممکن ہے مستقبل میں جھریاں کم کرنے والے سیرم، ڈارک سرکلز ختم کرنے والی کریم اور چمک بڑھانے والے ماسک  سب کچھ آلو سے تیار ہو۔
یوں محسوس ہوتا ہے کہ ’’فارم ٹو فیس‘‘ کا نیا دور شروع ہونے والا ہے، اور اس میں آلو مرکزی کردار نبھانے کے لیے بالکل تیار ہے۔