LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
گلگت بلتستان اسمبلی انتخابات 2026؛ الیکشن کمیشن کی تیاریاں مکمل، پولنگ کا سامان پرزائیڈنگ آفیسرز کے حوالے کرنے کا عمل شروع امریکا کے ایرانی تنصیبات پر حملے، کویت اور بحرین میں جوابی میزائل داغ دیئے گئے ٹرمپ کی چیف آف سٹاف سوزی وائلز کا عہدہ چھوڑنے کا فیصلہ ایرانی سپریم لیڈر نے 2 ہزار سے زائد قیدیوں کی سزا معاف کر دی امریکا نے کویت کو انسداد ڈرون، متعلقہ آلات کی ممکنہ فروخت کی منظوری دیدی بجٹ تاخیر اور معاشی بحران، حکومت پر دباؤ بڑھ گیا: اسد قیصر امریکی صدر ٹرمپ کی عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں بڑی کمی کی پیشگوئی گلگت بلتستان میں انتخابی مہم کا وقت ختم، ووٹنگ 7 جون کو ہوگی امن و سلامتی کو نقصان پہچانے کا الزام، جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کالعدم قرار حکومت کا عوام کو جزوی ریلیف، پیٹرول کی قیمت میں کمی، ڈیزل برقرار نیویارک میں سینٹر 360 کا آغاز، شہریوں کے لیے شہر کے دلکش مناظر مفت دستیاب اسلام آباد کیلئے علیحدہ اسمبلی کے قیام کی سفارش، براہ راست انتخابات اور نیا انتظامی نظام تجویز پاکستان ٹرمپ انتظامیہ کا اہم شراکت دار، علاقائی عدم استحکام چیلنج ہے: امریکی میڈیا پُرامن دنیا کی جانب بڑھنے کے لیے سرحدوں کی حفاظت ضروری ہے: محسن نقوی وزیر اعظم نے کمرشل کورٹس کے قیام کیلئے 8 رکنی کمیٹی تشکیل دیدی

آئی ایم ایف کا شکنجہ مزید سخت: 11 نئی شرائط عائد، پاکستان کی 2027 تک اصلاحات مکمل کرنے کی یقین دہانی

Web Desk

21 April 2026

پاکستان اور عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے درمیان جاری قرض پروگرام کے تحت اصلاحات کا عمل ایک نئے اور سخت مرحلے میں داخل ہو گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق، آئی ایم ایف نے 11 نئی شرائط عائد کی ہیں جن پر عملدرآمد کے لیے پاکستان نے باقاعدہ یقین دہانی کروا دی ہے، جس کے بعد گزشتہ دو سالوں میں شرائط کی مجموعی تعداد 75 تک پہنچ گئی ہے۔ نئے معاہدے کے تحت بجٹ 2026-27 کی تیاری مکمل طور پر آئی ایم ایف کے اہداف کے مطابق کی جائے گی، جس میں مالی خسارے کو کم رکھنے اور معاشی شرح نمو (Growth) کا ہدف بھی کم مقرر کرنے کی شرط شامل ہے۔ اصلاحاتی ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لیے ایک سال کی ڈیڈ لائن مقرر کی گئی ہے، جس کے تحت 2027 تک اسپیشل اکنامک و ٹیکنالوجی زونز کے قوانین میں بڑی تبدیلیاں اور ٹیکس مراعات کا مرحلہ وار خاتمہ کیا جائے گا، جبکہ 2035 تک تمام ٹیکس چھوٹ مکمل ختم کرنے کا ہدف دیا گیا ہے۔

توانائی کے شعبے میں بجلی اور گیس کی قیمتوں میں باقاعدہ اضافے سمیت ماہانہ اور سہ ماہی ایڈجسٹمنٹس کو لازمی قرار دیا گیا ہے، جبکہ ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کو مقامی مارکیٹ میں اشیاء کی فروخت سے روکنے اور جون 2027 تک ’پاکستان ریگولیٹری رجسٹری‘ کے قیام کی بھی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔ آئی ایم ایف نے ایف بی آر کے آڈٹ نظام کو مزید سخت اور مرکزی بنانے کے ساتھ ساتھ بغیر مقابلے کے سرکاری ٹھیکوں کے خاتمے کے لیے قوانین میں ترمیم کا مطالبہ بھی کیا ہے۔ تاہم، عوامی ریلیف کے حوالے سے ایک مثبت پیش رفت یہ ہوئی ہے کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (BISP) کی رقم 14,500 سے بڑھا کر 19,500 روپے کرنے پر اتفاق ہوا ہے، جس کا اطلاق جنوری 2027 سے ہوگا۔ وزارتِ خزانہ کے حکام کے مطابق، پاکستان اب تک اس پروگرام کے تحت 3 ارب ڈالر حاصل کر چکا ہے اور ایک ارب ڈالر کی چوتھی قسط مئی کے اوائل میں ملنے کی توقع ہے۔