وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا گلگت بلتستان کے انتخابات میں شفافیت کیلئے چیف جسٹس سپریم اپیلیٹ کورٹ گلگت بلتستان کو خط ارسال
Web Desk
30 May 2026
پشاور/گلگت: خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ محمد سہیل خان آفریدی نے گلگت بلتستان میں آئندہ ہونے والے عام انتخابات کے انعقاد اور شفافیت کے حوالے سے پیدا ہوالی سنگین صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سپریم اپیلیٹ کورٹ گلگت بلتستان کے چیف جسٹس کو ایک باضابطہ اور ہنگامی خط ارسال کیا ہے، جس میں معاملے پر فوری عدالتی مداخلت کی درخواست کی گئی ہے۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے اپنے خط میں گلگت بلتستان کے موجودہ سیاسی و انتخابی ماحول کو انتہائی تشویشناک قرار دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ وہاں ایک مخصوص سیاسی جماعت کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موصولہ اطلاعات کے مطابق مذکورہ جماعت کو انتخابی سرگرمیوں، عوامی اجتماعات، کارنر میٹنگز، انتخابی مہم اور پارٹی قیادت سمیت کارکنان کی نقل و حرکت میں غیر ضروری اور غیر قانونی رکاوٹوں کا سامنا ہے۔
وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے خط میں انتظامیہ کی یکطرفہ کارروائیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے لکھا ہے کہ سیاسی کارکنوں کو ہراساں کرنے، غیر قانونی طور پر گرفتار کرنے اور پرامن سیاسی سرگرمیوں کو روکنے کی مسلسل اطلاعات سامنے آ رہی ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ان سلینگین اقدامات کو فوری طور پر نہ روکا گیا تو پورے انتخابی عمل کی ساکھ، شفافیت اور غیر جانبداری کو شدید اور ناقابلِ تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کا آئین ہر شہری اور تمام سیاسی جماعتوں کو آزاد، منصفانہ، شفاف اور غیر جانبدارانہ انتخابی عمل میں حصہ لینے کا بنیادی اور جمہوری حق دیتا ہے۔ ان آئینی اصولوں سے انحراف نہ صرف ملکی آئین کی کھلی خلاف ورزی ہے بلکہ یہ بنیادی جمہوری اقدار کے بھی یکسر منافی ہے۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے سپریم اپیلیٹ کورٹ کے چیف جسٹس سے خط کے ذریعے درج ذیل اہم اقدامات اٹھانے کی گزارش کی ہے:
-
اداروں کو واضح ہدایات: گلگت بلتستان میں انتخابات کے آزاد، منصفانہ اور غیر جانبدارانہ انعقاد کو یقینی بنانے کے لیے تمام متعلقہ انتظامی و قانون نافذ کرنے والے اداروں کو سخت اور واضح ہدایات جاری کی جائیں۔
-
ہراسانی کا خاتمہ: سیاسی کارکنوں اور جماعتی قیادت کے خلاف جاری غیر قانونی ہراسانی، بلاجواز گرفتاریوں اور نقل و حرکت پر لگی پابندیوں کو فوری طور پر کالعدم قرار دیا جائے۔
-
لیول پلے فیلڈ کی فراہمی: تمام سیاسی جماعتوں کو بغیر کسی امتیاز یا تفریق کے اپنی انتخابی مہم اور سیاسی و آئینی سرگرمیاں جاری رکھنے کا مکمل اور مساوی حق دیا جائے۔
-
فوری مؤثر کارروائی: انتخابی عمل کے دوران بنیادی آئینی اور جمہوری حقوق کی کسی بھی قسم کی خلاف ورزی کے خلاف عدالت اپنے اختیارات استعمال کرتے ہوئے فوری کارروائی کرے۔
وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے عدالتِ عالیہ سے اپیل کی ہے کہ وہ قانون کی حکمرانی، جمہوری اقدار کے تحفظ اور عوام کے انتخابی عمل پر اعتماد کو بحال رکھنے کے لیے اپنے آئینی اختیارات کا بروقت استعمال کرے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ عدلیہ کی یہ مداخلت گلگت بلتستان کے عوام کے حقِ رائے دہی کا تحفظ کرے گی۔
واضح رہے کہ معاملے کی حساسیت کے پیشِ نظر اس خط کی ایک باضابطہ نقل (Copy) چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی کو بھی ضروری کارروائی کے لیے ارسال کر دی گئی ہے۔
متعلقہ عنوانات
وزیراعلیٰ نے ستھرا پنجاب ورکرز کیلئے 10ہزار فی کس انعام کا اعلان کیا ہے: مریم اورنگزیب
30 May 2026
پاکستان ایک مخلص دوست، ایران کے ساتھ اچھی ڈیل ہوگی: امریکی وزیر جنگ
30 May 2026
کیا ایم این اے کو روکنے کی اتھارٹی ہے؟” پنجاب پولیس نے مجھے جی بی جانے سے روکا، سابق اسپلکر اسد
30 May 2026
آئی ایم ایف کا گاڑیوں اور سولر پینلز پر سیلز ٹیکس چھوٹ برقرار رکھنے سے انکار
30 May 2026
پاکستان کی شاندار کامیابی: مسلسل پانچویں سال بھی ایراسمس منڈس اسکالرشپ حاصل کرنے میں دنیا بھر میں پہلے نمبر پر برقرار
30 May 2026
لاہور ہائیکورٹ: شوہر کی ٹرائل کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دینے کی استدعا مسترد
30 May 2026
بلوچستان میں ٹرین سروس بحال، جعفر ایکسپریس آج کوئٹہ سے روانہ ہوگی
30 May 2026
حاجیوں کی وطن واپسی کے لیے سعودی عرب سے پروازوں کا آغاز کل ہوگا
30 May 2026