LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایران کے پاس ایسا کوئی نہیں ہے جس سے مذاکرات کیے جائیں: ٹرمپ امارات نے اسرائیل جانے والی پرواز کی ہنگامی لینڈنگ کو دہشتگردی قرار دیدیا برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ کی نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار سے ملاقات، دوطرفہ تعلقات اور علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال سیاسی جماعتوں سےامید نہیں رہی، اصلاح نہ ہوئی تو کاکروچ باہر آئیں گے: سعد رفیق پاکستانی شہریوں کے قتل پر بھارتی ناظم الامور کی دفتر خارجہ طلبی، باضابطہ احتجاج ایف سی بلوچستان کے درجنوں میڈیکل کیمپس، ہزاروں مریضوں کا مفت علاج خیبرپختونخوا کے جنوبی اضلاع میں 4 ارب 29 کروڑ روپے کی گیس چوری دوا فروخت کرنے کیلئے ڈاکٹر بھی لائسنس کا پابند ہے، وفاقی آئینی عدالت خیبر پختونخوا حکومت نے لانگ مارچ کے ذریعے بدامنی کا منصوبہ بنا لیا: خواجہ آصف فرانس میں طلبہ کا احتجاج، پولیس سے جھڑپیں، 1,747 افراد گرفتار حکومت اور پی ٹی آئی میں مذاکرات کا اگلا دور آج ہوگا، حتمی فیصلے متوقع جموں و کشمیرنہ کبھی بھارت کا اٹوٹ انگ تھا، نہ ہے اورنہ ہوگا، پاکستان آن لائن گیمز کے منفی اثرات، برطانیہ پلٹ نوجوان نے لاہور میں بینک لوٹ لیا سعودی عرب کے شہر نجران میں حوثیوں کا داغا گیا میزائل سکول سے ٹکرا گیا آبنائے ہرمز سے باہر نکلنے کے راستے پر گامزن آئل ٹینکر پر میزائل حملہ

9مئی مقدمات کا تحریری فیصلہ، محمود کو 33، یاسمین اور عمر چیمہ کو 10، 10 سال قید

Web Desk

26 December 2025

انسداد دہشت گردی عدالت لاہور نے نو مئی کے دو مقدمات کا تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ عدالت نے میاں محمود الرشید کو مجموعی طور پر 33 سال قید اور 6 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی، جبکہ ڈاکٹر یاسمین راشد، اعجاز چوہدری اور عمر سرفراز چیمہ کو دس دس سال قید کی سزا دی گئی۔

فیصلے کے مطابق محمود الرشید کو مختلف سیکشنز کے تحت الگ الگ سزائیں سنائی گئیں۔ جرم ثابت نہ ہونے پر 23 ملزمان کو بری کر دیا گیا، جبکہ رہنماؤں سمیت سات ملزمان کو قصوروار ٹھہرا کر قید کی سزا سنائی گئی۔

عدالت نے قرار دیا کہ پراسکیوشن کے مطابق ڈاکٹر یاسمین راشد سمیت چار رہنماؤں نے ملک میں جلاؤ گھیراؤ کے لیے عوام میں انتشار پھیلایا۔ پراسکیوشن کی جانب سے واٹس ایپ پیغامات، 70 سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی تفصیلات اور فرانزک رپورٹس پیش کی گئیں۔ فیصلے میں کہا گیا کہ جے آئی ٹی نے ملزمان کو قصوروار قرار دیا اور رپورٹ کو کسی فورم پر چیلنج نہیں کیا گیا، جبکہ پراسکیوشن اپنا کیس ثابت کرنے میں کامیاب رہی۔