LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
سعودی عرب کا سیاحتی ویزا سے متعلق اہم فیصلہ ب مجھے نفسیاتی طور پر اسپرین کی ضرورت ہے، ٹرمپ تیل کے ذخائر خطرناک حد تک کم ہوگئے، آرامکو سربراہ کا انتباہ خیبر پختونخوا کی صورتحال اور پی ٹی آئی کا لانگ مارچ، وزیراعظم کا صدر زرداری سے جلد دوبارہ ملاقات کا فیصلہ ایران سے براہِ راست مذاکرات کیلئے تیار ہیں : صدر ٹرمپ کا اعلان بھاگنے کی عادت پرانی، ہر مشکل میں کارکنوں کو آگے کرکے خود پیچھے ہٹ جاتے ہیں: فیصل کریم ریاست خیرپور کے آخری حکمران میر علی مراد خان تالپور انتقال کر گئے مالی سال 2026-27 کے پہلے تین ماہ کے دوران ترقیاتی اخراجات کی رپورٹ جاری لائیو سٹاک برآمدات بڑھانے کیلئے خصوصی فارم ہاؤسز قائم کرنے کی منظوری حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اعلان کردیا دشمن کی اگلی غلطی نئے محاذ اور مزید حیران کن نتائج لائے گی، محسن رضائی مذاکرات ناکامی کی دو بنیادی وجوہات، اپوزیشن وفد بے اختیار تھا: طارق فضل چودھری ایمان اور ہادی چٹھہ ضمانت کیس: ریکارڈ پیش نہ کرنے پر جج برہم اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل آج پاکستان پہنچیں گے، اہم ملاقاتیں شیڈول امن جرگہ مشترکہ اعلامیے پر عملدرآمد کیا جائے، سپیکر کے پی اسمبلی کا وزیراعظم کو خط

مذاکرات ناکامی کی دو بنیادی وجوہات، اپوزیشن وفد بے اختیار تھا: طارق فضل چودھری

Web Desk

5 October 2026

وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات سے قوم کو راستہ نکلنے کی بڑی امیدیں تھیں، تاہم اپوزیشن نے انتشار اور گرما گرمی کے خاتمے کا ایک بہترین موقع ضائع کر دیا ہے۔ پارلیمنٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے دعویٰ کیا کہ مذاکرات کی ناکامی کی بنیادی وجہ اپوزیشن کے وفد کا مکمل طور پر بے اختیار ہونا تھا، کیونکہ تمام اختیارات خیبرپختونخوا حکومت کے پاس مرکوز تھے۔

طارق فضل چوہدری نے واضح اور سخت موقف اپنایا کہ اپوزیشن کے لانگ مارچ کو کسی صورت اسلام آباد میں داخل نہیں ہونے دیا جائے گا اور یہ مارچ اٹک سے آگے آتا ہوا دکھائی نہیں دے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اپوزیشن دہشت گردی کی مذمت تک کرنے کے لیے تیار نہیں اور ان کی تمام تر توجہ صرف بانی پی ٹی آئی سے ملاقات پر مرکوز ہے۔ سیکیورٹی اور سیاسی صورتحال پر بات کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے انکشاف کیا کہ وفاقی حکومت خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کے آپشن پر بھی سنجیدگی سے غور کر رہی ہے۔