LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
لاہور میں بسنت 2027 کی تاریخیں تبدیل، نوٹیفکیشن جاری ملک بھر میں کھیلوں کے فروغ کیلئے ٹیلنٹ کو بلاامتیاز مواقع دیں گے: وزیراعظم او آئی سی اجلاس شروع، عراقی وزیراعظم کی ثالثی کیلئے پاکستان کی ستائش خطے میں کسی بھی محاذ پر لڑائی کا مطلب جنگ جاری رہنا ہے: ایران کے پی حکومت مولانا کے بغیر چلے گی اور ترقی بھی کرے گی: گورنر فیصل کنڈی او آئی سی وزرائے خارجہ کونسل کا اجلاس آج بغداد میں ہوگا، اسحاق ڈار شرکت نہیں کریں گے خیبرپختونخوا میں معدنیات کے لائسنس پی ٹی آئی ادوار میں زیادہ دیئے گئے: خواجہ آصف خلیج میں توانائی تنصیبات پر حملے پاکستانی معیشت کیلئے تشویش کا باعث ہیں: وزیر خزانہ خیبر پختونخوا میں ایکشن پلان تیار، 27 محکموں کیلئے بڑے اقدامات تجویز سرکاری عہدہ ملازمت نہیں، عوامی خدمت کا ذریعہ ہے: مریم نواز فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ: بجلی 2 روپے 56 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی تیاری مشین ریڈایبل پاسپورٹ بند، اب صرف ای پاسپورٹ جاری ہوں گے سانحہ پشاور: سکول کی عمارت ناقص تعمیر کے باعث منہدم ہوئی، رپورٹ پولیس چیف کو ارسال پاکستان نے علاقائی استحکام کے فروغ کیلئے مؤثر کردار ادا کیا: رضوان سعید امریکی میڈیکیئر فنڈز میں 1 کروڑ 80 لاکھ ڈالر کے فراڈ میں مطلوب تین ملزمان کے پاکستان میں ہونے کا انکشاف

پلاسٹک کے کوڑے سے پٹرول اور ڈیزل بنانے کا سستا طریقہ دریافت

Web Desk

25 September 2026

امریکی سرکاری تحقیقی ادارے ‘اوک رج نیشنل لیبارٹری’ (Oak Ridge National Laboratory) کے ماہرین نے پلاسٹک کے فضلے کو پیٹرول اور ڈیزل جیسے مائع ایندھن میں تبدیل کرنے کا ایک جدید طریقہ کار دریافت کیا ہے۔ اس نئی ٹیکنالوجی کو پاکستان جیسے ان ممالک میں پلاسٹک کے بڑھتے ہوئے کوڑے کے سنگین مسئلے سے نمٹنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے جہاں پلاسٹک کی آلودگی ایک بڑا ماحولیاتی چیلنج بن چکی ہے۔

لیبارٹری رپورٹ کے مطابق تجربات کے دوران پلاسٹک کے فضلے کو ایلومینیم کلورائیڈ کے پگھلے ہوئے نمکیات (Molten Salts) کے ساتھ ملا کر تقریباً 200 ڈگری سینٹی گریڈ درجہ حرارت پر گرم کیا گیا۔ اس کیمیائی عمل کے نتیجے میں پلاسٹک کے ایک بڑے حصے کو مائع ہائیڈروکاربن میں تبدیل کر دیا گیا، جس سے تقریباً 60 فیصد مواد کو ایندھن بنانے کی صلاحیت کا مشاہدہ کیا گیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طریقہ کار میں بنیادی طور پر پگھلے ہوئے نمکیات اور صنعتی بھٹی کا استعمال ہوتا ہے، تاہم بڑے پیمانے پر تجارتی پیداوار کے لیے توانائی کی لاگت، خام مال کی چھانٹی اور ماحولیاتی اثرات کا مزید جائزہ لینا ضروری ہوگا۔ پاکستان میں ہر سال شاپنگ بیگز، بوتلوں اور پیکجنگ کی صورت میں لاکھوں ٹن پلاسٹک فضلہ جمع ہوتا ہے؛ اگر اس ٹیکنالوجی کو صنعتی سطح پر لاگو کیا جائے تو ملک میں کوڑے کے انتظام کے ساتھ ساتھ متبادل ایندھن کے وسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔