LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
استنبول سے اسلام آباد آنیوالی پرواز میں خرابی، باکو میں ایمرجنسی لینڈنگ چین کے فارماسیوٹیکل تعاون سے سستی ادویات، سرمایہ کاری اور برآمدات میں اضافہ ہوگا، وزیراعظم سونے کی قیمت میں بڑی کمی سابق وزیراعظم آزاد کشمیر سردار تنویر الیاس کے قافلے پر فائرنگ، سیکیورٹی گارڈ جاں بحق، متعدد زخمی واٹس ایپ ہیکنگ سے بچاؤ، این سی سی آئی اے کا ایکشن پلان، ہیلپ لائن بھی قائم ہوگی بلھے شاہ ایکسپریس کی بحالی، لاہور ریلوے سٹیشن اپ گریڈ، نئی ٹرینوں کا اعلان اینڈی برنہم برطانوی لیبر پارٹی کے نئے سربراہ منتخب، آئندہ ہفتے وزیراعظم کا حلف اٹھائیں گے بھارت سے دریائے چناب میں پانی کی آمد 4 روز میں 21 ہزار 600 کیوسک کم امریکی صدر ٹرمپ کے انتخابی مداخلت کے الزامات بے بنیاد ہیں: چین امریکہ کا بائیڈن دور کی ‘پبلک چارج’ پالیسی ختم کرنے کا فیصلہ؛ تارکینِ وطن کے لیے گرین کارڈ کا حصول مشکل ہونے کا خدشہ وزیر اعلیٰ کے پی سہیل آفریدی، جنید اکبر اور عبدالغنی آفریدی کیخلاف اشتہاری قرار دینے کی کاروائی شروع مالی سال 26ء میں پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 13 کروڑ 90 لاکھ ڈالر رہا؛ اسٹیٹ بینک نے نئے اعداد و شمار جاری اپنی چھت، محفوظ چھت پروگرام: 5 لاکھ روپے تک بلاسود قرض دینے کا اعلان عالمی منڈی میں قیمتیں بڑھنے سے ملک میں پیٹرول اور ڈیزل مہنگا ہونے کا خدشہ جے ڈی وینس نے کشنر اور وٹکوف پر مالی فائدہ اٹھانے کے الزامات مسترد کر دیے

خطے میں کشیدگی خطرناک، فوری اور مستقل حل تلاش کرنا ضروری ہے: دفتر خارجہ

Web Desk

2 April 2026

اسلام آباد: ترجمان دفترِ خارجہ طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار بریفنگ میں بتایا کہ پاکستان خطے میں جاری خطرناک کشیدگی کے خاتمے کے لیے ایک مرکزی سفارتی کھلاڑی کے طور پر ابھرا ہے۔ اس سلسلے میں سب سے اہم پیش رفت امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ مذاکرات کے لیے اسلام آباد کو بطور مقام زیرِ غور لانا ہے، جس کی سعودی عرب، ترکیہ اور مصر جیسے برادر ممالک نے مکمل حمایت کی ہے۔

ترجمان نے نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کے دورہ چین کو انتہائی اہمیت کا حامل قرار دیتے ہوئے “پاک-چین پانچ نکاتی امن منصوبہ” تفصیل سے بیان کیا۔ اس منصوبے کے تحت فوری جنگ بندی، انسانی امداد کی بلا روکاوٹ فراہمی، اور اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے مطابق ریاستوں کی خودمختاری کے احترام پر زور دیا گیا ہے۔ خاص طور پر آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) میں جہاز رانی کے تحفظ اور اسے تجارتی سرگرمیوں کے لیے فوری کھولنے کو ترجیح دی گئی ہے تاکہ عالمی معیشت کو مزید نقصان سے بچایا جا سکے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان، کویت کے ولی عہد اور یورپی کونسل کے صدر انتونیو کوسٹا سے ٹیلیفونک رابطے کر کے پاکستان کے امن اقدامات پر اعتماد میں لیا۔ ایرانی صدر اور عالمی برادری نے تناؤ کم کرنے کے لیے پاکستان کے “تعمیری اور مثبت” کردار کو سراہا ہے۔ دفترِ خارجہ کے مطابق، سفارت کاری اور مذاکرات ہی اس بحران سے نکلنے کا واحد راستہ ہیں۔