جعلی ادویات کے خاتمے کو یقینی بنانے کیلئے وزارت صحت کا انقلابی اقدام
Web Desk
2 June 2026
اسلام آباد: ملک بھر سے جعلی، غیر معیاری اور نقلی ادویات کے مکمل خاتمے کو یقینی بنانے کے لیے وزارتِ قومی صحت کا ایک انتہائی انقلابی اور تاریخی اقدام سامنے آیا ہے۔
ترجمان وزارتِ صحت کے مطابق، وفاقی کابینہ نے ملک بھر میں تیار اور درآمد ہونے والی ادویات پر “ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم” (Track and Trace System) کے نفاذ کی باضابطہ اور قانونی منظوری دے دی ہے۔ اس حوالے سے وفاقی وزیرِ صحت سید مصطفیٰ کمال کا کہنا ہے کہ اس جدید ترین نظام کو قانونی شکل دینے کے لیے باقاعدہ طور پر ‘ڈرگ لیبلنگ اینڈ پیکنگ رولز 1978’ میں ضروری اور اہم ترامیم کی منظوری دے دی گئی ہے۔ انہوں نے اس فیصلے کو پاکستان میں جعلی ادویات کے خلاف ایک تاریخی پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا کہ ملکی تاریخ میں پہلی بار اب ہر دوا کو ڈیجیٹل طریقے سے ٹریک، مانیٹر اور ویریفائی (تصدیق) کیا جا سکے گا، جس سے فارماسیوٹیکل مارکیٹ میں نقلی ادویات کی خرید و فروخت کا راستہ ہمیشہ کے لیے بند ہو جائے گا۔
وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے اس سسٹم کے فوائد اور طریقہ کار کی تفصیلات بتاتے ہوئے واضح کیا کہ اس نظام کے باقاعدہ نفاذ کے بعد اب عام صارفین بھی محض ایک کلک کے ذریعے بآسانی کسی بھی دوا کی میعادِ استعمال (Expiry Date) اور اس کی مقررہ سرکاری قیمت سے متعلق مستند معلومات تک براہِ راست رسائی حاصل کر سکیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (DRAP) اس جدید نظام کو ملک بھر میں نافذ کرنے کی ذمہ دار ہوگی۔ نئے منظور شدہ قواعد کے تحت اب پاکستان کی تمام مقامی دوا ساز کمپنیوں اور ادویات باہر سے منگوانے والے درآمد کنندگان (Importers) کے لیے یہ قانونی طور پر لازم ہوگا کہ وہ ہر دوا کے پیکٹ پر ایک معیاری ‘ٹو ڈی بار کوڈ’ (2D Barcode) اور مخصوص سیریلائزیشن ڈیٹا (Serialization Data) لازمی درج کریں۔ یہ اہم فیصلہ پاکستان میں ادویات کی سپلائی چین کو ہر سطح پر محفوظ، شفاف اور بین الاقوامی معیار کے مطابق بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔
وزارتِ صحت کے مطابق، پاکستان میں ادویات کے پورے نظام کو جدید ترین خطوط پر استوار کیا جا رہا ہے اور ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ سے جعلی ادویات کے خلاف ایک مضبوط اور مؤثر دیوار قائم ہوگی، جس کے بعد پاکستان خطے میں صحت کے شعبے میں جدید ٹیکنالوجی اپنانے والا ایک نمایاں ملک بن کر ابھرے گا۔ وفاقی وزیر کا مزید کہنا تھا کہ اس نظام کے ذریعے نگرانی کے پرانے اور روایتی طریقوں کی جگہ اب جدید ڈیجیٹل نظام لے گا، جس سے معصوم شہریوں کی صحت، زندگی اور ادویات پر ان کے اعتماد کا مکمل تحفظ یقینی بنایا جا سکے گا۔ انہوں نے ادویات کی صنعت کو یقین دہانی کرائی کہ ڈریپ (DRAP) کی جانب سے فارماسیوٹیکل انڈسٹری کو ہر ممکن سہولت فراہم کرنے کے لیے بہت جلد تکنیکی رہنما اصول (Technical Guidelines) جاری کر دیے جائیں گے، جبکہ اس سلسلے میں تمام متعلقہ فریقین اور اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ اہم مشاورتی اجلاس بھی پہلے ہی منعقد کیے جا چکے ہیں تاکہ اس نظام کو بلاتعطل فعال کیا جا سکے۔
متعلقہ عنوانات
ورزش سے دل پر مرتب ہونیوالے ایک حیرت انگیز اثر کا انکشاف
27 October 2026
خیبر پختونخوا میں ایم پاکس کے 4 نئے تصدیق شدہ کیسز رپورٹ
27 October 2026
کینسر کی واپسی کو 42 فیصد تک کم کرنے والی ویکسین تیار
27 October 2026
پی ایم ڈی سی کی میڈیکل اینڈ ڈینٹل ایڈمیشن پالیسی 2026 جاری، بھاری جرمانوں کا فیصلہ
27 October 2026
ادویات کی قیمتوں میں بلاجواز اضافہ قابلِ قبول نہیں: احد چیمہ
26 October 2026
پی ایم ڈی سی کی میڈیکل اینڈ ڈینٹل ایڈمیشن پالیسی 2026 جاری، بھاری جرمانوں کا فیصلہ
26 October 2026
سانس لینے کی مخصوص مشقیں ذہنی کیفیت تبدیل کر سکتی ہیں: تحقیق
26 October 2026
وزیراعظم 27 اکتوبر کو پاک چائنا فرینڈشپ ہسپتال کا افتتاح کریں گے: مصطفیٰ کمال
26 October 2026