LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
رواں سال خطبۂ حج 35 زبانوں میں نشر کیا جائے گا، سعودی حکومت وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی ایک ہی ہفتے میں دوسری بار ایران پہنچ گئے؛ ایران امریکا مذاکرات پر اہم ملاقاتیں متوقع منتخب نمائندوں پر گولیاں چلائی گئیں، کے پی کے عوام کو دیوار سے نہ لگایا جائے؛ وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی آئی ایم ایف مشن کے دورہ پاکستان میں توسیع؛ پیٹرولیم لیوی 100 روپے کرنے اور 430 ارب کے نئے ٹیکسوں کا مطالبہ فیفا فٹبال ورلڈ کپ 2026 کی آفیشل فٹبال کی پاکستان میں پہلی باضابطہ رونمائی، اسلام آباد میں شاندار تقریب مستحق و نادار افراد کو بروقت سہولیات کی فراہمی ترجیحات میں شامل ہے: وزیراعظم ڈی جی آئی ایس پی آر کی مختلف جامعات کے وائس چانسلرز، اساتذہ کیساتھ خصوصی نشست سلہٹ ٹیسٹ: بنگلادیش نے پاکستان کو شکست دے کر وائٹ واش کردیا رواں سال سمگلنگ میں 80 فیصد کمی ہوئی: وزیر مملکت طلال چودھری بجٹ 27-2026 کی تیاریاں: آئی ایم ایف اور ایف بی آر مذاکرات مکمل، 15,262 ارب روپے کا ریکارڈ ٹیکس ہدف مقرر پنجاب اور آذربائیجان کے درمیان اقتصادی تعاون بڑھانے پر اتفاق پاکستان سٹاک مارکیٹ میں کاروبار کے دوران مثبت رجحان امریکہ ایران کیخلاف جھوٹی اور گمراہ کن معلومات پھیلا رہا ہے، ایرانی مشن امریکی صدر ٹرمپ کا ایران جنگ تیزی سے ختم کرنے کا اعلان ایران کی امریکا کو دوبارہ جارحیت پر سخت کارروائی کی وارننگ

پاکستان سٹاک مارکیٹ میں شدید مندی، ہنڈرڈ انڈیکس میں 6600 پوائنٹس کی کمی

Web Desk

13 April 2026

امریکہ کی جانب سے ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی کے اعلان اور اسلام آباد مذاکرات کی ناکامی نے عالمی مالیاتی منڈیوں میں زلزلہ برپا کر دیا ہے، جس کے اثرات پاکستان اسٹاک ایکسچینج (PSX) پر انتہائی منفی انداز میں مرتب ہوئے ہیں۔ کاروباری ہفتے کے پہلے ہی روز سرمایہ کاروں میں شدید بے یقینی پھیلی، جس کے نتیجے میں کے ایس ای (KSE) 100 انڈیکس میں ریکارڈ 6600 پوائنٹس کی بڑی گراوٹ دیکھی گئی۔ اس شدید مندی کے بعد ہنڈرڈ انڈیکس ایک لاکھ 67 ہزار 191 کی سطح سے گر کر ایک لاکھ 60 ہزار 591 پوائنٹس پر بند ہوا۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ خطے میں جنگ کے بادل گہرے ہونے اور تیل کی سپلائی معطل ہونے کے خدشات نے مقامی سرمایہ کاروں کو حصص کی فروخت پر مجبور کر دیا ہے۔

پاکستان کے ساتھ ساتھ دیگر ایشیائی اسٹاک مارکیٹس بھی اس جغرافیائی و سیاسی کشیدگی کی لپیٹ میں رہیں۔ جنوبی کوریا کا کوسپی (Kospi) انڈیکس 2.08 فیصد کی بڑی کمی کے ساتھ بند ہوا، جبکہ جاپان کے نکی (Nikkei) انڈیکس اور ہانگ کانگ کے ہینگ سینگ (Hang Seng) انڈیکس میں بھی ایک فیصد سے زائد کی مندی ریکارڈ کی گئی۔ چین کا شنگھائی کمپوزٹ انڈیکس بھی اس لہر سے محفوظ نہ رہ سکا اور وہاں بھی مندی کا رجحان غالب رہا۔ بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق، سرمایہ کاروں نے ہائی رسک اثاثوں سے سرمایہ نکال کر سونے جیسی محفوظ پناہ گاہوں کا رخ کرنا شروع کر دیا ہے۔

معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق، اگر امریکہ اور ایران کے درمیان بحری ناکہ بندی کا معاملہ طول پکڑتا ہے تو عالمی سپلائی چین متاثر ہونے سے مہنگائی کا نیا طوفان آ سکتا ہے، جو اسٹاک مارکیٹس کے لیے مزید نقصان دہ ثابت ہوگا۔ پاکستان کے لیے خاص طور پر توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتیں اور تجارتی راستوں میں رکاوٹ ایک بڑا چیلنج بن کر ابھری ہیں۔ فی الحال مارکیٹ میں استحکام کے آثار نظر نہیں آ رہے اور سرمایہ کار ‘دیکھو اور انتظار کرو’ کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں، جبکہ سب کی نظریں مشرقِ وسطیٰ سے آنے والی مزید خبروں پر ٹکی ہیں۔