LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
قدرتی آفات کے حوالے سے رواں سال 51 اضلاع ہائی رسک قرار سعودی عرب کی قیادت میں مشرق وسطیٰ میں نیا اتحاد؛ پاکستان، ترکیہ اور مصر بھی شامل، امریکی جریدہ پاکستان سٹاک مارکیٹ میں کاروبار کا مثبت زون میں آغاز ایران اور امریکا معاہدے کے فالو اپ پر مثبت پیش رفت جاری ہے،عاصم افتخار اسٹیٹ بینک کے ڈالر ذخائر میں اضافہ، مجموعی حجم 22 ارب ڈالر سے تجاوز کر گیا ڈیرہ اسماعیل خان میں بس کھائی میں گرنے سے 16 افراد جاں بحق،متعدد زخمی دہشت گرد حملوں کے خلاف دفاع پاکستان کا حق ہے: امریکہ سب میرین کیبل کی مرمت مکمل، ملک بھر میں انٹرنیٹ سروس معمول پر آگئی محسن نقوی کا پاک سعودیہ برادرانہ تعلقات مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران امریکا کی تقریباً تمام اہم شرائط ماننے پر آمادہ ہو گیا ہے۔ حارث سید لاس اینجلس کاؤنٹی سپیریئر کورٹ کے جج مقرر، گورنر کیلیفورنیا کا اہم اعلان کیلیفورنیا کے گورنر گیون نیوزم کا تاریخی فیصلہ؛ مختلف کاؤنٹیز کے لیے 14 نئے سپیریئر کورٹ ججز کا تقرر شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے آخری دیدار کا آغاز ہو گیا، تہران میں رقت آمیز مناظر آیت اللہ خامنہ ای کے جنازے کے دوران حملہ ہوا تو جواب نہایت سخت ہوگا: ایران امریکی رکن کانگریس کا اسرائیل پر فوری اسلحہ پابندی عائد کرنے کا مطالبہ

سعودی عرب کی قیادت میں مشرق وسطیٰ میں نیا اتحاد؛ پاکستان، ترکیہ اور مصر بھی شامل، امریکی جریدہ

Web Desk

3 July 2026

مشرقِ وسطیٰ میں بدلتی ہوئی علاقائی صورتحال اور حالیہ سکیورٹی چیلنجز کے تناظر میں سعودی عرب کی قیادت میں ایک نئے علاقائی سکیورٹی و سفارتی اتحاد کی تشکیل سامنے آئی ہے۔ اس اہم اتحاد میں پاکستان، مصر، ترکیہ اور قطر سمیت خطے کے کئی دیگر اہم ممالک کو شامل کیا گیا ہے۔ اس نئے بلاک کا بنیادی مقصد خطے میں پائیدار استحکام، دفاعی تعاون، سفارتی ہم آہنگی اور بحرانوں کے حل کے لیے مشترکہ حکمت عملی اختیار کرنا ہے۔

امریکی جریدے ‘فارن پالیسی’ کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق، اس نئے بلاک کی تشکیل ایسے وقت میں ہوئی ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں ایران، اسرائیل اور خلیجی ممالک کے درمیان جاری کشیدگی نے سکیورٹی صورتحال کو نئی آزمائش سے دوچار کر رکھا ہے۔ سعودی عرب خطے میں اپنا کردار مزید فعال بنانے کے لیے ان شراکت داروں کے ساتھ قریبی تعاون بڑھا رہا ہے جو سفارتی اور عسکری سطح پر مؤثر کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، اور اس فریم ورک میں پاکستان ایک اہم ترین شراکت دار کے طور پر سامنے آیا ہے۔ دوسری جانب، اسی تناظر میں امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات میں بھی مثبت پیش رفت ہوئی ہے اور فریقین نے آئندہ دور جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔

مجوزہ اتحاد کا دائرۂ کار صرف عسکری شعبے تک محدود نہیں ہوگا بلکہ توانائی کے تحفظ، سمندری راستوں کی سلامتی، انسدادِ دہشت گردی، انٹیلی جنس شیئرنگ اور علاقائی تنازعات کے سفارتی حل پر بھی خصوصی توجہ دی جائے گی۔ خاص طور پر آبنائے ہرمز اور خلیجی بحری راستوں کے تحفظ کو ترجیحات میں شامل کیا جا رہا ہے۔ پاکستان کی دفاعی و عسکری صلاحیت، جوہری قوت، سعودی عرب کے ساتھ دیرینہ دفاعی تعلقات اور حالیہ ثالثی کردار نے اسلام آباد کی اہمیت کو مزید بڑھا دیا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان گزشتہ برس ہونے والے اسٹریٹجک دفاعی تعاون کو اس نئے علاقائی اتحاد کی مضبوط بنیاد تصور کیا جارہا ہے۔