LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایران کیخلاف کسی بھی طاقت کا اتحاد ناکامی سے دوچار ہوگا: ترجمان ایرانی فوج شہباز شریف کی نواز شریف سے ملاقات، ملکی سیاسی و معاشی صورتحال پر مشاورت صدر پوتن کی امریکہ میں جی 20 سربراہی اجلاس میں شرکت کا فیصلہ نہیں ہوا: کریملن پاکستان پوسٹ میں غیر قانونی بھرتیوں کا کیس، اسعد محمود تفتیش سے روپوش قرار پاکستان میں انتظامی یونٹس بنانے کے حوالے سے غور کرنا چاہئے: خواجہ آصف وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی دیوالی کے تہوار پر ہندو برادری کو مبارکباد وزیراعظم شہباز شریف کی آذربائیجان کو یوم فتح کی چھٹی سالگرہ پر مبارکباد شادی اور بچے پیدا کرنے کی ہمت کریں: پوپ لیو کی جنوبی امریکا میں نوجوانوں کو نصیحت سعودی عرب نے ریاض کی جانب داغے گئے 2 بیلسٹک اور 2 کروز میزائل تباہ کر دیے ڈی جی آئی ایس پی آر کا لاہور کی تین جامعات کا دورہ، طلبہ اور اساتذہ سے خصوصی نشستیں ٹرمپ کا سیاسی انتقام لینے اور دھمکیاں دینے پر ڈیموکریٹس کے خلاف تحقیقات کا حکم فضائی آلودگی میں لاہور دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں سرفہرست صدر اور وزیراعظم کا دیوالی پر ملک میں اتحاد، مذہبی ہم آہنگی کے فروغ پر زور امریکی فوج کا بحیرۂ عمان میں تجارتی جہاز کو نشانہ بنانے کا دعویٰ پاکستان اور سری لنکا کے درمیان دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز کا کل سے آغاز: بابر اعظم اور کوشال مینڈس اپنی ٹیموں کی قیادت کریں گے

پلاسٹک کے کوڑے سے پٹرول اور ڈیزل بنانے کا سستا طریقہ دریافت

Web Desk

25 September 2026

امریکی سرکاری تحقیقی ادارے ‘اوک رج نیشنل لیبارٹری’ (Oak Ridge National Laboratory) کے ماہرین نے پلاسٹک کے فضلے کو پیٹرول اور ڈیزل جیسے مائع ایندھن میں تبدیل کرنے کا ایک جدید طریقہ کار دریافت کیا ہے۔ اس نئی ٹیکنالوجی کو پاکستان جیسے ان ممالک میں پلاسٹک کے بڑھتے ہوئے کوڑے کے سنگین مسئلے سے نمٹنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے جہاں پلاسٹک کی آلودگی ایک بڑا ماحولیاتی چیلنج بن چکی ہے۔

لیبارٹری رپورٹ کے مطابق تجربات کے دوران پلاسٹک کے فضلے کو ایلومینیم کلورائیڈ کے پگھلے ہوئے نمکیات (Molten Salts) کے ساتھ ملا کر تقریباً 200 ڈگری سینٹی گریڈ درجہ حرارت پر گرم کیا گیا۔ اس کیمیائی عمل کے نتیجے میں پلاسٹک کے ایک بڑے حصے کو مائع ہائیڈروکاربن میں تبدیل کر دیا گیا، جس سے تقریباً 60 فیصد مواد کو ایندھن بنانے کی صلاحیت کا مشاہدہ کیا گیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طریقہ کار میں بنیادی طور پر پگھلے ہوئے نمکیات اور صنعتی بھٹی کا استعمال ہوتا ہے، تاہم بڑے پیمانے پر تجارتی پیداوار کے لیے توانائی کی لاگت، خام مال کی چھانٹی اور ماحولیاتی اثرات کا مزید جائزہ لینا ضروری ہوگا۔ پاکستان میں ہر سال شاپنگ بیگز، بوتلوں اور پیکجنگ کی صورت میں لاکھوں ٹن پلاسٹک فضلہ جمع ہوتا ہے؛ اگر اس ٹیکنالوجی کو صنعتی سطح پر لاگو کیا جائے تو ملک میں کوڑے کے انتظام کے ساتھ ساتھ متبادل ایندھن کے وسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔