LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ماہ نور صفدر کی نکاح کی تقریب، شہباز شریف سمیت اہم شخصیات جاتی امرا پہنچ گئیں پرائیویٹ حج سکیم: 7600 عازمین کی بکنگ مکمل ہو چکی: ترجمان مذہبی امور نئے صوبوں کے قیام کیلئے پورے ملک میں ریفرنڈم کرایا جائے: فاروق ستار سندھ بلدیاتی ترمیمی ایکٹ 2026 پر خصوصی کمیٹی کا اجلاس بے نتیجہ ختم 20 ستمبر کو ہم حکومت کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کریں گے: حافظ نعیم الرحمان نئے صوبوں کا فیصلہ پارلیمنٹ کرے گی، حکومت خود ریفرنڈم نہیں کرا سکتی:رانا ثناء اللہ مولانا فضل الرحمن نے جے یو آئی کی مرکزی مجلسِ عمومی کا اجلاس 19 اور 20 ستمبر کو پشاور میں طلب کر لیا روس میں بین الاقوامی یوتھ فیسٹیول کا آغاز، 250 پاکستانی نوجوان شریک پاکستان کی سعودی عرب میں ایسٹ ویسٹ پائپ لائن پر ڈرون حملوں کی شدید مذمت آزاد کشمیر میں انٹرنیٹ کی بحالی: وزیراعظم افتخار گیلانی کا اہم اعلان انصاف کی بروقت فراہمی ناگزیر، تمام ادارے اپنی ذمہ داریاں ادا کریں: چیف جسٹس تھائی لینڈ میں پاکستان کے 61ویں یوم دفاع و شہداء کی پروقار تقریب امریکا محاصرہ اور جارحیت ختم کرے تو آبنائے ہرمز کھول دیں گے: مسعود پزشکیان ناروے کے بادشاہ کی آخری رسومات کے دو دن بعد شہزادی بھی چل بسیں 9/11 انہی لوگوں نے کیا جن کو امریکا نے ہتھیار فراہم کیے تھے: اسماعیل بقائی

91 سالہ شخص نے 2193 میل کا سفر مکمل کرکے دوبارہ ریکارڈ بنالیا

Web Desk

12 September 2026

واشنگٹن: 91 سالہ ڈیل ’گرے بیئرڈ‘ سینڈرز نے ایک بار پھر دنیا کو ورطہ حیرت میں ڈالتے ہوئے امریکہ کی مشہور اور کٹھن ‘اپالاچین ٹریل’ (Appalachian Trail) کامیابی سے مکمل کر لی ہے، اور اس ایڈونچر کو سر کرنے والے دنیا کے سب سے معمر ترین شخص کا ورلڈ ریکارڈ دوبارہ اپنے نام کر لیا ہے۔

جارجیا کے اسپرنگر ماؤنٹین سے ریاستِ مین کے ماؤنٹ کٹاڈن تک پھیلا یہ تقریباً 2 ہزار 193 میل (3,529 کلومیٹر) طویل اور دشوار گزار راستہ سینڈرز نے مختلف وقفوں کے ساتھ مکمل کیا۔ اس طویل اور جان لیوا سفر کے دوران انہیں کئی بار سخت آزمائشوں سے گزرنا پڑا؛ وہ مجموعی طور پر 71 مرتبہ گرے، جن میں سے 6 حادثات خاصے شدید نوعیت کے تھے۔ ایک بار انہیں ایمرجنسی میں ہسپتال منتقل کرنا پڑا، جبکہ اپنی آخری منزل سے محض 200 گز کے فاصلے پر بھی وہ ایک بار پھر گر کر زخمی ہوئے۔

ڈیل سینڈرز نے سب سے پہلے 2017 میں 82 سال کی عمر میں یہ عالمی ریکارڈ اپنے نام کیا تھا، تاہم کچھ عرصے بعد ان کے 83 سالہ دوست ایم جے ایبرہارٹ نے یہ اعزاز ان سے چھین لیا۔ اس پر سینڈرز نے ہار ماننے کے بجائے چند ماہ کے اندر ہی اپنا ریکارڈ واپس حاصل کرنے کا عزم کر لیا تھا۔

اس طویل اور آزمائش سے بھرپور مہم جوئی کے دوران ان کی صحت نے بھی کئی بار کڑا امتحان لیا۔ ایک مرتبہ پہاڑ سے نیچے اترتے ہوئے پتھروں کی دراڑوں میں گرنے کی وجہ سے ان کی ٹانگوں اور ہاتھوں پر شدید چوٹیں آئیں۔ بعد ازاں ایک مرحلے پر جب ان کا بازو بالکل سن ہو گیا تو انہیں ہسپتال داخل کرایا گیا جہاں ڈاکٹروں نے فالج کا خدشہ ظاہر کیا، تاہم طبی معائنے کے بعد معلوم ہوا کہ یہ مسئلہ صرف اعصابی دباؤ (Nerve Compression) کے باعث پیش آیا تھا۔

91 سالہ سینڈرز کے مطابق اب اس خطرناک مہم کا مقصد صرف کوئی گنیز ورلڈ ریکارڈ قائم کرنا نہیں رہا، بلکہ وہ دنیا بھر کے لوگوں کو یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ بڑھتی ہوئی عمر کسی انسان کے خوابوں اور حوصلوں کی راہ میں رکاوٹ نہیں بن سکتی۔ ان کے اس پرعزم سفر کو سوشل میڈیا پر بھی ہزاروں مداح باقاعدگی سے فالو کرتے رہے۔

ریاستِ مین کی بلند ترین چوٹی ماؤنٹ کٹاڈن پر پہنچ کر سینڈرز نے جذباتی انداز میں کچھ دیر رک کر دعا کی اور اپنی اس عظیم تاریخی کامیابی پر خدا کا شکر ادا کیا، جبکہ اپنی سپیشل سپورٹ ٹیم اور ان تمام مداحوں کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے اس کٹھن سفر کے دوران ان کی ہمت بندھائی۔