LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
قطر کی عراق کے نیم خودمختار کردستان خطے پر ایرانی حملوں کی شدید مذمت ایران کا امریکا پر ایک اور ’’کھلی جنگی جارحیت‘‘ کا الزام ایران کیخلاف بحری ناکہ بندی: 3 روز میں 4 تجارتی جہازوں کا رخ موڑ دیا: سینٹ کام ایران کا امریکی بحری جہاز پر حملہ، بحرین میں امریکی ڈرونز کے ڈپو کو نشانہ بنانے کا دعویٰ ایران کے مختلف شہروں میں دھماکے، خارگ جزیرے کے قریب آئل ٹینکر پر بھی حملہ: ایرانی میڈیا امریکا نے ایران میں مزید حملے کیے تو جنگ کا رخ بدل سکتا ہے، مشیر ایرانی سپریم لیڈر ایرانی سپریم لیڈر کے ہر حکم پر عمل کریں گے؛ حوثی کمانڈر کا دوٹوک اعلان ناروے میں خوفناک آتشزدگی، 100 سے زائد گھر جل گئے ایرانی فوجی صلاحیتیں کمزور کرنے کا مشن، امریکا کے مسلسل ساتویں رات ایران پر حملے حکومت بلوچستان اور دھرنا کمیٹی کے مذاکرات کامیاب، تحریری معاہدہ طے پا گیا ایرانی وزارت توانائی کی شہریوں سے بجلی کا استعمال کم کرنے کی اپیل 27 جولائی کو جب کشمیر میں ڈبے کھلیں گے تو ہر طرف شیر ہی شیر ہوگا: مریم اورنگزیب خطے کے پانیوں میں امریکی فوج کی نقل و حرکت، انکے فوجی ساز و سامان پر نظر ہے: ایران فارما سیوٹیکل صنعت کو عالمی سطح پر نمایاں کرنے کا منصوبہ پیش کر دیا: مصطفیٰ کمال خلائی سائنسدانوں کے استعفوں کے بعد مودی سرکار پریشان، رضاکارانہ ریٹائرمنٹ اور استعفوں پر پابندی لگادی

ہائی آکٹین فیول پر لیوی میں بڑا اضافہ، امیر طبقہ اضافی بوجھ اٹھائے گا، وزیراعظم

Web Desk

22 March 2026

اسلام آباد: وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے ایک اہم فیصلے کے تحت امیر طبقے کی لگژری گاڑیوں میں استعمال ہونے والے ‘ہائی آکٹین فیول’ پر پیٹرولیم لیوی کو 100 روپے سے بڑھا کر 300 روپے فی لیٹر کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ ویڈیو لنک کے ذریعے منعقدہ اجلاس میں وزیرِ اعظم نے واضح کیا کہ اس اقدام کا مقصد معیشت پر بوجھ کم کرنا اور صاحبِ حیثیت طبقے سے ملکی وسائل کی بحالی میں زیادہ حصہ لینا ہے۔

حکومت کو اس فیصلے سے ماہانہ تقریباً 9 ارب روپے کی بچت متوقع ہے، جسے براہِ راست غریب اور متوسط طبقے کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ وزیرِ اعظم کا کہنا تھا کہ “امیر طبقہ ملکی معیشت میں اپنا حصہ ڈالے تاکہ بچت شدہ رقم کو عوامی فلاح و بہبود پر خرچ کیا جا سکے”۔

اجلاس کے دوران حکام نے وضاحت کی کہ اس فیصلے کا اثر عام گاڑیوں میں استعمال ہونے والے پیٹرول یا ڈیزل پر نہیں پڑے گا، اور نہ ہی اس سے پبلک ٹرانسپورٹ یا ہوائی جہازوں کے کرایوں میں کوئی اضافہ ہوگا۔ اس اہم مشاورتی اجلاس میں وفاقی وزراء اعظم نذیر تارڑ، محمد اورنگزیب، عطاء اللہ تارڑ، علی پرویز ملک اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ یاد رہے کہ وزیرِ اعظم نے پہلے ہی ہائی آکٹین فیول پر لیوی ڈھانچے پر نظرثانی کی ہدایت جاری کر رکھی تھی۔