LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
حکومت کا پاکستان پٹرولیم لمیٹڈ پر کنٹرول مزید مضبوط، شیئر ہولڈنگ میں اضافہ فیلڈ مارشل سے لیبیا کے نائب کمانڈر انچیف کی ملاقات، دوطرفہ تعلقات کو بڑھانے پر زور امیرِ قطر کا شہباز شریف سے رابطہ، پاکستان کی سفارتی کامیابیوں کو سراہا قائم مقام صدر آزاد کشمیر چوہدری لطیف اکبر کے کاغذات نامزدگی مسترد ایران کو کوئی رقم یا منجمد فنڈز جاری نہیں کیے، معلومات غلط نکلیں تو مذاکرات ختم کر دیں گے، ڈونلڈ ٹرمپ پاکستان میں جگر کی پیوندکاری کا عالمی ریکارڈ، 24 گھنٹے میں 10 کامیاب ٹرانسپلانٹس مکمل اسرائیل کا جنوبی لبنان سے فوجیں نہ ہٹانے کا اعلان پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں شاندار تیزی، 100 انڈیکس ایک لاکھ 79 ہزار کی حد عبور کر گیا امریکا ایران جنگ بندی معاہدے کی کاپی قومی اسمبلی میں پیش قطر آبنائے ہرمز پر فیس لگانے کے ایرانی منصوبے کی حمایت نہیں کرے گا، قطری وزیراعظم کا اعلان آبنائے ہرمز عالمی گزر گاہ، کوئی ٹول ٹیکس وصول نہیں کر سکتا: امریکا کا واضح پیغام جو پارلیمنٹ کو مضبوط کرے اس کے ہاتھ چومنے کو تیار ہوں: محمود خان اچکزئی چند وفاقی وزراء وزیراعظم کیلئے مشکلات پیدا کر رہے ہیں: بلاول بھٹو زرداری قومی اسمبلی میں وزیر اعظم اور مولانا فضل الرحمان کے درمیان دلچسپ جملوں کا تبادلہ آزاد کشمیر کی ترقی اور عوامی فلاح وبہبود سے متعلق مطالبات مان لئے: رانا ثناء اللہ

قطر آبنائے ہرمز پر فیس لگانے کے ایرانی منصوبے کی حمایت نہیں کرے گا، قطری وزیراعظم کا اعلان

Web Desk

24 June 2026

قطر کے وزیراعظم شیخ محمد بن عبدالرحمان الثانی نے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ ان کا ملک آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں پر فیس یا ٹول عائد کرنے کے کسی بھی ایرانی منصوبے کی حمایت نہیں کرے گا۔ ایک برطانوی اخبار کو انٹرویو دیتے ہوئے قطری وزیراعظم نے تاکید کی کہ دنیا تک ہماری رسائی کے واحد اور اہم ترین راستے پر کسی دوسرے ملک کا کنٹرول ہمیں کسی صورت قابل قبول نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایران نے فیس کی وصولی کا کوئی مجوزہ ماڈل پیش بھی کیا، تو انہیں پہلے اس کے حق میں ٹھوس دلائل دینا ہوں گے اور قطر اس ماڈل کا باریک بینی سے جائزہ لے گا، تاہم اصولاً قطر اس اقدام کے خلاف ہے۔

شیخ محمد بن عبدالرحمان الثانی نے آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کی بحالی اور سیکیورٹی برقرار رکھنے کے لیے امریکہ اور ایران کے درمیان ہاٹ لائن کے قیام کو انتہائی اہم قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس ہاٹ لائن کا بنیادی مقصد غلط معلومات کے پھیلاؤ اور کسی بھی ممکنہ اشتعال انگیزی کو بروقت روکنا ہے، کیونکہ کچھ عناصر خطے میں ہونے والے معاہدوں کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔ انہوں نے تجویز دی کہ جہازوں کو ملنے والی کسی بھی قسم کی دھمکی کی فوری طور پر براہِ راست ایران سے تصدیق کی جانی چاہیے۔ اپنی معاشی سرگرمیوں کا ذکر کرتے ہوئے قطری وزیراعظم نے امید ظاہر کی کہ اگلے 30 دنوں میں بحری سرگرمیاں جنگ سے پہلے کی سطح پر واپس آ جائیں گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ قطر چند ہفتوں میں ایل این جی (LNG) کی پیداوار کو معمول پر لانے کا ارادہ رکھتا ہے، تاہم یہ سب کچھ آبنائے ہرمز کی صورتحال معمول پر آنے سے مشروط ہے۔