LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
حکومت بلوچستان اور دھرنا کمیٹی کے مذاکرات کامیاب، تحریری معاہدہ طے پا گیا ایرانی وزارت توانائی کی شہریوں سے بجلی کا استعمال کم کرنے کی اپیل 27 جولائی کو جب کشمیر میں ڈبے کھلیں گے تو ہر طرف شیر ہی شیر ہوگا: مریم اورنگزیب خطے کے پانیوں میں امریکی فوج کی نقل و حرکت، انکے فوجی ساز و سامان پر نظر ہے: ایران فارما سیوٹیکل صنعت کو عالمی سطح پر نمایاں کرنے کا منصوبہ پیش کر دیا: مصطفیٰ کمال خلائی سائنسدانوں کے استعفوں کے بعد مودی سرکار پریشان، رضاکارانہ ریٹائرمنٹ اور استعفوں پر پابندی لگادی پٹرولیم قیمتوں کی ڈی ریگولیشن مسترد، پٹرول پمپ مالکان کی ہڑتال کی دھمکی پاسدارانِ انقلاب کا قطر میں امریکی العدید ایئر بیس کو نشانہ بنانے کا دعویٰ عوام پر مہنگائی کا ایک اور بم: پٹرول 5 روپے 44 پیسے اور ڈیزل ریکارڈ 31 روپے 5 پیسے مہنگا ایرانی حملے میں بجلی اور ڈی سیلینیشن پلانٹ کو نقصان پہنچا: کویت امریکا نے غیرملکی طلبہ اور صحافیوں کے ویزا قوانین سخت کر دیے، قیام کی مدت مقرر پیٹرولیم مصنوعات:حکومتی اقدام کو “لوٹ مار” اور “ڈاکہ” قرار,حافظ نعیم الرحمان اوگرا روزانہ کی بنیاد پر پٹرولیم قیمتوں کا تعین کرے گی: وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری سے پورٹ قاسم کی ترقی کا نیا دور شروع ہوگا: معظم الیاس عام انتخابات 2026: آزاد کشمیر میں جدید رزلٹ مینجمنٹ سسٹم متعارف کرانے کی تیاری

وزیراعظم کی صدر مملکت سے ملاقات، مشرقی وسطیٰ سمیت اہم امور پر مشاورت

Web Desk

26 March 2026

اسلام آباد: ملک کی سیاسی و عسکری قیادت اہم قومی امور پر مشاورت کے لیے ایوانِ صدر میں سر جوڑ کر بیٹھ گئی ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف ایک اعلیٰ سطح کے وفد کے ہمراہ، جس میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، وزیرِ داخلہ محسن نقوی اور وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ شامل ہیں، ایوانِ صدر پہنچے جہاں صدرِ مملکت آصف علی زرداری کے ساتھ ان کی اہم ملاقات جاری ہے۔

ذرائع کے مطابق، وزیراعظم شہباز شریف صدرِ مملکت کو خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال اور پاکستان کی جانب سے جاری عالمی ثالثی کی کوششوں پر تفصیلی بریفنگ دے رہے ہیں۔ اس ملاقات میں پاکستان کی جانب سے ممکنہ بین الاقوامی مذاکرات کی میزبانی اور ملکی معاشی و سیاسی استحکام کے حوالے سے اہم امور زیرِ بحث ہیں۔

دوسری جانب، صدر آصف علی زرداری کی صدارت میں قومی قیادت کا ایک وسیع البنیاد اجلاس بھی طلب کر لیا گیا ہے، جس میں چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ، سیاسی قائدین اور اعلیٰ عسکری و سرکاری حکام شریک ہوں گے۔ اجلاس کے ایجنڈے میں وفاق اور صوبوں کے درمیان وسائل کی منصفانہ تقسیم، کفایت شعاری پالیسی، اور اخراجات میں کمی کے اقدامات شامل ہیں۔ توقع کی جا رہی ہے کہ قومی سلامتی اور معاشی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے اس اجلاس میں انتہائی اہم اور بڑے فیصلے کیے جائیں گے۔