LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
افغانستان سے ملکر دہشتگرد حملہ آور ہوتے ہیں، خاتمے تک جنگ جاری رہے گی: شہباز شریف نیشنل ایکشن پلان کی ایپکس کمیٹی کا اجلاس، وزیراعظم اور فیلڈ مارشل عاصم منیر شریک بھارت سندھ طاس معاہدہ بحال کرے، پانی کو بطور ہتھیار بنانا قوانین کی خلاف ورزی ہے: اسحاق ڈار ظہران ممدانی کا ارجنٹینا و مصر کے میچ میں متنازع فیصلوں پر ردِعمل ستھرا پنجاب پراجیکٹ: مالی بد عنوانی اور ورکرز کو تنخواہوں کی عدم ادائیگی کی متعدد شکایات لاہور اور کراچی میں امریکی قونصل خانے بحال، ویزا سروسز کا آغاز یورپی یونین پاکستان کا مضبوط تجارتی شراکت دار ہے: اسحاق ڈار بہتر کارکردگی سے میری ٹائم سیکٹر میں پاکستان کا درجہ 30 فیصد بلند ہوا: افتخار احمد راؤ وزیراعظم سے کروشین وزیر خارجہ کی ملاقات، باہمی تعاون کے فروغ پر اتفاق حکومتِ پنجاب اور امریکن قونصلیٹ لاہور کا کلچر کے شعبے میں تعاون بڑھانے پر اتفاق نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کا اہم اجلاس، اقتصادی سفارت کاری اور فعال خارجہ پالیسی کو وقت کی ضرورت قرار دے دیا ملکی تاریخ کا نیا ریکارڈ: مالی سال 26ء میں سمندر پار پاکستانیوں نے 41.6 ارب ڈالر وطن بھیج دیے حکومت کا رواں مالی سال سے ہائبرڈ سکوک بانڈز کے اجرا کا فیصلہ

آئی ایم ایف کا شکنجہ مزید سخت: 11 نئی شرائط عائد، پاکستان کی 2027 تک اصلاحات مکمل کرنے کی یقین دہانی

Web Desk

21 April 2026

پاکستان اور عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے درمیان جاری قرض پروگرام کے تحت اصلاحات کا عمل ایک نئے اور سخت مرحلے میں داخل ہو گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق، آئی ایم ایف نے 11 نئی شرائط عائد کی ہیں جن پر عملدرآمد کے لیے پاکستان نے باقاعدہ یقین دہانی کروا دی ہے، جس کے بعد گزشتہ دو سالوں میں شرائط کی مجموعی تعداد 75 تک پہنچ گئی ہے۔ نئے معاہدے کے تحت بجٹ 2026-27 کی تیاری مکمل طور پر آئی ایم ایف کے اہداف کے مطابق کی جائے گی، جس میں مالی خسارے کو کم رکھنے اور معاشی شرح نمو (Growth) کا ہدف بھی کم مقرر کرنے کی شرط شامل ہے۔ اصلاحاتی ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لیے ایک سال کی ڈیڈ لائن مقرر کی گئی ہے، جس کے تحت 2027 تک اسپیشل اکنامک و ٹیکنالوجی زونز کے قوانین میں بڑی تبدیلیاں اور ٹیکس مراعات کا مرحلہ وار خاتمہ کیا جائے گا، جبکہ 2035 تک تمام ٹیکس چھوٹ مکمل ختم کرنے کا ہدف دیا گیا ہے۔

توانائی کے شعبے میں بجلی اور گیس کی قیمتوں میں باقاعدہ اضافے سمیت ماہانہ اور سہ ماہی ایڈجسٹمنٹس کو لازمی قرار دیا گیا ہے، جبکہ ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کو مقامی مارکیٹ میں اشیاء کی فروخت سے روکنے اور جون 2027 تک ’پاکستان ریگولیٹری رجسٹری‘ کے قیام کی بھی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔ آئی ایم ایف نے ایف بی آر کے آڈٹ نظام کو مزید سخت اور مرکزی بنانے کے ساتھ ساتھ بغیر مقابلے کے سرکاری ٹھیکوں کے خاتمے کے لیے قوانین میں ترمیم کا مطالبہ بھی کیا ہے۔ تاہم، عوامی ریلیف کے حوالے سے ایک مثبت پیش رفت یہ ہوئی ہے کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (BISP) کی رقم 14,500 سے بڑھا کر 19,500 روپے کرنے پر اتفاق ہوا ہے، جس کا اطلاق جنوری 2027 سے ہوگا۔ وزارتِ خزانہ کے حکام کے مطابق، پاکستان اب تک اس پروگرام کے تحت 3 ارب ڈالر حاصل کر چکا ہے اور ایک ارب ڈالر کی چوتھی قسط مئی کے اوائل میں ملنے کی توقع ہے۔