LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
گلوبل ڈویلپمنٹ انیشیٹو بروقت اقدام ہے، وزیراعظم شہباز شریف ایک ہی الزام پر ایف آئی اے دوبارہ انکوائری نہیں کرسکتی: عدالت فیلڈ مارشل کی سعودی وزیرِ دفاع سے ملاقات، دفاعی تعاون جاری رکھنے کا عزم خیبر پختونخوا اسمبلی میں ارکان کی گرفتاری کا طریقہ کار واضح، سپیکر کی اجازت لازمی افغان سرزمین سے دہشت گردی ختم کیے بغیر خطے میں امن ممکن نہیں: اسحاق ڈار بھارت ریاستی سطح پر دہشت گردی کی پشت پناہی میں ملوث ہے: صائمہ سلیم پی ٹی آئی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں دہشت گردوں کے ساتھ ہے: خواجہ آصف اسلام آباد میں احتجاج کے تماشے کو ہمیشہ کیلئے بند کرنے کا فیصلہ کرلیا: رانا ثنا امریکا کے ساتھ براہ راست بات اعتماد کے شدید فقدان کے باعث ممکن نہیں: ایرانی صدر کانگو میں کارگو طیارہ گر کر تباہ، آڈیٹر جنرل سمیت 14 فوجی افسران ہلاک امریکا سے واپسی پر وزیراعظم لندن میں دو سے تین روز قیام کریں گے امریکی صدر نے ایران کی سات روزہ جنگ بندی کی تجویز مسترد کردی طالبان رجیم کی بدترین کارکردگی، افغانستان جنوبی ایشیا کا ناکام ترین ملک قرار بی جے پی کا ہندوتوا ایجنڈا، بھارت میں اسلام دشمنی سر چڑھ کر بولنے لگی وزیراعظم یو اے ای کے بھائی کی وفات، پاکستانی صحافیوں کی جانب سے تعزیتی ریفرنس

پلاسٹک کے کوڑے سے پٹرول اور ڈیزل بنانے کا سستا طریقہ دریافت

Web Desk

25 September 2026

امریکی سرکاری تحقیقی ادارے ‘اوک رج نیشنل لیبارٹری’ (Oak Ridge National Laboratory) کے ماہرین نے پلاسٹک کے فضلے کو پیٹرول اور ڈیزل جیسے مائع ایندھن میں تبدیل کرنے کا ایک جدید طریقہ کار دریافت کیا ہے۔ اس نئی ٹیکنالوجی کو پاکستان جیسے ان ممالک میں پلاسٹک کے بڑھتے ہوئے کوڑے کے سنگین مسئلے سے نمٹنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے جہاں پلاسٹک کی آلودگی ایک بڑا ماحولیاتی چیلنج بن چکی ہے۔

لیبارٹری رپورٹ کے مطابق تجربات کے دوران پلاسٹک کے فضلے کو ایلومینیم کلورائیڈ کے پگھلے ہوئے نمکیات (Molten Salts) کے ساتھ ملا کر تقریباً 200 ڈگری سینٹی گریڈ درجہ حرارت پر گرم کیا گیا۔ اس کیمیائی عمل کے نتیجے میں پلاسٹک کے ایک بڑے حصے کو مائع ہائیڈروکاربن میں تبدیل کر دیا گیا، جس سے تقریباً 60 فیصد مواد کو ایندھن بنانے کی صلاحیت کا مشاہدہ کیا گیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طریقہ کار میں بنیادی طور پر پگھلے ہوئے نمکیات اور صنعتی بھٹی کا استعمال ہوتا ہے، تاہم بڑے پیمانے پر تجارتی پیداوار کے لیے توانائی کی لاگت، خام مال کی چھانٹی اور ماحولیاتی اثرات کا مزید جائزہ لینا ضروری ہوگا۔ پاکستان میں ہر سال شاپنگ بیگز، بوتلوں اور پیکجنگ کی صورت میں لاکھوں ٹن پلاسٹک فضلہ جمع ہوتا ہے؛ اگر اس ٹیکنالوجی کو صنعتی سطح پر لاگو کیا جائے تو ملک میں کوڑے کے انتظام کے ساتھ ساتھ متبادل ایندھن کے وسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔