LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
یوکرین میں غیر ملکی فوجی دستے روس کے جائز فوجی اہداف بنیں گے، ماریہ زخارووا شاہ غلام قادر، راجہ فاروق حیدر نے بیرسٹر افتخار گیلانی کو وزیراعظم نامزد کرنے کا فیصلہ مسترد کر دیا وزیر داخلہ کا نادرا میگا سینٹر میں پاسپورٹ آفس کی سہولت مہیا کرنے کا اعلان پاکستانی طالبات کیلئے بڑی خوشخبری، ٹیوشن فیس اور ہاسٹل سمیت اسکالرشپ کا اعلان پمز ہسپتال کے واقعے نے قوم کو غم میں مبتلا کر دیا: حافظ نعیم الرحمٰن بانی پی ٹی آئی کی شفا انٹرنیشنل منتقلی کا معاملہ: عظمیٰ خان کی توہینِ عدالت کی فوری سماعت کے لیے نئی درخواست دائر پمز حادثہ انتہائی دل خراش، کیٹی بندر پر ڈیپ سی پورٹ بنانا شہید بینظیر بھٹو کا خواب تھا: وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی نے وفاقی وزیر صحت سے استعفے کا مطالبہ کردیا سانحہ پمز کی تحقیقات کیلئے جوڈیشل کمیشن تشکیل دینے کی درخواست دائر دو سال سے زائد عرصے میں ٹرائل شروع نہ ہوسکا، قتل کیس کے ملزم کو ضمانت مل گئی امریکا، ایران کشیدگی کم کرنے کیلئے پاکستان کی کوششیں جاری ہیں: دفتر خارجہ گیس سبسڈی نظام اور قیمتوں کے سلیب پر نظرثانی کی ضرورت ہے، علی پرویز ملک ایران کا ایک بار پھر حملوں سے متاثرہ جوہری تنصیبات کے معائنے سے انکار ملکی دریاؤں اور آبی ذخائر میں پانی کی تازہ ترین صورتحال: واپڈا نے اعداد و شمار جاری کر دیے وزیرِ اعظم شہباز شریف سے سعودی سفیر نواف بن سعید کی الوداعی ملاقات

امریکی سینیٹر لنڈسے گراہم کا ایران سے معاہدے کو کانگریس کے سامنے پیش کرنے کا مطالبہ

Web Desk

15 June 2026

 ایران کے حوالے سے روایتی طور پر انتہائی سخت موقف رکھنے والے نامور امریکی سینیٹر لنڈسے گراہم نے امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والے حالیہ معاہدے کا خیرمقدم کیا ہے، تاہم انہوں نے اس معاہدے کے مختلف فریقوں کی جانب سے کی جانے والی تشریحات پر گہرے تحفظات کا اظہار بھی کیا ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ایکس” (سابقہ ٹویٹر) پر جاری اپنے ایک بیان میں امریکی سینیٹر کا کہنا تھا کہ انہیں اس بات پر شدید تشویش ہے کہ ایران کی جانب سے اس معاہدے کی جو تشریح پیش کی جا رہی ہے، وہ امریکی مذاکراتی ٹیم کے دعوؤں اور بیانات سے یکسر مختلف نظر آتی ہے۔

سینیٹر لنڈسے گراہم نے امریکی انتظامیہ پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ایران کے ساتھ کیے جانے والے کسی بھی معاہدے کو حتمی شکل دینے سے پہلے امریکی کانگریس کے سامنے پیش کیا جانا انتہائی ضروری ہے، تاکہ قانون ساز ادارے اس کا تفصیلی اور مکمل جائزہ لے سکیں۔ انہوں نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ اس نوعیت کے حساس اور تزویراتی معاہدے پر کانگریس میں باقاعدہ بحث اور ووٹنگ ہونی چاہئے تاکہ ملکی مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔