LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
مکہ دفاعی معاہدے میں مزید ممالک میں بھی شامل ہوں گے: ترک صدر کیلیفورنیا اسٹیٹ اسمبلی میں پاک امریکا تعلقات کو خراج تحسین کی تاریخی قرارداد منظور امریکی ریاست ٹیکساس میں فوجی ہیلی کاپٹر گر کر تباہ، 2 افراد ہلاک آسٹریا: روسی دفاعی صنعت کو سامان کی فراہمی پر 2 بیلا روسی شہریوں کو سزا سنا دی گئی امریکہ میں جعلی شادیوں کے ذریعے امیگریشن فراڈ کا بڑا سکینڈل بے نقاب کیرولین لیویٹ رواں ماہ کے آخر میں عہدہ چھوڑ دیں گی، ٹرمپ امریکا کی جانب سے جوہری ہتھیار استعمال کرنےکی کوشش پر ایران کی سخت ردعمل کی دھمکی عراق نے اکتوبر تک غیر ملکی فوجیوں کی موجودگی ختم کرنےکا عزم ظاہر کر دیا ایران نے پاکستان کو اسلامی دنیا کا عظیم اثاثہ قرار دے دیا ایرانی عدالت نے اسرائیلی اور امریکی مفادات کیلئےکام کرنےکے الزام میں خاتون صحافی کو 15 سال قید کی سزا سنادی انقرہ میں ٹرمپ کے طیارے پر حملے کی سازش کی اسرائیلی رپورٹ جعلی ہے، ترک حکام امریکا کے وفاقی بجٹ خسارے میں ریکارڈ اضافہ کانگریس رکنِ الہان عمر نے مینیسوٹا سے ڈیموکریٹک پرائمری جیت لی بجلی صارفین پر اگلے 3 ماہ کیلئے 23 ارب روپے کا بوجھ ڈالنے کی تیاری مکمل پیپلزپارٹی نے آزادکشمیر کے الیکشن کو متنازعہ بنانے کی کوشش کی: طارق فضل چودھری

اس نے خوشبو کی طرح میری پذیرائی کی، پروین شاکر کی 73 ویں سالگرہ آج منائی جارہی ہے

Web Desk

24 November 2025

کراچی: خوشبو کی شاعرہ پروین شاکر کے مداح آج ان کی 73 ویں سالگرہ منارہے ہیں۔ 24 نومبر 1952ء کو کراچی میں پیدا ہونے والی پروین شاکر نے ابتدائی تعلیم گھر پر حاصل کی اور بعد میں رضیہ گرلز ہائی اسکول و سرسید گرلز کالج سے انگلش لٹریچر میں اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔

انہوں نے کراچی یونیورسٹی سے ایم اے انگلش اور لسانیات میں ڈگریاں حاصل کیں اور بعد میں ہارورڈ یونیورسٹی سے پبلک ایڈمنسٹریشن میں ماسٹرز کیا۔ تعلیمی سلسلہ مکمل ہونے کے بعد پروین شاکر نے درس و تدریس کے شعبے میں خدمات انجام دیں اور بعد ازاں سول سروسز میں شامل ہوئیں۔

ان کی پہلی کتاب’’ خوشبو‘‘ کو 1976 میں آدم جی ایوارڈ اور پرائیڈ آف پرفارمنس سے نوازا گیا۔ اس کے علاوہ بھی متعدد اعزازات و اسناد سے نوازا گیا۔

پروین شاکر کی شاعری خوشبو کی طرح لوگوں کے ذہنوں میں بسی ہوئی ہے۔ ان کے پانچ شعری مجموعے خوشبو، صد برگ، خود کلامی، انکار اور کف آئینہ شائع ہوئے اور کلیات “ماہ تمام” کے نام سے شائع ہوا۔ان کی شاعری عشق اور محبت کی منفرد کیفیت کو اجاگر کرتی ہے اور آج بھی اردو ادب میں اپنی مثال آپ ہے۔

دسمبر 1994 میں ایک ٹریفک حادثے میں انتقال کرنے والی پروین شاکر نے مختصر زندگی میں اردو ادب کے لیے ایک لازوال خزانہ چھوڑا، جو موجودہ اور آنے والی نسلوں کے لیے ہمیشہ یادگار رہے گا۔