LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ اسلامی دنیا کیلئے مثبت پیغام ہے: ترک صدر پنجاب حکومت نے سہیل آفریدی کو سکیورٹی فراہم کر کے ذمہ داری کا ثبوت دیا: سلمان رفیق فلسطینیوں پر مظالم: ناروے کی اسرائیلی آبادکاروں سے تجارت پر پابندی کی تجویز علاقائی کشیدگی: سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان آج مصر کا دورہ کریں گے آبنائے ہرمز میں آئل ٹینکر بارودی سرنگوں سے ٹکرا کر تباہ سعودی عرب کے 3 شہروں پر حوثیوں کے حملے، 13 افراد زخمی سکیورٹی خدشات: شہزادہ ہیری نے دونوں بچوں کو اچانک سکول سے اٹھا لیا یمن کی صورتحال پر گہری نظر، حوثیوں سے براہ راست مذاکرات جاری ہیں: جے ڈی وینس آئین پاکستان تمام شہریوں کے بنیادی حقوق کا محافظ ہے: وزیراعظم کا یوم جمہوریہ پر پیغام ایران کا شرائط پوری ہونے تک امریکا سے مذاکرات سے پھر انکار تیل کی قیمتوں کو کنٹرول کرنا اب ممکن نہیں رہا: ایرانی سپیکر سینٹ کام نے ایل گایا ٹینکر بارودی سرنگ سے ٹکرانے کا ایرانی دعویٰ مسترد کردیا امریکیوں نے ایک دہشتگرد انتظامیہ قائم کر رکھی ہے: ایرانی صدر ایران کی تکنیکی اور معاشی مدد: امریکا کی روسی بینک پر پابندیاں عائد مریم نواز کو دوسرے صوبوں سے خطرہ، مجھے پنجابیوں سے خطرہ نہیں: سہیل آفریدی

72 سالہ ملائیشین فٹبال لیجنڈ نے 20 سالہ لڑکی سے شادی کرلی

Web Desk

15 September 2026

ملائیشیا کے سابق قومی فٹبال اسٹار داتوک عبدہ علیف نے 72 سال کی عمر میں خود سے 52 برس چھوٹی 20 سالہ لڑکی سے شادی کر لی ہے۔ ملائیشین میڈیا کے مطابق داتوک عبدہ علیف کی اس دوسری شادی کی تصدیق ان کے چھوٹے بھائی اور سابق قومی کوچ داتوک یونس علیف نے کی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ شادی 27 اگست کو دونوں خاندانوں کی مکمل رضامندی اور خوشی کے ساتھ انجام پائی اور اس رشتے میں کسی قسم کی رکاوٹ پیش نہیں آئی، جبکہ قریبی رشتہ داروں نے نو بیاہتا جوڑے کے لیے نیک خواہشات کا اظہار بھی کیا ہے۔

عبدہ علیف کی شادی کی تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد ان کے سابق ساتھی کھلاڑیوں نے بھی اس کی تصدیق کی ہے۔ داتوک عبدہ علیف ملائیشین فٹبال کی تاریخ کے معروف نام ہیں جنہوں نے 1970ء کے اواخر اور 1980ء کے اوائل میں ملائیشیا کے سنہری دور میں کلیدی کردار ادا کیا۔ وہ 1980ء کے ماسکو اولمپکس کے لیے کوالیفائی کرنے والی تاریخی ملائیشین ٹیم کے اہم رکن بھی رہے، اگرچہ بعد میں ملائیشیا نے ان کھیلوں کا بائیکاٹ کر دیا تھا۔