LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
علیم خان صرف بیان نہ دیں، استعفیٰ دے کر اپوزیشن بینچوں پر بیٹھیں: سوشل میڈیا صارفین کا شدید ردِعمل امریکا نے چین، بھارت، روس اور ایران کے اداروں پر نئی پابندیاں لگا دیں سینٹ کام نے ایران کے امریکی طیارے تباہ کرنے کے دعوے مسترد کر دیئے ہمارے مخالفین آپس میں کسی بات پر متفق نہیں، ہماری سیاست صرف ترقی ہے: احسن اقبال بھارت کی موجودہ قیادت نفرت کی سیاست سے اپنے ہی ملک کو نقصان پہنچا رہی ہے: سفیر فیصل نیاز ترمذی پٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں ایک بار پھر اضافہ، نوٹیفکیشن جاری خضدار میں سکیورٹی فورسز کا آپریشن، 4 دہشت گرد جہنم واصل بھارت فلسطین کیخلاف اسرائیل کو اسلحہ اور دفاعی پرزے فراہم کرتا رہا: ایمنسٹی انٹرنیشنل ترک وزیر خارجہ کی حماس کے نئے سربراہ خلیل الحیہ سے ملاقات، امن مذاکرات پر زور اسحاق ڈار اور سعودی وزیر خارجہ کا رابطہ، علاقائی اور عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال وفاقی آئینی عدالت کا ریٹائرڈ ملازمین کے حق میں بڑا فیصلہ وزیراعظم کی بجلی چوری کے خاتمے کیلئے سخت اقدامات کی ہدایت کشمیر میں انتخابات کا فیصلہ بیلٹ سے ہونا چاہئے، بلٹ سے نہیں: بلاول بھٹو نئے انتظامی یونٹس ہی مسائل کا حل، معاملہ عوام کے پاس لے جانا ہوگا: محسن نقوی ایران کا اردن میں امریکی ایئربیس پر حملہ، تین ایف 35 طیارے تباہ کرنے کا دعویٰ

9مئی مقدمات کا تحریری فیصلہ، محمود کو 33، یاسمین اور عمر چیمہ کو 10، 10 سال قید

Web Desk

26 December 2025

انسداد دہشت گردی عدالت لاہور نے نو مئی کے دو مقدمات کا تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ عدالت نے میاں محمود الرشید کو مجموعی طور پر 33 سال قید اور 6 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی، جبکہ ڈاکٹر یاسمین راشد، اعجاز چوہدری اور عمر سرفراز چیمہ کو دس دس سال قید کی سزا دی گئی۔

فیصلے کے مطابق محمود الرشید کو مختلف سیکشنز کے تحت الگ الگ سزائیں سنائی گئیں۔ جرم ثابت نہ ہونے پر 23 ملزمان کو بری کر دیا گیا، جبکہ رہنماؤں سمیت سات ملزمان کو قصوروار ٹھہرا کر قید کی سزا سنائی گئی۔

عدالت نے قرار دیا کہ پراسکیوشن کے مطابق ڈاکٹر یاسمین راشد سمیت چار رہنماؤں نے ملک میں جلاؤ گھیراؤ کے لیے عوام میں انتشار پھیلایا۔ پراسکیوشن کی جانب سے واٹس ایپ پیغامات، 70 سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی تفصیلات اور فرانزک رپورٹس پیش کی گئیں۔ فیصلے میں کہا گیا کہ جے آئی ٹی نے ملزمان کو قصوروار قرار دیا اور رپورٹ کو کسی فورم پر چیلنج نہیں کیا گیا، جبکہ پراسکیوشن اپنا کیس ثابت کرنے میں کامیاب رہی۔