پاکستان کو 9 لاکھ نرسز کی ضرورت؛ جعلی ڈگری ہولڈر صدر اور کونسل مافیا کے خلاف وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کا بڑا ایکشن
Web Desk
8 June 2026
اسلام آباد: وفاقی وزیرِ صحت سید مصطفیٰ کمال نے پاکستان نرسنگ کونسل (PNC) میں برسوں سے قابض کرپٹ مافیا، جعلی ڈگری ہولڈر صدر اور کالجز کی رجسٹریشن کے نام پر ہونے والی کروڑوں روپے کی لوٹ مار کا پردہ چاک کرتے ہوئے نرسنگ کے شعبے میں ہنگامی مروجہ اصلاحات کا اعلان کر دیا ہے۔
پاکستان نرسنگ کونسل کے دورے کے موقع پر ایک ہنگامی اور اہم ترین پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کونسل کے اندرونی مینوئل معاملات اور عالمی مارکیٹ میں پاکستان کی موجودہ پوزیشن پر تفصیلی بریفنگ دی۔سید مصطفیٰ کمال نے نرسنگ کے شعبے میں افرادی قوت کے مروجہ اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے خطے کے دیگر ممالک سے موازنہ کیا اس وقت صرف پاکستان کے اندر ہی مینوئل ہیلتھ کیئر سسٹم کو چلانے کے لیے 9 لاکھ نرسنگ اسٹاف کی شدید اور فوری ضرورت ہے۔دنیا بھر کی ہیلتھ مارکیٹ میں اس وقت مجموعی طور پر 25 لاکھ نرسز کی گنجائش اور طلب موجود ہے۔ہمارے پڑوسی ممالک کی تقریباً 6 لاکھ نرسز اس وقت بیرونِ ملک خدمات سرانجام دے کر قیمتی زرِ مبادلہ کما رہی ہیں، جبکہ اس کے برعکس پاکستان کی صرف 6 ہزار نرسز ہی بیرونِ ممالک کام کر رہی ہیں، جو کہ انتہائی مروجہ تضاد ہے۔
وزیرِ صحت کا کہنا تھا کہ ہمارے ہاں نرسز کی شدید کمی ہے اور ہمیں اس سائنسی و طبی شعبے کو بہتر بنانے کے لیے مینوئل بنیادوں پر کام کرنا ہوگا۔پاکستان نرسنگ کونسل کی سابقہ انتظامیہ کی کرپشن پر کڑی تنقید کرتے ہوئے وفاقی وزیرِ صحت نے سنسنی خیز انکشافات کیے
“نرسنگ کونسل میں ایک باقاعدہ مافیا بیٹھا ہوا تھا، جس نے پورے ادارے کو مینوئل طور پر مفلوج کر رکھا تھا۔ کونسل کی سابقہ صدر خود جعلی ڈگری پر اس اعلیٰ عہدے پر متمکن تھیں اور ان کے چارج کے حوالے سے بے شمار مروجہ قانونی مسائل کھڑے تھے۔”
انہوں نے مزید بتایا پرانی کونسل کی پوزیشن یہ تھی کہ اس کے 80 فیصد ممبران نے خود اپنی ہی صدر اور دیگر مینوئل عہدیداروں کے خلاف عدالتوں میں کیسز دائر کر رکھے تھے۔ کونسل کے اندر ڈپٹی رجسٹرار سمیت ایک پورا مافیا متحرک تھا، جو ملک بھر میں غیر قانونی دھندے چلا رہا تھا۔کروڑوں روپے کا فراڈ: ملک میں نئے نرسنگ کالجز کی منظوری اور رجسٹریشن کی مد میں معصوم شہریوں اور سرمایہ کاروں سے مینوئل گائیڈ لائنز کے خلاف جا کر کروڑوں روپے بطور رشوت بٹورے جا رہے تھے۔
متعلقہ عنوانات
پمز ہسپتال کی آتشزدگی میں زندہ بچ جانے والی نومولود بچی انتقال کر گئی
17 September 2026
جی ایل پی-1 ادویات استعمال کرنے والوں میں نایاب بیماری کا انکشاف
17 September 2026
خیبر پختونخوا صحت پروگرام میں سی سیکشن کی شرح 47 فیصد سے تجاوز کرگئی
17 September 2026
وزیراعظم کی 3 ماہ میں پمز ہسپتال میں فائر سیفٹی سمیت نظام بہتر کرنے کی ہدایت
16 September 2026
ملک بھر میں 20 ستمبر کو ایم ڈی کیٹ کا انعقاد: 1 لاکھ 38 ہزار سے زائد طلبہ امتحان دیں گے، وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال
16 September 2026
حالتِ سکون میں پاؤں کی ہڈیوں میں درد دل کی خطرناک بیماری کی علامت، ماہرین
16 September 2026
سانحہ پمز؛ 14 نومولود کیوں نہیں بچائے جا سکے؟ انکوائری رپورٹ میں انکشافات
15 September 2026
خواتین میں مصنوعی پلکوں کا استعمال، ماہرین نے خطرے کی گھنٹی بجا دی
15 September 2026