LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایران کی 40 روزہ جنگ کے دوران 3519 افراد جاں بحق ہونے کی تصدیق امریکا کے ساتھ عبوری معاہدے پر عملدرآمد تک مذاکرات نہیں ہوں گے: عراقچی ترکش پیٹرولیم پاکستان کے سمندروں میں آف شور ڈرلنگ کرنے جا رہی ہے: علی پرویز گڈز اور منی مزدا ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال کا دوسرا روز، گاڑیوں کی روانگی معطل افغان حکومت اپنی سرزمین پاکستان میں دہشتگردی کیلئے استعمال نہ ہونے دے، حافظ نعیم پاکستان، سعودیہ اور ترکیہ کا مکہ باہمی دفاعی معاہدے کے بعد خصوصی نغمہ جاری مریم نواز سے ایم پی ایز کی ملاقات، سیاسی امور، عوامی فلاحی منصوبوں پر تبادلہ خیال کوسوو میں اپوزیشن رکن اسمبلی نے قائم مقام وزیراعظم پر انڈے پھینک دیے سعودی عرب اور یمن کی متحدہ عرب امارات کے آئل ٹینکر پر حملے کی مذمت آزاد جموں و کشمیر قانون اسمبلی کے انتخابات کا تیسرا مرحلہ کل ہوگا آئی ایس پی آر سمر انٹرن شپ پروگرام، ڈاکٹر معید یوسف کی طلبہ کیساتھ خصوصی نشست نائجیریا کی تاریخ کا سب سے بڑا ریسکیو آپریشن، 6ماہ سے جنگل میں قید 308 افراد بازیاب صدر کا قدیم مقامی باشندگان کے حقوق، ثقافت کے تحفظ کیلئے پاکستان کے عزم کا اعادہ محسن نقوی کا لاہور ایئرپورٹ کا دورہ، امیگریشن کے عمل کا جائزہ لیا مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ خطے کے کسی ملک کیلئے خطرہ نہیں: سعودی عہدیدار

اسلامی تعاون تنظیم اور بحرین کا مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کا خیرمقدم

Web Desk

8 August 2026

اسلامی تعاون تنظیم (OIC) اور سلطنتِ بحرین نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان طے پانے والے تاریخی ‘مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے’ کا شاندار الفاظ میں خیرمقدم کرتے ہوئے اسے امتِ مسلمہ اور خطے کے امن و استحکام کے لیے ایک کلیدی اور سٹریٹجک پیش رفت قرار دیا ہے۔

اسلامی تعاون تنظیم کے سیکرٹری جنرل حسین ابراہیم طہٰ نے اپنے تہنیتی پیغام میں تینوں ممالک کی دانشمندانہ قیادت اور ان تھک کاوشوں کی تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ معرکہ آرا معاہدہ خطے اور اسلامی دنیا میں بڑھتے ہوئے سکیورٹی چیلنجز کا مقابلہ کرنے، رکن ممالک میں یکجہتی کو فروغ دینے اور سلامتی کی ضامنت کا بنیادی ستون بنے گا۔

دوسری جانب بحرین کی وزارتِ خارجہ نے ایک رسمی بیان جاری کرتے ہوئے تینوں اہم مسلم ممالک کی دفاعی صلاحیتوں اور فوجی مہارت کا اعتراف کیا اور اس معاہدے کو وسیع علاقائی دفاعی نظام میں ایک زبردست اضافہ قرار دیا۔ بحرین نے واضح کیا کہ سعودی عرب کی سلامتی اور خودمختاری بحرین کی اپنی سلامتی کے مترادف ہے اور یہ معاہدہ خلیج تعاون کونسل (GCC) کے اجتماعی دفاعی نظام کو بھی نئی طاقت اور سٹریٹجک انضمام فراہم کرے گا۔