LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
جو پارلیمنٹ کو مضبوط کرے اس کے ہاتھ چومنے کو تیار ہوں: محمود خان اچکزئی چند وفاقی وزراء وزیراعظم کیلئے مشکلات پیدا کر رہے ہیں: بلاول بھٹو زرداری قومی اسمبلی میں وزیر اعظم اور مولانا فضل الرحمان کے درمیان دلچسپ جملوں کا تبادلہ آزاد کشمیر کی ترقی اور عوامی فلاح وبہبود سے متعلق مطالبات مان لئے: رانا ثناء اللہ پی ٹی آئی نے سیاسی رواداری کے کلچر کو برباد کر دیا: خواجہ آصف مستقبل کی جنگیں نئی حکمت عملیوں کی متقاضی ہیں: نیول چیف ایڈمرل نوید اشرف پاکستان خطے کے امن کیلئے تعمیری کردار ادا کرنے کیلئے تیار ہے: ترجمان دفتر خارجہ میاں بیوی ساتھ نہ رہنے کے باوجود بھی خاتون حق مہر کی حقدار، لاہور ہائیکورٹ ہنر مند نوجوان ملک و قوم کا قیمتی سرمایہ ہیں: مریم نواز نادرا کی اپیل منظور،ماتحت عدالتوں کے شناختی کارڈ بحال کرنے کے فیصلے کالعدم قرار امریکی صدر قرارداد کی منظوری پر برہم، سینیٹ نے مجھے روک کر دشمن کی مدد کی: ٹرمپ پاکستان سٹاک ایکسچینج میں ٹریڈنگ کا مثبت زون میں آغاز محسن نقوی کی ایرانی ہم منصب سے ملاقات، دوطرفہ تعاون بڑھانے پر اتفاق ٹرمپ کے قریبی اتحادیوں کی اسرائیل کو اعتماد میں لینے کی کوشش امریکی عوام کی اکثریت کو جنگ بندی زیادہ عرصہ برقرار نہ رہنے کا خدشہ

کراچی :رواں سال حادثات میں830 افرادجاں بحق، 11 ہزار 800 سے زائد زخمی ہوئے

Web Desk

19 December 2025

کراچی میں رواں سال ٹریفک حادثات اور فائرنگ کے واقعات نے شہریوں کی جانیں نگل لیں۔ محکمہ ٹریفک کے اعداد و شمار کے مطابق، سال کے آغاز سے اب تک ٹریفک حادثات میں 830 سے زائد افراد جاں بحق اور 11 ہزار 800 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔ اسی دوران مختلف فائرنگ کے واقعات میں 407 افراد جان کی بازی ہار گئے، جس میں ڈکیتی کے دوران شہریوں اور ڈاکوؤں کے جھڑپ کے واقعات بھی شامل ہیں۔ کراچی میں رواں سال ٹریفک حادثات میں جاں بحق ہونے والوں میں 650 مرد، 85 خواتین اور 85 بچے شامل ہیں۔ مزید پڑھیں:سٹاک مارکیٹ تاریخ کی بلند ترین سطح پر ، ڈالر بھی سستا ہو گیا زخمی ہونے والوں کی تعداد 11 ہزار 37 بتائی گئی ہے، جن میں 9 ہزار 267 مرد، 1 ہزار 853 خواتین اور 717 بچے شامل ہیں۔ اسی دوران شہر میں فائرنگ کے واقعات نے بھی شہریوں کی زندگیوں کو متاثر کیا ہے۔ مجموعی طور پر فائرنگ کے مختلف واقعات میں 407 افراد جاں بحق ہوئے، جن میں 89 افراد ڈکیتی کی مزاحمت کے دوران مارے گئے۔ لوٹ مار کے دوران شہریوں کے ردعمل میں 14 ڈاکو بھی مارے گئے جبکہ 35 دیگر زخمی ہوئے۔