LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
عمران خان کو جیل مینوئل کے مطابق علاج کی سہولتیں ملتی رہیں گی:عطا تارڑ بانی پی ٹی آئی کی ہسپتال منتقلی کے فیصلے پر نظر ثانی کی درخواست سپریم کورٹ میں دائر ریٹیلر ایپ کا اجراء، چھوٹے دکانداروں کیلئے ٹیکس سکیم آسان بنا دی: وزیر خزانہ محسن نقوی کا پاسپورٹ آفس گارڈن ٹاؤن کا دورہ، شہریوں کی شکایات پر برہم اسحاق ڈار کا ترک وزیر خارجہ سے رابطہ، علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال پاکستان SCO اجلاس کی میزبانی کرے گا، اسحاق ڈار کا تیاریوں پر اظہارِ اطمینان جنگ کے دوران امریکا نے مذاکرات کی درخواست کی: ایرانی وزیر خارجہ بلوچستان سے جلد دہشت گردی کا جڑ سے خاتمہ ہوجائے گا: صدر زرداری نواز شریف اور مریم نواز سے سعودی سفیر نواف بن سعید المالکی کی الوداعی ملاقات پاکستان سٹاک مارکیٹ میں کاروبار کا مثبت زون میں آغاز ڈونلڈ ٹرمپ کا کینیڈین مصنوعات پر 50 فیصد نئے ٹیرف روکنے کا اعلان ایران نے آبنائے ہرمز کھولنے کیلئے امریکا کے سامنے مطالبات رکھ دیئے ہاکی ورلڈ کپ: پاکستان اور بھارت کی ٹیمیں آج مدمقابل ہونگی دوبارہ فوجی ایکشن سے سفارتکاری کا وقت آگیا، دباؤ بڑھا کر امریکا رعایتیں حاصل نہیں کر سکتا: ایران ایران اور امریکا کے درمیان جنگ میں آبنائے ہرمز پر کنٹرول اہم ترین محاذ بن گیا: میڈیا رپورٹ

پہلی شادی چھپا کر دوسری شادی: خاتون کیخلاف مقدمہ خارج، لاہور ہائیکورٹ

Web Desk

13 July 2026

لاہور ہائیکورٹ نے پہلی شادی چھپا کر دوسری شادی کرنے کے الزام میں نامزد خاتون مقدس بی بی کے خلاف درج فوجداری مقدمہ خارج کرتے ہوئے تاریخی فیصلہ جاری کر دیا ہے۔ لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس طارق سلیم شیخ نے درخواست گزار خاتون کی اپیل منظور کرتے ہوئے 15 صفحات پر مشتمل تفصیلی حکم نامے میں قرار دیا کہ گھریلو جھگڑوں یا میاں بیوی کے مابین غصے کی حالت میں کہی گئی باتوں کو سنگین دھمکی نہیں مانا جا سکتا۔ عدالت نے واضح کیا کہ اگر کوئی مقدمہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے ‘ناقابلِ گرفتاری جرم’ کے زمرے میں آتا ہو، تو پولیس علاقہ مجسٹریٹ کی پیشگی اجازت کے بغیر نہ تو مقدمہ درج کرنے کا اختیار رکھتی ہے اور نہ ہی اس کی تفتیش کر سکتی ہے۔ فیصلے میں یہ بھی صراحت کی گئی کہ بعد میں مقدمے کے اندر سنگین دفعات شامل کر دینے سے بھی پولیس کی ابتدائی قانونی خامی دور نہیں ہو جاتی۔

عدالتی ریکارڈ کے مطابق مقدس بی بی پر الزام تھا کہ انہوں نے پہلے سے شادی شدہ عامر سہیل نامی شخص سے مبینہ طور پر جعلی نکاح نامے کی بنیاد پر شادی کی، جس پر عامر سہیل کی پہلی اہلیہ (مسیحی خاتون) نے مقدمہ درج کروایا تھا۔ تاہم عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ مسیحی عائلی قوانین کے تحت پہلی شادی برقرار ہونے کی صورت میں دوسری شادی کا معاملہ محض اس بنیاد پر پولیس کے ذریعے قابلِ تعزیر فوجداری جرم نہیں بنتا۔ مزید برآں، تعزیراتِ پاکستان کے تحت دھوکہ دہی کا سنگین جرم اسی وقت بنتا ہے جب کسی کو مالی نقصان پہنچانے یا جائیداد ہتھیانے کی نیت ثابت ہو، جبکہ درخواست گزار پر ایسا کوئی الزام نہیں ہے۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ اگر کوئی فوجداری مقدمہ ابتدا ہی سے قانون کے منافی درج ہو، تو ہائیکورٹ عدالتی کارروائی شروع ہونے سے پہلے ہی اسے ختم کر سکتی ہے تاکہ نظامِ انصاف کے ناجائز استعمال کو روکا جا سکے۔