LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
وزیراعظم کی حج 2026 کے منتظمین کی ملاقات، شہباز شریف نے مبارکباد دی عراق نے پاکستانی زائرین کے لیے نئی ویزا شرائط جاری کر دیں حکومت کا پاکستان پٹرولیم لمیٹڈ پر کنٹرول مزید مضبوط، شیئر ہولڈنگ میں اضافہ فیلڈ مارشل سے لیبیا کے نائب کمانڈر انچیف کی ملاقات، دوطرفہ تعلقات کو بڑھانے پر زور امیرِ قطر کا شہباز شریف سے رابطہ، پاکستان کی سفارتی کامیابیوں کو سراہا قائم مقام صدر آزاد کشمیر چوہدری لطیف اکبر کے کاغذات نامزدگی مسترد ایران کو کوئی رقم یا منجمد فنڈز جاری نہیں کیے، معلومات غلط نکلیں تو مذاکرات ختم کر دیں گے، ڈونلڈ ٹرمپ پاکستان میں جگر کی پیوندکاری کا عالمی ریکارڈ، 24 گھنٹے میں 10 کامیاب ٹرانسپلانٹس مکمل اسرائیل کا جنوبی لبنان سے فوجیں نہ ہٹانے کا اعلان پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں شاندار تیزی، 100 انڈیکس ایک لاکھ 79 ہزار کی حد عبور کر گیا امریکا ایران جنگ بندی معاہدے کی کاپی قومی اسمبلی میں پیش قطر آبنائے ہرمز پر فیس لگانے کے ایرانی منصوبے کی حمایت نہیں کرے گا، قطری وزیراعظم کا اعلان آبنائے ہرمز عالمی گزر گاہ، کوئی ٹول ٹیکس وصول نہیں کر سکتا: امریکا کا واضح پیغام جو پارلیمنٹ کو مضبوط کرے اس کے ہاتھ چومنے کو تیار ہوں: محمود خان اچکزئی چند وفاقی وزراء وزیراعظم کیلئے مشکلات پیدا کر رہے ہیں: بلاول بھٹو زرداری

عمر کے تعین کیلئے اے آئی ٹیکنالوجی متعارف

Web Desk

2 June 2026

برطانوی وزارت داخلہ کے مطابق آئندہ سال سے ایک جدید اے آئی سسٹم آزمائشی بنیادوں پر استعمال کیا جائے گا جو سرحد پر لی گئی تصاویر کا تجزیہ کرکے کسی شخص کی عمر کا اندازہ لگائے گا، اس اقدام کا مقصد ایسے بالغ تارکین وطن کی نشاندہی کرنا ہے جو خود کو کم عمر ظاہر کرکے پناہ کے نظام سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتے ہیں۔

برطانیہ میں بغیر سرپرست آنے والے کم عمر پناہ گزین بچوں کو مقامی کونسلز کی جانب سے خصوصی رہائش اور نگہداشت فراہم کی جاتی ہے جبکہ انہیں قانونی تحفظ بھی حاصل ہوتا ہے جو ان کی پناہ کی درخواست کو آسان بناتا ہے۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق جون 2025 تک ایک سال کے دوران ایک لاکھ 11 ہزار سے زائد افراد نے برطانیہ میں پناہ کی درخواست دی جو گزشتہ برس کے مقابلے میں 14 فیصد زیادہ ہے۔وزارت داخلہ کے مطابق مارچ 2026 تک ایک سال کے دوران خود کو کم عمر ظاہر کرنے والے 6 ہزار 400 سے زائد تارکین وطن کی عمر کا تعین کیا گیا جن میں سے 43 فیصد بالغ نکلے۔انسانی حقوق کی تنظیموں اور سماجی کارکنوں نے اس منصوبے پر تحفظات کا اظہار کیا ہے، ناقدین کا کہنا ہے کہ غیر آزمودہ ٹیکنالوجی پر انحصار کم عمر پناہ گزین بچوں کے حقوق متاثر کر سکتا ہے اور اس کے نتائج غلط بھی ثابت ہو سکتے ہیں۔