LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
جیٹ فیول اور لائٹ ڈیزل آئل کی قیمتوں میں بڑی کمی، نوٹیفکیشن جاری آئی ایم ایف کا گاڑیوں اور سولر پینلز پر سیلز ٹیکس چھوٹ برقرار رکھنے سے انکار پاکستان کی شاندار کامیابی: مسلسل پانچویں سال بھی ایراسمس منڈس اسکالرشپ حاصل کرنے میں دنیا بھر میں پہلے نمبر پر برقرار امریکی صدر کے نام کی شمولیت غیر قانونی قرار: کینیڈی سینٹر بند کرنے کا ٹرمپ انتظامیہ کا فیصلہ امریکی عدالت نے معطل کر دیا حاجیوں کی وطن واپسی کے لیے سعودی عرب سے پروازوں کا آغاز کل ہوگا امریکا کا امیر ممالک کے دفاعی اخراجات کا مزید بوجھ اٹھانے سے انکار ملک بھر میں 74 لاکھ 70 ہزار جانور قربان کیے گئے، ٹینریز ایسوسی ایشن ٹیکس وصولی کے لیے ایف بی آر کے تمام دفاتر 30 مئی کو کھلے رہیں گے اسحاق ڈار اور مارکو روبیو کی واشنگٹن میں ملاقات، پاک امریکا تعاون مزید مضبوط بنانے پر اتفاق ابراہیمی معاہدے سے متعلق افواہیں بے بنیاد، فلسطین پر مؤقف میں کوئی لچک نہیں: اسحاق ڈار راولپنڈی: پاکستان اور آسٹریلیا آج پہلے ون ڈے میں آمنے سامنے فرنچ اوپن 2026 میں سنسنی خیز اپ سیٹ، نواک جوکووچ نوجوان کھلاڑی سے ہار گئے پیٹرول اور ڈیزل 22 روپے سستا، نئی قیمتیں 381 روپے 78 پیسے اور 380 روپے 78 پیسے مقرر میئر نیویارک زہران ممدانی کا اسرائیل ڈے پریڈ میں شرکت سے انکار امریکی قانون کےبرخلاف صدر ٹرمپ کی تصویر ڈالر پر چھاپنے کی تیاریاں

کیا ایم این اے کو روکنے کی اتھارٹی ہے؟” پنجاب پولیس نے مجھے جی بی جانے سے روکا، سابق اسپلکر اسد

Web Desk

30 May 2026

اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (PTI) کے مرکزی رہنما اور قومی اسمبلی کے سابق اسپیکر اسد قیصر نے سینیئر سیاستدان مصطفیٰ نواز کھوکھر کے ہمراہ ایک ہنگامی پریس کانفرنس کرتے ہوئے پنجاب پولیس کی جانب سے انہیں گلگت بلتستان (سکردو) جانے سے زبردستی روکنے کے اقدام کی شدید مذمت کی ہے اور اسے برطانوی سامراج کے سیاہ دور سے تشبیہ دی ہے۔

پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہا کہ انہوں نے آج سکردو روانہ ہونا تھا جہاں دیگر تمام سیاسی جماعتوں کے رہنما بشمول بلاول بھٹو زرداری انتخابی مہم اور سیاسی سرگرمیوں کے لیے جا رہے ہیں، لیکن انہیں پنجاب پولیس نے جی بی جانے سے غیر قانونی طور پر روک دیا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ “ہمیں بتایا جائے کہ پنجاب پولیس نے کن اختیارات کے تحت ایک موجودہ ممبر قومی اسمبلی اور سابق اسپیکر کو روکا؟ کیا پنجاب پولیس کے پاس یہ اتھارٹی ہے کہ وہ ایم این اے کی نقل و حرکت پر اس طرح پابندی لگائے؟”

“سیاست میں تفریق اور بدترین سلوک قابلِ مذمت ہے”

اسد قیصر نے شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ گلگت بلتستان دنیا بھر کے لیے ایک سیاحتی مقام (Tourism Place) ہے جہاں ہر کوئی آ جا سکتا ہے، لیکن صرف انہیں روک کر باقیوں کو اجازت دینا سیاست میں کھلی تفریق ہے۔ انہوں نے گزشتہ روز پی ٹی آئی رہنما جنید اکبر کے ساتھ پیش آنے والے واقعے کا ذکر کرتے ہوئے اسے بدترین سلوک قرار دیا۔

جی بی کے عوام سے اپیل: اسد قیصر نے گلگت بلتستان کے عوام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا، “جی بی کے عوام انتہائی غیور ہیں۔ میں ان سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ اپنے ووٹ کے حق کا صحیح استعمال کریں۔ آپ نے نہ صرف ووٹ ڈالنا ہے بلکہ اپنے ووٹ کی حفاظت بھی کرنی ہے۔” انہوں نے چیف الیکشن کمشنر سے مطالبہ کیا کہ تمام جماعتوں کو ‘لیول پلے فیلڈ’ دی جائے، بصورتِ دیگر وہ اپنے عہدے سے مستعفی ہو جائیں۔

“سرکار کے اقدامات برطانوی سامراج کی یاد دلا رہے ہیں” — مصطفیٰ نواز کھوکھر

پریس کانفرنس میں موجود سینیئر سیاستدان مصطفیٰ نواز کھوکھر نے موجودہ حکومت اور انتظامیہ کے اقدامات پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جو طریقے آج کی سرکار اپنا رہی ہے، وہ ماضی میں برطانوی سامراج کے دور میں دیکھے جاتے تھے۔

مصطفیٰ نواز کھوکھر نے سخت لہجے میں کہا:

  • عوامی ووٹ کی توہین: یہ کیسی حکومت ہے جہاں عوام کے ووٹ کی حیثیت کو بالکل ختم کر دیا گیا ہے۔ 8 فروری کے انتخابات میں ‘فارم 47’ کی لوٹ سیل لگائی گئی تھی۔

  • اپنے ہی ملک میں این او سی کا مطالبہ: کیا اب اپنے ہی ملک کے شہریوں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ جانے کے لیے NOC لینا پڑے گا؟ انگریز کے دورِ حکومت میں بھی اسی طرح لوگوں کو ‘صوبہ بدر’ کیا جاتا تھا۔

  • سیاسی لاوا ابل رہا ہے: تمام سیاسی جماعتوں کو انڈر مائن (کمزور) کر دیا گیا ہے۔ ن لیگ، پیپلز پارٹی اور اسٹیبلشمنٹ کو صورتحال کی سنگینی سمجھ نہیں آرہی۔ آج گلگت بلتستان میں عوامی غصے کا لاوا ابل رہا ہے۔

انہوں نے مقتدر حلقوں کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ خدارا ہوش کے ناخن لیں۔ وہاں کے عوام اب یہ سوال اٹھانے پر مجبور ہو چکے ہیں کہ وہ کیوں آج تک ایک “سرزمینِ بے آئین” کا حصہ ہیں اور انہیں ان کے بنیادی حقوق سے محروم رکھا جا رہا ہے۔ اگر یہی کچھ کرنا ہے تو اس سے بہتر ہے کہ ملک میں انتخابات ہی نہ کروائے جائیں۔