LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایران میں حالیہ امریکی حملوں میں شہدا کی تعداد 24 ہوگئی ایران کا ایک ارب ڈالر مالیت کا خام تیل چین روانہ، ایرانی آئل ٹینکروں نے ٹریکنگ سسٹم بند کر دیا پٹرولیم قیمتوں کے نظام میں اصلاحات، پلیٹس ڈیٹا عوامی کرنے کی سفارش پاکستان اور سعودی عرب کا توانائی تعاون بڑھانے پر اتفاق یمن نے صنعاء ایئرپورٹ پر حملے کے بعد ملک کے تمام ہوائی اڈے بند کردیئے ٹرمپ کا آبنائے ہرمز کی دوبارہ ناکہ بندی کا اعلان، کارگو پر 20 فیصد فیس کا دعویٰ ایران، امریکا کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل مزید مہنگا ایران کا ٹرمپ کے آبنائے ہرمز پر کنٹرول سنبھالنے کے بیان پر ردعمل اسحاق ڈار سے اقوام متحدہ سیکرٹری جنرل کی امیدوار کی ملاقات موسلادھار بارشوں کا خدشہ، بالائی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا الرٹ جاری تربیلا ڈیم سے اضافی پانی چھوڑنے کا امکان، پی ڈی ایم اے کا الرٹ برطانیہ نےایرانی پاسداران انقلاب فورس کو دہشت گرد تنظیم قرار دے دیا امریکا جلد آبنائے ہرمز کا کنٹرول سنبھال کر دنیا سے معاوضہ وصول کریگا: ٹرمپ بحرین کا ایران پر شہری علاقوں کو نشانہ بنانے کا الزام، متعدد میزائل اور ڈرون تباہ ووٹرز لسٹوں سے مسلمانوں کے نام حذف: یواین نمائندوں کی بھارتی حکومت سے وضاحت طلب

پہلی شادی چھپا کر دوسری شادی: خاتون کیخلاف مقدمہ خارج، لاہور ہائیکورٹ

Web Desk

13 July 2026

لاہور ہائیکورٹ نے پہلی شادی چھپا کر دوسری شادی کرنے کے الزام میں نامزد خاتون مقدس بی بی کے خلاف درج فوجداری مقدمہ خارج کرتے ہوئے تاریخی فیصلہ جاری کر دیا ہے۔ لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس طارق سلیم شیخ نے درخواست گزار خاتون کی اپیل منظور کرتے ہوئے 15 صفحات پر مشتمل تفصیلی حکم نامے میں قرار دیا کہ گھریلو جھگڑوں یا میاں بیوی کے مابین غصے کی حالت میں کہی گئی باتوں کو سنگین دھمکی نہیں مانا جا سکتا۔ عدالت نے واضح کیا کہ اگر کوئی مقدمہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے ‘ناقابلِ گرفتاری جرم’ کے زمرے میں آتا ہو، تو پولیس علاقہ مجسٹریٹ کی پیشگی اجازت کے بغیر نہ تو مقدمہ درج کرنے کا اختیار رکھتی ہے اور نہ ہی اس کی تفتیش کر سکتی ہے۔ فیصلے میں یہ بھی صراحت کی گئی کہ بعد میں مقدمے کے اندر سنگین دفعات شامل کر دینے سے بھی پولیس کی ابتدائی قانونی خامی دور نہیں ہو جاتی۔

عدالتی ریکارڈ کے مطابق مقدس بی بی پر الزام تھا کہ انہوں نے پہلے سے شادی شدہ عامر سہیل نامی شخص سے مبینہ طور پر جعلی نکاح نامے کی بنیاد پر شادی کی، جس پر عامر سہیل کی پہلی اہلیہ (مسیحی خاتون) نے مقدمہ درج کروایا تھا۔ تاہم عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ مسیحی عائلی قوانین کے تحت پہلی شادی برقرار ہونے کی صورت میں دوسری شادی کا معاملہ محض اس بنیاد پر پولیس کے ذریعے قابلِ تعزیر فوجداری جرم نہیں بنتا۔ مزید برآں، تعزیراتِ پاکستان کے تحت دھوکہ دہی کا سنگین جرم اسی وقت بنتا ہے جب کسی کو مالی نقصان پہنچانے یا جائیداد ہتھیانے کی نیت ثابت ہو، جبکہ درخواست گزار پر ایسا کوئی الزام نہیں ہے۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ اگر کوئی فوجداری مقدمہ ابتدا ہی سے قانون کے منافی درج ہو، تو ہائیکورٹ عدالتی کارروائی شروع ہونے سے پہلے ہی اسے ختم کر سکتی ہے تاکہ نظامِ انصاف کے ناجائز استعمال کو روکا جا سکے۔