LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
بنگلادیش میں طوفانی بارشوں کے باعث 44 افراد ہلاک،متعدد لاپتہ جماعت اسلامی کا آزاد کشمیر میں قیام امن کیلئے گرینڈ جرگہ تشکیل دینے کا فیصلہ قطر نے سمندری سرگرمیاں غیر معینہ مدت تک معطل کر دیں، ایرانی حملوں کی شدید مذمت نائب وزیراعظم اسحاق ڈار سے سعودی سفیر نواف بن سعید المالکی کی ملاقات قطر میں سوگ کی فضا، سابق امیر شیخ حمد بن خلیفہ الثانی انتقال کر گئے امریکی حملوں کے ردعمل میں ایران کے خلیجی ممالک پر جوابی میزائل حملے، آبنائے ہرمز تاحکم ثانی بند ڈیرہ غازی خان: قبائلی علاقے میں 11 سالہ لڑکی مبینہ طور پر فروخت کر دی گئی امریکا میں تارکین وطن کے ’ورک پرمٹ‘ سے متعلق اہم خبر سامنے آگئی امریکی اہلکار عمان میں ایرانی حکام سے ذاتی حیثیت میں بات چیت میں شریک نہیں ہوں گے: روسی میڈیا امریکی صدر کی نائب صدر اور وزیرخارجہ کو عمان میں مذاکرات جاری رکھنے کی ہدایت ایران کے پاسداران انقلاب نے آبنائے ہرمز بند کردی: خبرایجنسی ایران کے مختلف شہروں میں دھماکوں کی آوازیں امریکا نے ڈیل کے تحت کیےگئے وعدے پورے نہ کیے تو مفاہمتی یادداشت پر عمل ترک کردیں گے: ایران چین میں سمندری طوفان باوی کا دوسرا وار، لاکھوں افراد نقل مکانی پر مجبور، پروازیں اور ٹرینیں معطل امریکی افواج نے حملوں کا نیا سلسلہ شروع کر دیا، ایران کے مختلف علاقوں میں دھماکوں کی آوازیں

پنکی کیس میں پردہ نشینوں کے نام ہیں لیکن کچھ بھی نہیں ہوگا,سردار لطیف کھوسہ

Web Desk

22 June 2026

قومی اسمبلی کے اہم ترین اجلاس کے دوران اپوزیشن کے سینیئر رہنما اور ممتاز قانون دان سردار لطیف کھوسہ نے وزارتِ داخلہ کی کارکردگی اور بجٹ پر کڑی تنقید کرتے ہوئے ایک انتہائی جارحانہ اور جذباتی خطاب کیا ہے۔

انہوں نے وزیرِ داخلہ محسن نقوی، ویگو ڈالوں کے کلچر، بیوروکریسی کے حد سے بڑھے اختیارات اور ملک کی موجودہ سیاسی و عسکری صورتحال پر کھل کر بات کی۔

 انہوں نے واضح کیا کہ وزارتِ داخلہ کے فنڈز تو بے پناہ بڑھا دیے گئے ہیں لیکن کاش وہ عملی طور پر کوئی کام بھی کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ “ریاست کام سے چلتی ہے، بندوق کی گولی سے نہیں، طاقت کا اصل سرچشمہ عوام ہیں اور عوام کے بغیر ریاست ایک لاش کی مانند ہے”وزیرِ داخلہ محسن نقوی کا نام لیے بغیر طنز کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کو پہلے کرکٹ کی تباہی کا ذمہ دار بنایا گیا، اب نائب وزیراعظم بنایا جا رہا ہے اور پھر شاید وزیراعظم بھی بنا دیا جائے۔ انہوں نے اپنے ذاتی واقعے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ لاہور میں ان کے بیٹے پر دن دیہاڑے فائرنگ کی گئی لیکن وزارتِ داخلہ ملزمان کا پتہ چلانے میں مکمل ناکام رہی۔ انہوں نے شکوہ کیا کہ “کیا اب میں بھی دہشت گرد ہوں اور بیرسٹر گوہر بھی دہشت گرد ہے؟ آپ پہلے وزارتِ داخلہ کی کارکردگی تو بتائیں”۔ انہوں نے وزیرِ دفاع خواجہ آصف کے حالیہ بیان کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ خواجہ آصف نے بالکل ٹھیک کہا تھا کہ یہ ڈالے ختم کر دینے چاہئیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا وزارتِ داخلہ ان ویگو ڈالوں کو واپس نہیں لے سکتی؟ دس دس ڈالے لے کر گھومنے والے عام شہریوں کا خون چوس رہے ہیں، اگر کسی کو اتنے ہی شدید سیکیورٹی خطرات ہیں تو وہ اپنے خرچے پر پرائیویٹ سیکیورٹی رکھ لے۔ انہوں نے بیوروکریسی کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ پر وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ کہیں یہ بیوروکریسی خود وزیرِ دفاع کی ہی چھٹی نہ کرا دے۔ اس کے علاوہ انہوں نے مشہورِ زمانہ ‘پنکی کیس’ کا تذکرہ کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اس کیس میں بڑے بڑے پردہ نشینوں کے نام شامل ہیں لیکن حقیقت میں کچھ بھی نہیں ہوگا۔