LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پاکستان کا خطے میں کشیدگی پر اظہار تشویش، فریقین سے وعدوں کی پاسداری کی اپیل آبنائے ہرمز مکمل بند، جہازرانوں کو اگلے نوٹس تک سفر نہ کرنے کی ہدایت وزیراعظم شہباز شریف کی کل قطر روانگی متوقع بنگلادیش میں طوفانی بارشوں کے باعث 44 افراد ہلاک،متعدد لاپتہ جماعت اسلامی کا آزاد کشمیر میں قیام امن کیلئے گرینڈ جرگہ تشکیل دینے کا فیصلہ قطر نے سمندری سرگرمیاں غیر معینہ مدت تک معطل کر دیں، ایرانی حملوں کی شدید مذمت نائب وزیراعظم اسحاق ڈار سے سعودی سفیر نواف بن سعید المالکی کی ملاقات قطر میں سوگ کی فضا، سابق امیر شیخ حمد بن خلیفہ الثانی انتقال کر گئے امریکی حملوں کے ردعمل میں ایران کے خلیجی ممالک پر جوابی میزائل حملے، آبنائے ہرمز تاحکم ثانی بند ڈیرہ غازی خان: قبائلی علاقے میں 11 سالہ لڑکی مبینہ طور پر فروخت کر دی گئی امریکا میں تارکین وطن کے ’ورک پرمٹ‘ سے متعلق اہم خبر سامنے آگئی امریکی اہلکار عمان میں ایرانی حکام سے ذاتی حیثیت میں بات چیت میں شریک نہیں ہوں گے: روسی میڈیا امریکی صدر کی نائب صدر اور وزیرخارجہ کو عمان میں مذاکرات جاری رکھنے کی ہدایت ایران کے پاسداران انقلاب نے آبنائے ہرمز بند کردی: خبرایجنسی ایران کے مختلف شہروں میں دھماکوں کی آوازیں

امریکی محکمۂ جنگ نے انڈو پیسیفک کمانڈ کا نام دوبارہ پیسیفک کمانڈ رکھ دیا

Web Desk

17 June 2026

امریکی محکمۂ جنگ (پینٹاگون) نے ایک انتہائی اہم تزویراتی اور جغرافیائی سیاسی فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے امریکی انڈو پیسیفک کمانڈ (USINDOPACOM) کا نام باضابطہ طور پر تبدیل کر کے دوبارہ امریکی پیسیفک کمانڈ (USPACOM) رکھ دیا ہے۔

یہ کمانڈ پہلی بار یکم جنوری 1947 کو صدر ہیری ایس ٹرومین کے دورِ حکومت میں USPACOM کے نام سے ہی قائم کی گئی تھی، جو سات دہائیوں سے زائد عرصے تک اسی نام سے کام کرتی رہی۔ یہ امریکی فوج کی تمام مشترکہ جنگی کمانڈز میں سب سے قدیم اور رقبے و نفری کے لحاظ سے سب سے بڑی کمانڈ تصور کی جاتی ہے۔

محکمۂ جنگ کے مطابق، اس تاریخی نام کی بحالی کا بنیادی مقصد کمانڈ کی طویل عسکری روایات کو خراجِ تحسین پیش کرنا اور بحرالکاہل کے خطے میں خدمات انجام دینے والے اہلکاروں میں فخر، وابستگی اور مشترکہ شناخت کے احساس کو مزید مضبوط بنانا ہے۔ سرکاری بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ دوسری جنگِ عظیم کے بعد علاقائی سلامتی کے ڈھانچے کے قیام، کوریائی جنگ، ویتنام جنگ اور متعدد انسانی ہمدردی کی انسدادی کارروائیوں میں مشترکہ افواج کی قیادت اور ہم آہنگی کے باعث USPACOM کا نام کئی دہائیوں پر محیط عسکری ورثے اور مضبوط علاقائی شراکت داریوں کی علامت بن چکا ہے۔

پینٹاگون نے یہ نکتہ بھی واضح کیا ہے کہ نام کی اس تبدیلی کے باوجود کمانڈ کے آپریشنل دائرۂ کار (Area of Responsibility) میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی۔ اس کی تزویراتی ذمہ داری امریکہ کے مغربی ساحل سے ملحقہ سمندری علاقوں سے لے کر بھارت کی مغربی سرحد تک بدستور برقرار رہے گی، جبکہ علاقائی اتحادیوں اور شراکت داروں کے ساتھ مل کر ایک آزاد اور کھلے خطے کے تحفظ کا مشن بھی جاری رہے گا۔

واشنگٹن کی جانب سے امریکی پیسیفک کمانڈ کا پرانا نام بحال کرنے کے اس فیصلے پر دفاعی مبصرین نے گہرا تزویراتی تجزیہ پیش کیا ہے، جس کے اہم خدوخال درج ذیل ہیں:

 بین الاقوامی تجزیہ کار اس فیصلے کو جنوبی ایشیا سے متعلق امریکی اسٹریٹجک سوچ میں ایک بڑی تبدیلی کی علامت قرار دے رہے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ امریکہ اب خطے کو صرف بھارت کے یکطرفہ تناظر میں دیکھنے کے بجائے علاقائی طاقت کے توازن اور حقیقی زمینی حقائق کی بنیاد پر پرکھ رہا ہے۔گزشتہ برسوں میں بھارت کو انڈو پیسیفک حکمتِ عملی کے مرکزی ستون اور ایک ممکنہ “نیٹ سیکیورٹی پرووائیڈر” کے طور پر پیش کیا جاتا رہا۔ تاہم، پاکستان کے ساتھ بار بار پیدا ہونے والے فوجی و سیاسی بحرانوں نے واضح کیا کہ نئی دہلی نہ تو اپنے ایک ایٹمی ہمسایہ ملک پر اپنی سیاسی شرائط مسلط کر سکا اور نہ ہی بیرونی سفارتی مداخلت کے بغیر علاقائی کشیدگی پر مؤثر انداز میں قابو پانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ مبصرین کے مطابق، جو ریاست مسلسل ایسے بحرانوں کا باعث بنے جن کے حل کے لیے بین الاقوامی مداخلت درکار ہو، اس کے لیے بلاچیلنج علاقائی قیادت کا دعویٰ برقرار رکھنا ممکن نہیں رہتا۔ اس نام کی تبدیلی سے یہ تاثر ابھر رہا ہے کہ واشنگٹن اب چین کے ساتھ اپنی عالمی اسٹریٹجک مسابقت کو بھارت کی دوطرفہ محاذ آرائیوں سے الگ رکھنا چاہتا ہے۔ امریکہ کا یہ ابھرتا ہوا نقطۂ نظر زیادہ عملی (Pragmatic) ہے، جس کے تحت بھارت بدستور سمندری، تکنیکی اور اقتصادی تعاون کے بعض شعبوں میں شراکت دار تو رہے گا، مگر جنوبی ایشیا میں اسے حاصل غیر محدود اسٹریٹجک حیثیت اب ختم ہو جائے گی۔اس بدلتے ہوئے منظر نامے میں پاکستان کی تزویراتی اہمیت کو اس کے اہم ترین محلِ وقوع، مضبوط جوہری بازدار صلاحیت (Nuclear Deterrence)، اعلیٰ عسکری استعداد، مضبوط انٹیلی جنس نیٹ ورک، اور افغانستان، وسطی ایشیا و خلیجی ممالک تک آسان رسائی کے ساتھ ساتھ انسدادِ دہشت گردی میں اس کے کلیدی کردار سے جوڑا جا رہا ہے۔ بنیادی پیغام یہ ہے کہ امریکہ اب بھارت کا جائزہ اس کے بلند و بانگ دعوؤں کے بجائے عملی نتائج کی بنیاد پر لے رہا ہے، جبکہ پاکستان کو بتدریج ایک ایسے ناگزیر اسٹریٹجک شراکت دار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جس کی اہمیت اس کی صلاحیتوں اور حقیقی علاقائی اثر و رسوخ سے وابستہ ہے۔صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دورِ حکومت میں بھارت کی اسٹریٹجک حیثیت کو نظریاتی بنیادوں پر حد سے زیادہ فروغ دیا گیا تھا، جس کی سب سے بڑی علامت 2018 میں اسی پیسیفک کمانڈ کا نام تبدیل کرکے انڈو پیسیفک کمانڈ رکھنا تھا۔ تاہم، آٹھ برس بعد بدلتے ہوئے حالات اور تلخ علاقائی تجربات کے بعد، ٹرمپ کے موجودہ دوسرے دورِ حکومت میں امریکی توجہ محض امیدوں کے بجائے عملی کارکردگی اور قابلِ پیمائش نتائج (Measurable Results) پر مرکوز دکھائی دیتی ہے۔ پیسیفک کمانڈ کے نام کی یہ بحالی اسی بڑی تبدیلی کا مظہر ہے، جو خواہشات کے مقابلے میں زمینی حقائق کو زیادہ اہمیت دینے کی عکاسی کرتی ہے۔