اینٹی ڈپریسنٹ ادویات سے متعلق تشویشناک انکشاف!
Web Desk
8 June 2026
نفسیاتی امراض اور ذہنی صحت کے حوالے سے کی جانے والی ایک جدید ترین سائنسی تحقیق میں یہ سنسنی خیز انکشاف سامنے آیا ہے کہ ڈپریشن اور ذہنی دباؤ کے لیے استعمال ہونے والی اینٹی ڈپریسنٹ (Antidepressant) ادویات کا طویل عرصے تک استعمال مریض کو فائدے کے بجائے صحت کے شدید مروجہ خطرات سے دوچار کر سکتا ہے۔
طبی رپورٹ کے مروجہ اعداد و شمار کے مطابق، اس وقت دنیا بھر میں 33 کروڑ سے زائد افراد ڈپریشن کے عارضے میں مبتلا ہیں، جن کی ایک بہت بڑی تعداد روزانہ کی بنیاد پر یہ نفسیاتی ادویات استعمال کر رہی ہے۔ اس مینوئل ڈیٹا میں سب سے دلچسپ پوزیشن یہ سامنے آئی ہے کہ مردوں کے مقابلے میں خواتین میں ان ادویات کا استعمال تقریباً دوگنا زیادہ دیکھا گیا ہے۔
عالمی صحت کے اداروں کے مینوئل گائیڈ کے مطابق، امریکہ، برطانیہ اور آسٹریلیا جیسے اعلیٰ آمدنی والے ترقی یافتہ ممالک میں اینٹی ڈپریسنٹس ادویات کا استعمال ایک فیشن یا مستقل عادت بن چکا ہے۔ وہاں ڈاکٹرز کی جانب سے تجویز کی جانے والی یہ ادویات مریض سالہا سال تک بغیر کسی معائنے کے طویل مدت تک باقاعدگی سے لیتے رہتے ہیں، جو ان کے مروجہ اعصابی نظام کو مفلوج کر رہا ہے
اس مروجہ سائنسی سائنسی جائزے نے ماضی کے اس طبی مفروضے کو یکسر مسترد کر دیا ہے جس کے تحت یہ ادویات بیچی جاتی تھیں:
“ماضی میں یہ مینوئل دعویٰ کیا جاتا تھا کہ یہ ادویات دماغ میں موجود ‘سیروٹونن’ (Serotonin) نامی کیمیائی مادے (ہیپی ہارمون) کی بنیادی کمی کو دور کر کے ڈپریشن ختم کرتی ہیں۔ تاہم، بڑھتی ہوئی جدید سائنسی تحقیقات اب یہ واضح اشارہ دے رہی ہیں کہ اینٹی ڈپریسنٹس دماغ میں کسی ایسی مروجہ کیمیائی کمی کو دور کر کے کام نہیں کرتیں، بلکہ ان کے فوائد انتہائی محدود ہیں۔”
محققین نے ان ادویات کے عادی مریضوں کے حوالے سے ایک بڑی پوزیشن واضح کرتے ہوئے خبردار کیا ہے اینٹی ڈپریسنٹس کا طویل المدت استعمال جسم کو اس کا محتاج بنا دیتا ہے۔ جب کوئی مریض اچانک یا بتدریج یہ دوا چھوڑنے کی کوشش کرتا ہے، تو اس کے دوران شدید اور انتہائی تکلیف دہ واپسی کی علامات (Withdrawal Symptoms) پیدا ہوتی ہیں۔ بعض افراد میں دوا چھوڑنے کے بعد پیدا ہونے والی یہ ذہنی اور جسمانی علامات، اصل ڈپریشن کی بیماری سے بھی کہیں زیادہ سنگین اور خطرناک ثابت ہوتی ہیں۔
تحقیق کے مینوئل اختتام پر ماہرینِ طب اور سائنس دانوں نے دنیا بھر کے معالجین اور ماہرینِ نفسیات پر زور دیا ہے کہ وہ مریضوں کو اندھا دھند طویل عرصے کے لیے یہ ادویات تجویز کرنے سے گریز کریں۔ انہوں نے نئی طبی مینوئل گائیڈ لائنز جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ڈاکٹرز کے لیے لازمی ہونا چاہیے کہ وہ ہر چھ ماہ بعد اپنے مریض کی ذہنی پوزیشن اور اس کے علاج کا ازسرِنو تفصیلی جائزہ لیں، تاکہ مریض کو ان ادویات کے مروجہ مہلک اثرات سے محفوظ رکھ کر متبادل قدرتی علاج کی طرف راغب کیا جا سکے۔
متعلقہ عنوانات
ورزش سے دل پر مرتب ہونیوالے ایک حیرت انگیز اثر کا انکشاف
27 October 2026
خیبر پختونخوا میں ایم پاکس کے 4 نئے تصدیق شدہ کیسز رپورٹ
27 October 2026
کینسر کی واپسی کو 42 فیصد تک کم کرنے والی ویکسین تیار
27 October 2026
پی ایم ڈی سی کی میڈیکل اینڈ ڈینٹل ایڈمیشن پالیسی 2026 جاری، بھاری جرمانوں کا فیصلہ
27 October 2026
ادویات کی قیمتوں میں بلاجواز اضافہ قابلِ قبول نہیں: احد چیمہ
26 October 2026
پی ایم ڈی سی کی میڈیکل اینڈ ڈینٹل ایڈمیشن پالیسی 2026 جاری، بھاری جرمانوں کا فیصلہ
26 October 2026
سانس لینے کی مخصوص مشقیں ذہنی کیفیت تبدیل کر سکتی ہیں: تحقیق
26 October 2026
وزیراعظم 27 اکتوبر کو پاک چائنا فرینڈشپ ہسپتال کا افتتاح کریں گے: مصطفیٰ کمال
26 October 2026