LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
اورنج ٹرین، سپیڈو اور میٹرو بسوں میں ٹوکن اور کارڈ سسٹم ختم میرپور والو! سچ، انصاف اور امن کے لیے 27 جولائی کو تیر پر مہر لگائیں: بلاول بھٹو زرداری امریکا نے حملے روکے تو ہم نے بھی جوابی کارروائیاں معطل کر دیں: ایرانی فوج میرپور آزاد کشمیر ڈویژن کے تین اضلاع کے 13 حلقوں میں انتخابات کل ہونگے آبنائے ہرمز پر عمان کے ساتھ اہم پیشرفت، تکنیکی و سیاسی مشاورت جاری ہے: ایران بنگلادیشی صدر محمد شہاب الدین اپنے عہدے سے مستعفی ہوگئے جیفری ایپسٹین کے نام ٹرمپ کا فحش خط منظرعام پر لانیوالے صحافیوں کیلئے ایوارڈ کا اعلان ٹرمپ کا بڑا اعلان، تیسری بار صدر بننے کی خواہش ظاہر کر دی 18 ارب ڈالر کا تیل فروخت کر چکے، ایران کا دعویٰ یوکرین نے بحیرہ کیسپیئن میں ایرانی تجارتی جہاز پر حملہ کر دیا روس کے جوہری دفاع نظام کا بحری حصہ مزید طاقتور بن رہا ہے: پوتن سعودی امریکا جوہری معاہدے میں اسرائیل سے تعلقات کی شرط کی تردید دریائے سندھ میں کالاباغ، چشمہ اور تونسہ کے مقام پر نچلے درجے کا سیلاب ملک عمران خلیل پی ٹی آئی برطانیہ اور آصف بٹ نارتھ ویسٹ کے صدر منتخب وزیراعظم کا جنوبی وزیرستان میں دہشتگردوں کا حملہ ناکام بنانے پر فورسز کو خراجِ تحسین

اس نے خوشبو کی طرح میری پذیرائی کی، پروین شاکر کی 73 ویں سالگرہ آج منائی جارہی ہے

Web Desk

24 November 2025

کراچی: خوشبو کی شاعرہ پروین شاکر کے مداح آج ان کی 73 ویں سالگرہ منارہے ہیں۔ 24 نومبر 1952ء کو کراچی میں پیدا ہونے والی پروین شاکر نے ابتدائی تعلیم گھر پر حاصل کی اور بعد میں رضیہ گرلز ہائی اسکول و سرسید گرلز کالج سے انگلش لٹریچر میں اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔

انہوں نے کراچی یونیورسٹی سے ایم اے انگلش اور لسانیات میں ڈگریاں حاصل کیں اور بعد میں ہارورڈ یونیورسٹی سے پبلک ایڈمنسٹریشن میں ماسٹرز کیا۔ تعلیمی سلسلہ مکمل ہونے کے بعد پروین شاکر نے درس و تدریس کے شعبے میں خدمات انجام دیں اور بعد ازاں سول سروسز میں شامل ہوئیں۔

ان کی پہلی کتاب’’ خوشبو‘‘ کو 1976 میں آدم جی ایوارڈ اور پرائیڈ آف پرفارمنس سے نوازا گیا۔ اس کے علاوہ بھی متعدد اعزازات و اسناد سے نوازا گیا۔

پروین شاکر کی شاعری خوشبو کی طرح لوگوں کے ذہنوں میں بسی ہوئی ہے۔ ان کے پانچ شعری مجموعے خوشبو، صد برگ، خود کلامی، انکار اور کف آئینہ شائع ہوئے اور کلیات “ماہ تمام” کے نام سے شائع ہوا۔ان کی شاعری عشق اور محبت کی منفرد کیفیت کو اجاگر کرتی ہے اور آج بھی اردو ادب میں اپنی مثال آپ ہے۔

دسمبر 1994 میں ایک ٹریفک حادثے میں انتقال کرنے والی پروین شاکر نے مختصر زندگی میں اردو ادب کے لیے ایک لازوال خزانہ چھوڑا، جو موجودہ اور آنے والی نسلوں کے لیے ہمیشہ یادگار رہے گا۔