LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
کوہاٹ پولیس لائنز مسجد حملے میں شہید ہونے والوں کی نماز جنازہ ادا تحریک تحفظ آئین کا اجلاس، 27 ستمبر کا احتجاج ملک بھر میں پھیلانے کا فیصلہ وزیراعظم خصوصی ریلیف سکیم کا پورے پاکستان میں کامیاب اجرا پٹرولیم لیوی ختم نہ ہوئی تو 20 ستمبر سے سپر لانگ مارچ ہوگا: حافظ نعیم الرحمان حکومت تحریک انصاف کو سپیس دینے کیلئے تیار نہیں: فواد چودھری لندن سے بنگلادیش جانیوالی پرواز میں مسافروں کے درمیان جھگڑے کی ویڈیو وائرل امریکا میں تربیتی مشق کے دوران ایف 16 طیارہ گر کر تباہ اسلام آباد میں احتجاجی مظاہروں کے پیش نظر پولیس اہلکاروں کی چھٹیوں پر پابندی اسلام آباد میں احتجاج سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں: محسن نقوی پٹرول کی قیمت میں اضافہ عوام کی مشکلات بڑھا رہا ہے، گورنر خیبر پختونخوا کوہاٹ پولیس لائنز میں دھماکہ،15افراد شہید،25 افراد زخمی اسلام آباد ہائیکورٹ نے تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا؛ بنیادی حقوق پر آئینی توازن قائم رکھنے کا حکم ایران سے ڈیل ہو نہ ہو، جنگ میں جیت امریکا کی ہوگی: ٹرمپ چھوٹے کاروباروں کے لیے شریعہ کمپلائنٹ ڈیجیٹل فنانسنگ کی منظوری پاکستان کے عوام کی بدحالی کسی بھی سیاسی جماعت کا مسئلہ نہیں: حافظ نعیم الرحمان

لبنان کے اسپتال زخمیوں سے بھرگئے، ادویات اورطبی آلات کی قلت سے شدید مشکلات

Web Desk

10 April 2026

لبنان کے دارالحکومت میں حالیہ اسرائیلی حملوں کے بعد اسپتال زخمیوں کے بڑھتے ہوئے دباؤ سے نمٹنے میں شدید مشکلات کا شکار ہو گئے ہیں، جبکہ ڈاکٹروں نے خبردار کیا ہے کہ طبی سہولیات اور ضروری سامان تیزی سے ختم ہو رہا ہے۔

بدھ کو اسرائیلی فضائی حملوں میں ملک بھر میں 100 سے زائد مقامات کو چند منٹوں میں نشانہ بنایا گیا، جس کے بعد سینکڑوں زخمیوں کو مختلف اسپتالوں میں منتقل کیا گیا۔ بیروت اسپتال میں ایک گھنٹے کے اندر 70 سے زائد زخمی لائے گئے، جن میں سے کئی جانبر نہ ہو سکے۔

لبنانی وزارت صحت کے ابتدائی اعداد و شمار کے مطابق ان حملوں میں 300 سے زائد افراد جاں بحق اور ایک ہزار سے زیادہ زخمی ہوئے، جن میں بڑی تعداد بچوں، خواتین اور بزرگوں کی ہے۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ زیادہ تر اموات عمارتیں گرنے اور دھماکوں کے باعث ہونے والی شدید چوٹوں کی وجہ سے ہوئیں۔

طبی عملے کے مطابق اسپتالوں میں آنے والے شدید زخمیوں میں کمسن بچے بھی شامل ہیں، جن میں چند ماہ کے شیر خوار بچے بھی انتہائی نگہداشت میں زیر علاج ہیں۔

امدادی کارکنوں کا کہنا ہے کہ کئی خاندان اپنے لاپتہ عزیزوں کو تلاش کرتے ہوئے اسپتالوں کا رخ کر رہے ہیں، جس سے صورتحال مزید دلخراش ہو گئی ہے۔

لبنانی ریڈ کراس کے حکام نے اس صورتحال کو “خواب ناک” قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسپتال پہلے ہی محدود وسائل کے ساتھ کام کر رہے تھے، اور اب یہ حملے نظامِ صحت پر اضافی بوجھ ڈال رہے ہیں۔ کئی اسپتالوں میں ادویات اور طبی آلات کی قلت پیدا ہو رہی ہے جبکہ عالمی ادارہ صحت نے بھی خبردار کیا ہے کہ چند دنوں میں اہم طبی کٹس ختم ہو سکتی ہیں۔