LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
مریم نواز سے استحکام پاکستان پارٹی کے ارکان قومی اسمبلی کی ملاقات، سیاسی امور پر تبادلہ خیال لاہور: چیف جسٹس پاکستان اور وفاقی آئینی عدالت کے چیف جسٹس کے اعزاز میں استقبالیہ ڈیزل سستا ہونے کے بعد گڈز ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں 10 فیصد کمی پٹرولیم لیوی واپس نہ لی تو اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کریں گے: حافظ نعیم الرحمن عمران خان کی ہسپتال منتقلی کے خلاف حکومتی درخواست اعتراض لگا کر واپس حوثی حملے میں زخمی 6 پاکستانی ملاح وطن واپس، 2 میتیں بھی منتقل محنت اور خون پسینے کی کمائی کو رشوت کی نذر نہیں ہونے دیا جائے گا: مریم نواز وزیراعظم نے اپوزیشن کو معاملات طے کرنے کی دعوت دے دی ملائیشیا کے وزیر داخلہ 2 روزہ دورے پر پاکستان پہنچ گئے ملک کے مختلف علاقوں میں موسلادھار بارش، سیلاب کا خدشہ وفاقی کابینہ کا اجلاس طلب، امن و امان، قانون سازی، بانی کے معاملے پر غور ہوگا ملک بھر کے دریاؤں اور آبی ذخائر میں پانی کی صورتحال: تربیلا، منگلا اور چشمہ میں ریکارڈ اسٹاک موجود مریم نواز کا ستھرا پنجاب ورکر کو ہر ماہ 5 تاریخ سے قبل ادائیگی یقینی بنانے کا حکم ایران کی جانب سے خطرات، رکن ممالک کے دفاع کے لیے تیار ہیں: نیٹو پیڈا ایکٹ کے تحت بغیر انکوائری ملازم کو برطرف کرنا غیر قانونی قرار

چاند کی سطح پر راکٹ ٹکرانے کے بعد بننے والے گڑھے کی تصاویر جاری

Web Desk

20 August 2026

واشنگٹن: امریکی خلائی تحقیقاتی ادارے ‘ناسا’ (NASA) نے چاند کی سطح پر مشہور امریکی خلائی کمپنی اسپیس ایکس (SpaceX) کے فالکن 9 راکٹ کے اوپری حصے کے ٹکرانے کے بعد بننے والے گڑھے (Crater) کی اب تک کی سب سے واضح اور باریک بین تصاویر جاری کر دی ہیں۔

ناسا کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق اسپیس ایکس فالکن 9 راکٹ کا استعمال شدہ اوپری حصہ 5 اگست 2026 کو تقریباً 8,700 کلومیٹر فی گھنٹہ (5,400 میل فی گھنٹہ) کی خوفناک رفتار سے چاند کی سطح سے ٹکرایا تھا۔ یہ راکٹ جنوری 2025 میں زمین سے لانچ کیا گیا تھا اور اپنا مشن مکمل کرنے کے بعد ایک سال سے زائد عرصے تک خلا میں غیر کنٹرول شدہ حالت میں گردش کرتا رہا۔

یہ راکٹ سال 2025 میں دو نجی قمری مشنز اور ایک چھوٹی روور گاڑی (Rover Vehicle) کو چاند کی سمت روانہ کرنے کی مہم کا حصہ تھا، جس کا مقصد چاند کی تلاش اور تسخیر میں نجی تجارتی کمپنیوں کے کردار کو بڑھانا تھا۔ ناسا کی جانب سے جاری کی گئی نئی سیٹلائٹ تصاویر میں راکٹ کے ٹکرانے سے پہلے اور بعد کے قمری مناظر کا موازنہ کر کے واضح نشانات دکھائے گئے ہیں۔

فلکیاتی سائنس دانوں اور محققین کا کہنا ہے کہ راکٹ کی شدید ٹکر کے نتیجے میں چاند کی سطح پر بننے والا نیا گڑھا تقریباً 60 فٹ چوڑا اور 10 فٹ سے کم گہرا ہے۔ جاری کردہ تصاویر میں گڑھے کے گرد چاند کی سطح پر روشن اور گہرے رنگ کے دھبے اور لکیریں دکھائی دیتی ہیں، جو ٹکراؤ کے بعد اڑنے والی چاند کی مٹی اور ملبے کی نشاندہی کرتی ہیں۔ ناسا کا کہنا ہے کہ یہ تصاویر فلکیاتی ماہرین کو قمری سطح پر مصنوعی اجسام کے اثرات اور مٹی کی بناوٹ کو سمجھنے میں مدد فراہم کریں گی۔