LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
جسے مردِ آہن بنا کر پیش کیا گیا، آج اسی کی جماعت ہسپتال منتقلی کی فریاد کر رہی: وزیر دفاع آن لائن فراڈ کیس: 284 غیر ملکیوں کی حراست کیلئے نجی پلازہ دوبارہ سب جیل قرار حکومت اور اپوزیشن میں معقول دوریاں ہونی چاہئیں، مخالفت برائے مخالفت نہیں: مولانا فضل الرحمان وزیراعظم شہباز شریف نے گوگل کے پاکستان آفس کا افتتاح کر دیا سپریم کورٹ کا بانی کے علاج سے متعلق تحریری فیصلہ جاری، میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کا حکم ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کو ’نیا امریکی علاقہ‘ قرار دے دیا، ایران کا شدید ردعمل پاکستان سٹاک مارکیٹ میں شدید مندی، کاروبار کا منفی رجحان رہا پاکستان اور روس کے درمیان کلیدی شعبوں میں تعاون اور رابطے جاری رکھنے پر اتفاق سپریم کورٹ کا فیصلہ شاندار اور تاریخی، سیاسی بے چینی ختم ہوگی: شیخ رشید عدالتی حکم پر مکمل عمل، بانی کی صحت پر سیاست نہیں کریں گے: پی ٹی آئی اسرائیل اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کو سبوتاژ کر رہا ہے: عباس عراقچی دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاکستانی قوم نے 90 ہزار جانوں کی قربانیاں دیں، عطا تارڑ پیٹرول مزید مہنگا ہونے پر جماعت اسلامی کی کل ملک گیر ہڑتال کی دھمکی پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کیلئے حلقہ بندیاں مکمل، ریکارڈ الیکشن کمیشن کو ارسال سپریم کورٹ کا عمران خان کو شفا ہسپتال منتقل کرنے کا حکم

اس نے خوشبو کی طرح میری پذیرائی کی، پروین شاکر کی 73 ویں سالگرہ آج منائی جارہی ہے

Web Desk

24 November 2025

کراچی: خوشبو کی شاعرہ پروین شاکر کے مداح آج ان کی 73 ویں سالگرہ منارہے ہیں۔ 24 نومبر 1952ء کو کراچی میں پیدا ہونے والی پروین شاکر نے ابتدائی تعلیم گھر پر حاصل کی اور بعد میں رضیہ گرلز ہائی اسکول و سرسید گرلز کالج سے انگلش لٹریچر میں اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔

انہوں نے کراچی یونیورسٹی سے ایم اے انگلش اور لسانیات میں ڈگریاں حاصل کیں اور بعد میں ہارورڈ یونیورسٹی سے پبلک ایڈمنسٹریشن میں ماسٹرز کیا۔ تعلیمی سلسلہ مکمل ہونے کے بعد پروین شاکر نے درس و تدریس کے شعبے میں خدمات انجام دیں اور بعد ازاں سول سروسز میں شامل ہوئیں۔

ان کی پہلی کتاب’’ خوشبو‘‘ کو 1976 میں آدم جی ایوارڈ اور پرائیڈ آف پرفارمنس سے نوازا گیا۔ اس کے علاوہ بھی متعدد اعزازات و اسناد سے نوازا گیا۔

پروین شاکر کی شاعری خوشبو کی طرح لوگوں کے ذہنوں میں بسی ہوئی ہے۔ ان کے پانچ شعری مجموعے خوشبو، صد برگ، خود کلامی، انکار اور کف آئینہ شائع ہوئے اور کلیات “ماہ تمام” کے نام سے شائع ہوا۔ان کی شاعری عشق اور محبت کی منفرد کیفیت کو اجاگر کرتی ہے اور آج بھی اردو ادب میں اپنی مثال آپ ہے۔

دسمبر 1994 میں ایک ٹریفک حادثے میں انتقال کرنے والی پروین شاکر نے مختصر زندگی میں اردو ادب کے لیے ایک لازوال خزانہ چھوڑا، جو موجودہ اور آنے والی نسلوں کے لیے ہمیشہ یادگار رہے گا۔