LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکا کا چین پر ٹیرف سے بچنے کے لیے بڑے پیمانے پر تجارتی دھوکے کا الزام کیرولائن لیوٹ نے استعفیٰ صدر ٹرمپ سے دلبرداشتہ ہونے پر دیا: ایرانی سفارتخانہ ٹرمپ نے اسلام آباد مفاہمت کے ذریعے ایران کو تسلیم کر لیا: باقر قالیباف ٹرمپ آبنائے ہرمز بند کرنے کی دھمکیاں دینا بند کریں، اپنی سکیورٹی کی فکر کریں: ابراہیم عزیزی امریکی سینٹ کام کمانڈر بریڈ کوپر کا 10 روزہ مشرق وسطیٰ کا دورہ مکمل استاد نصرت فتح علی خان کو مداحوں سے بچھڑے 29 برس بیت گئے بابائے اردو مولوی عبدالحق کی 65ویں برسی آج منائی جا رہی ہے اسرائیل کا جنوبی لبنان میں سیز فائر کے بعد سب سے مہلک ترین حملہ، 11 افراد شہید جنوبی کوریا نے شمالی کوریا کو جنگ باضابطہ ختم کرنے کی تجویز پیش کر دی ایران نے فرانس کو ملک کے اندرونی معاملات میں مداخلت سے خبردار کر دیا آبنائے ہرمز کی بندش کسی کے مفاد میں نہیں، دوبارہ کھولنا ترجیح ہے: ترک صدر ایران نے امریکی فوجیوں کی تدفین کیلئے جگہ مختص کر دی، 5 ہزار قبروں کی گنجائش ہوگی حوثی باغیوں کے حملوں کے بعد یمن کی المخا بندرگاہ نے آپریشن معطل کر دیا قطر نے ایرانی طیاروں کے 3 پائلٹس کی گرفتاری کے دعوؤں کی تردید کر دی ایران کو اپنے 3 پائلٹس قطر میں قید ہونے کا شبہ، ریڈ کراس سے مدد کی اپیل

سعودی عرب کی قیادت میں مشرق وسطیٰ میں نیا اتحاد؛ پاکستان، ترکیہ اور مصر بھی شامل، امریکی جریدہ

Web Desk

3 July 2026

مشرقِ وسطیٰ میں بدلتی ہوئی علاقائی صورتحال اور حالیہ سکیورٹی چیلنجز کے تناظر میں سعودی عرب کی قیادت میں ایک نئے علاقائی سکیورٹی و سفارتی اتحاد کی تشکیل سامنے آئی ہے۔ اس اہم اتحاد میں پاکستان، مصر، ترکیہ اور قطر سمیت خطے کے کئی دیگر اہم ممالک کو شامل کیا گیا ہے۔ اس نئے بلاک کا بنیادی مقصد خطے میں پائیدار استحکام، دفاعی تعاون، سفارتی ہم آہنگی اور بحرانوں کے حل کے لیے مشترکہ حکمت عملی اختیار کرنا ہے۔

امریکی جریدے ‘فارن پالیسی’ کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق، اس نئے بلاک کی تشکیل ایسے وقت میں ہوئی ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں ایران، اسرائیل اور خلیجی ممالک کے درمیان جاری کشیدگی نے سکیورٹی صورتحال کو نئی آزمائش سے دوچار کر رکھا ہے۔ سعودی عرب خطے میں اپنا کردار مزید فعال بنانے کے لیے ان شراکت داروں کے ساتھ قریبی تعاون بڑھا رہا ہے جو سفارتی اور عسکری سطح پر مؤثر کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، اور اس فریم ورک میں پاکستان ایک اہم ترین شراکت دار کے طور پر سامنے آیا ہے۔ دوسری جانب، اسی تناظر میں امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات میں بھی مثبت پیش رفت ہوئی ہے اور فریقین نے آئندہ دور جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔

مجوزہ اتحاد کا دائرۂ کار صرف عسکری شعبے تک محدود نہیں ہوگا بلکہ توانائی کے تحفظ، سمندری راستوں کی سلامتی، انسدادِ دہشت گردی، انٹیلی جنس شیئرنگ اور علاقائی تنازعات کے سفارتی حل پر بھی خصوصی توجہ دی جائے گی۔ خاص طور پر آبنائے ہرمز اور خلیجی بحری راستوں کے تحفظ کو ترجیحات میں شامل کیا جا رہا ہے۔ پاکستان کی دفاعی و عسکری صلاحیت، جوہری قوت، سعودی عرب کے ساتھ دیرینہ دفاعی تعلقات اور حالیہ ثالثی کردار نے اسلام آباد کی اہمیت کو مزید بڑھا دیا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان گزشتہ برس ہونے والے اسٹریٹجک دفاعی تعاون کو اس نئے علاقائی اتحاد کی مضبوط بنیاد تصور کیا جارہا ہے۔