LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پولیس اور عدالتی نظام ناقص ، پورے سسٹم کو جڑ سے اکھاڑنا ہوگا: حافظ نعیم الرحمان سندھ طاس معاہدے کی پاسداری علاقائی امن و استحکام کیلئے ضروری ہے: اسحاق ڈار ٹرمپ کی ایران کو نئی دھمکی، رائفل تھامے تصویر کیساتھ ’نو مور نائس گائے‘ کا پیغام امریکا ایران تنازع کا واحد قابلِ عمل حل مذاکرات اور سفارت کاری ہے: چین آبنائے ہرمز سے کسی جہاز کو بغیر اجازت گزرنے کی اجازت نہیں: ایران امریکا کو سمجھنا ہوگا کہ دباؤ سے سفارتکاری بحال نہیں ہوسکتی: عباس عراقچی ایل این جی کی قیمتوں میں بڑی کمی، اوگرا نے نوٹیفکیشن جاری کردیا روسی اخبارات میں سی آئی اے چیف کے دورہ ماسکو، برطانیہ کو روسی انتباہ اور سوئس پابندیوں کے مستقبل پر بحث پنجاب اسمبلی میں بجلی کی غیراعلانیہ لوڈشیڈنگ کے خلاف قرارداد متفقہ طور پر منظور پاکستان کے پورٹ سسٹم میں اصلاحات، 85 اقدامات پر عملدرآمد پی ٹی آئی نے الیکشن کمیشن میں مالی گوشواروں کی تفصیلات جمع کرادیں نو منتخب وزیراعظم آزاد کشمیر افتخار گیلانی نے عہدے کا حلف اٹھا لیا این ای ڈی یونیورسٹی اور پاکستان سافٹ ویئر ایکسپورٹ بورڈ کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط ایران نے امریکی پابندیوں کو ریاستی دہشتگردی قرار دے دیا ہاکی ورلڈ کپ: پاکستان نے جنوبی افریقہ کو ہرا کر 11ویں پوزیشن حاصل کرلی

شفاف اور فوری انتخابات کرائے جائیں، ملک میں عوامی مینڈیٹ کی بحالی ضروری ہے: مولانا فضل الرحمان

Web Desk

18 May 2026

جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے ملک میں دوبارہ آزاد، شفاف اور منصفانہ انتخابات کرانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ صورتحال میں عوامی مینڈیٹ کی اصل روح بحال کرنا ناگزیر ہو چکا ہے۔

کراچی پریس کلب میں میٹ دی پریس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صدر آصف علی زرداری ایوان صدر میں رہتے ہوئے کوئی مؤثر سیاسی کردار ادا نہیں کر سکتے، انہیں عوامی سطح پر آ کر بات کرنا ہوگی۔

مولانا فضل الرحمان نے ملک کی مجموعی صورتحال کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال بگڑ رہی ہے جبکہ اندرون سندھ جرائم پیشہ عناصر سرگرم ہیں۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ حکمران طبقہ نہ تو امن و امان کے مسائل پر سنجیدہ ہے اور نہ ہی معیشت کی بہتری کے لیے کوئی واضح حکمت عملی نظر آتی ہے۔ عام شہری مہنگائی اور معاشی دباؤ کے باعث شدید مشکلات کا شکار ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ بظاہر عوام کو ووٹ ڈالنے کا حق حاصل ہے لیکن انتخابی عمل پر مسلسل سوالات اٹھ رہے ہیں، جس سے پارلیمان کی حقیقی نمائندگی پر بحث جنم لے رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ریاست عوام سے بنتی ہے، اور اگر عوامی رائے کو کمزور کیا جائے تو نظام اپنی بنیاد کھو دیتا ہے۔

اٹھائیسویں آئینی ترمیم کے حوالے سے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ حکومت کی جانب سے اس پر کوئی واضح پالیسی سامنے نہیں آئی، تاہم وہ نظام کے اندر رہتے ہوئے تمام معاملات پر بات چیت کے حامی ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ملک میں شفاف انتخابات کا انعقاد ضروری ہے تاکہ سیاسی استحکام آئے اور عوامی مسائل حل ہوں، تاہم سیاسی مبصرین کے مطابق اس مطالبے سے بالواسطہ طور پر پی ٹی آئی کے اس مؤقف کو تقویت ملتی ہے کہ انتخابی عمل پر سوالات موجود ہیں۔

پاکستان اور افغانستان کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک ایک دوسرے کے لیے ناگزیر ہیں اور خطے کے مسائل کے حل کے لیے مشترکہ تعاون ضروری ہے۔