LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایران نے نئی امریکی پابندیوں کو ریاستی اور معاشی دہشت گردی قرار دے دیا ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای زندہ مگر شدید زخمی ہیں: ٹرمپ خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں فورسز کی کارروائیاں، 11 دہشت گرد ہلاک سانحہ پمز ہسپتال: جاں بحق ہونے والے 14 بچے سپرد خاک، ہر آنکھ اشکبار پاکستان نے فلسطین میں پائیدار امن کیلئے اسرائیلی قبضے کا خاتمہ ناگزیر قرار دیدیا برطانوی شہزادہ ہیری اور میگھن 6 سالہ بعد برطانیہ واپس پہنچ گئے بچوں کو سوشل میڈیا کا عادی بنانے کا الزام، میٹا 16.7 ارب ڈالر جرمانہ دینے پر رضا مند ٹرمپ انتظامیہ کا ایران کیخلاف فوری نئے حملوں کا ارادہ نہیں: امریکی میڈیا امریکا کا چین سے منسلک بڑا سائبر حملہ ناکام بنانے کا دعویٰ نیپال میں شدید سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ، 162 سے زائد افراد ہلاک، 403 لاپتہ امریکا، اسرائیل آئی اے ای اے پر ایرانی جوہری تنصیبات کے معائنے کیلئے دباؤ ڈال رہے ہیں: ایران دشمن کا کوئی بھی غلط اقدام فوری جوابی کارروائی کا باعث بنے گا: ایرانی فوج یوکرینی حملے: روس کا اہم انفراسٹرکچر کی سکیورٹی سخت کرنے کا فیصلہ کشیدگی میں کمی کی کوششیں: قطری وزیراعظم آج ایران کا دورہ کریں گے اقوام متحدہ کا اسرائیل سمیت تمام فریقین سے لبنان میں بلاامتیاز کارروائیاں روکنے کا مطالبہ

وزارت خزانہ نے پاکستان کے بیرونی قرضوں سے متعلق خبریں گمراہ کن قرار دےدیں

Web Desk

22 February 2026

وزارت خزانہ نے اپنے اعلامیے میں کہا ہے کہ پاکستان کا بیرونی قرض زیادہ تر رعایتی اور طویل مدتی بنیادوں پر حاصل کیا گیا ہے اور ملک بیرونی قرضوں پر اوسطاً تقریباً چار فیصد شرح سود ادا کر رہا ہے۔ وزارت کے مطابق آٹھ فیصد سود کا دعویٰ گمراہ کن ہے۔

اعلامیے میں بتایا گیا کہ پاکستان کا مجموعی بیرونی قرض اور واجبات ایک سو اڑتیس ارب ڈالر ہیں جبکہ بیرونی عوامی قرض کا حجم تقریباً بانوے ارب ڈالر ہے۔ وزارت خزانہ کے مطابق بیرونی قرضوں کا تقریباً پچھتر فیصد حصہ کثیرالجہتی اور دوطرفہ رعایتی ذرائع سے حاصل کیا گیا۔

وزارت کے مطابق دو ہزار بائیس میں سود کی ادائیگی ایک اعشاریہ ننانوے ارب ڈالر تھی جو دو ہزار پچیس میں بڑھ کر تین اعشاریہ انسٹھ ارب ڈالر ہو گئی۔ سود ادائیگیوں میں اضافہ اسی اعشاریہ چار فیصد رہا جبکہ چوراسی فیصد اضافے کی رپورٹ درست نہیں۔

اعلامیے کے مطابق آئی ایم ایف کو ایک اعشاریہ پچاس ارب ڈالر ادا کیے گئے جن میں پانچ سو اسی ملین ڈالر سود شامل تھا۔ اسی طرح ایشین ڈیولپمنٹ بینک کو ایک اعشاریہ چون ارب ڈالر اور ورلڈ بینک کو ایک اعشاریہ پچیس ارب ڈالر کی ادائیگی کی گئی۔

وزارت خزانہ نے بتایا کہ نیا پاکستان سرٹیفکیٹس کے تحت ایک اعشاریہ چھپن ارب ڈالر ادا کیے گئے جن میں چورانوے ملین ڈالر سود شامل تھا جبکہ بیرونی کمرشل قرضوں کی مد میں تقریباً تین ارب ڈالر ادا کیے گئے جن میں تین سو ستائیس ملین ڈالر سود شامل تھا۔

اعلامیے میں کہا گیا کہ دو ہزار بائیس تا تیئیس کے دوران زرمبادلہ ذخائر ایک ماہ کی درآمدات سے بھی کم ہو گئے تھے تاہم آئی ایم ایف پروگرام اور کثیرالجہتی معاونت سے ذخائر کی بحالی ممکن ہوئی۔ وزارت خزانہ نے واضح کیا کہ عالمی شرح سود میں اضافے سے بیرونی ادائیگیوں پر دباؤ بڑھا، خصوصاً فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود پانچ اعشاریہ پچیس سے پانچ اعشاریہ پچاس فیصد تک بڑھانے کے اثرات نمایاں رہے۔

وزارت خزانہ نے کہا کہ حکومت ذمہ دارانہ قرض انتظام اور معاشی استحکام کے لیے پرعزم ہے۔