LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
وزیراعظم کی قیادت میں پاک چین معاشی تعاون نئی بلندیوں کی جانب گامزن ہے، ملک احمد خان گلگت بلتستان اسمبلی انتخابات 2026؛ الیکشن کمیشن کی تیاریاں مکمل، پولنگ کا سامان پرزائیڈنگ آفیسرز کے حوالے کرنے کا عمل شروع امریکا کے ایرانی تنصیبات پر حملے، کویت اور بحرین میں جوابی میزائل داغ دیئے گئے ٹرمپ کی چیف آف سٹاف سوزی وائلز کا عہدہ چھوڑنے کا فیصلہ ایرانی سپریم لیڈر نے 2 ہزار سے زائد قیدیوں کی سزا معاف کر دی امریکا نے کویت کو انسداد ڈرون، متعلقہ آلات کی ممکنہ فروخت کی منظوری دیدی بجٹ تاخیر اور معاشی بحران، حکومت پر دباؤ بڑھ گیا: اسد قیصر امریکی صدر ٹرمپ کی عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں بڑی کمی کی پیشگوئی گلگت بلتستان میں انتخابی مہم کا وقت ختم، ووٹنگ 7 جون کو ہوگی امن و سلامتی کو نقصان پہچانے کا الزام، جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کالعدم قرار حکومت کا عوام کو جزوی ریلیف، پیٹرول کی قیمت میں کمی، ڈیزل برقرار نیویارک میں سینٹر 360 کا آغاز، شہریوں کے لیے شہر کے دلکش مناظر مفت دستیاب اسلام آباد کیلئے علیحدہ اسمبلی کے قیام کی سفارش، براہ راست انتخابات اور نیا انتظامی نظام تجویز پاکستان ٹرمپ انتظامیہ کا اہم شراکت دار، علاقائی عدم استحکام چیلنج ہے: امریکی میڈیا پُرامن دنیا کی جانب بڑھنے کے لیے سرحدوں کی حفاظت ضروری ہے: محسن نقوی

اشیائے ضروریہ پر پرچون قیمت پرنٹ کرنا لازمی قرار دینے کا فیصلہ

Web Desk

6 June 2026

اسلام آباد: آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ میں روزمرہ استعمال کی اشیاء پر ٹیکس چوری روکنے اور شفافیت لانے کے لیے حکومت نے ایک بڑا مینوئل تیار کر لیا ہے۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) کے باوثوق ذرائع کے مطابق، بجٹ میں چائے کی پتی، خشک دودھ اور ویجیٹیبل گھی کی پیکنگ پر پرچون قیمت (Retail Price) واضع طور پر پرنٹ کرنا قانونی طور پر لازمی قرار دیا جائے گا۔

ایف بی آر ذرائع کا کہنا ہے کہ ضروری اشیاء پر سیلز ٹیکس کی سو فیصد اور درست وصولی کو یقینی بنانے کے لیے پرچون قیمت پرنٹ کرنے کا یہ لازمی فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس نئے مینوئل کے تحت اب شیر خوار بچوں کے فارمولا دودھ، کیچپ اور کوکنگ آئل پر بھی پرچون قیمت پرنٹ کرنا مینوفیکچررز کے لیے لازمی ہوگا۔

ٹیکس نیٹ کو بڑھانے اور قیمتوں کو کنٹرول میں رکھنے کے لیے بجٹ تجاویز کے اہم نکات درج ذیل ہیںروزمرہ استعمال کی درجنوں اشیاء کو سیلز ٹیکس ایکٹ کے تیسرے شیڈول میں شامل کیا جائے گا، جس کے بعد ان کی فروخت پرچون قیمت کے مینوئل کے بغیر ممکن نہیں ہوگی۔ اس اقدام سے مارکیٹ میں زائد قیمتوں کی وصولی کا سدِباب ہوگا اور حکومت کو اصل قیمت کے مطابق ٹیکس حاصل ہو سکے گا۔بجٹ میں ماحولیاتی تحفظ اور فنڈز اکٹھے کرنے کے لیے پیٹرولیم مصنوعات پر بڑا بوجھ ڈالنے کی تجویز ہے

ذرائع کے مطابق، بجٹ میں یکم جولائی سے پیٹرولیم مصنوعات پر عائد کلائمیٹ سپورٹ لیوی (Climate Support Levy) کو مروجہ شرح سے دگنا کیے جانے کا قوی امکان ہے۔ تجویز کے تحت پیٹرولیم مصنوعات پر کلائمیٹ سپورٹ لیوی کو 2.5 روپے فی لیٹر سے بڑھا کر 5 روپے فی لیٹر کر دیا جائے گا۔حکومت نے آئندہ مالی سال کے دوران اس کلائمیٹ سپورٹ لیوی کی مد میں 90 ارب روپے سے زائد وصول کرنے کا ہدف اور تخمینہ مقرر کیا ہے، جو ماحولیاتی منصوبوں پر خرچ کیے جائیں گے۔

مالیاتی اصلاحات کے مینوئل کے تحت ایک اور بڑا فیصلہ بھی بجٹ کا حصہ بننے جا رہا ہے آئندہ مالی سال کے اس بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں (فاٹا اور پاٹا) کے لیے مروجہ ٹیکس استثنیٰ (Tax Exemption) کو اب مکمل طور پر ختم کیے جانے کا امکان ہے۔ان علاقوں کو ٹیکس نیٹ میں شامل کرنے سے ملکی ریونیو میں اضافہ ہوگا اور مینوفیکچرنگ سیکٹر میں یکساں مسابقت کی پوزیشن پیدا ہوگی۔ ان تمام تر تجاویز کو حتمی شکل دے کر پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے گا۔