LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
قطر کی عراق کے نیم خودمختار کردستان خطے پر ایرانی حملوں کی شدید مذمت ایران کا امریکا پر ایک اور ’’کھلی جنگی جارحیت‘‘ کا الزام ایران کیخلاف بحری ناکہ بندی: 3 روز میں 4 تجارتی جہازوں کا رخ موڑ دیا: سینٹ کام ایران کا امریکی بحری جہاز پر حملہ، بحرین میں امریکی ڈرونز کے ڈپو کو نشانہ بنانے کا دعویٰ ایران کے مختلف شہروں میں دھماکے، خارگ جزیرے کے قریب آئل ٹینکر پر بھی حملہ: ایرانی میڈیا امریکا نے ایران میں مزید حملے کیے تو جنگ کا رخ بدل سکتا ہے، مشیر ایرانی سپریم لیڈر ایرانی سپریم لیڈر کے ہر حکم پر عمل کریں گے؛ حوثی کمانڈر کا دوٹوک اعلان ناروے میں خوفناک آتشزدگی، 100 سے زائد گھر جل گئے ایرانی فوجی صلاحیتیں کمزور کرنے کا مشن، امریکا کے مسلسل ساتویں رات ایران پر حملے حکومت بلوچستان اور دھرنا کمیٹی کے مذاکرات کامیاب، تحریری معاہدہ طے پا گیا ایرانی وزارت توانائی کی شہریوں سے بجلی کا استعمال کم کرنے کی اپیل 27 جولائی کو جب کشمیر میں ڈبے کھلیں گے تو ہر طرف شیر ہی شیر ہوگا: مریم اورنگزیب خطے کے پانیوں میں امریکی فوج کی نقل و حرکت، انکے فوجی ساز و سامان پر نظر ہے: ایران فارما سیوٹیکل صنعت کو عالمی سطح پر نمایاں کرنے کا منصوبہ پیش کر دیا: مصطفیٰ کمال خلائی سائنسدانوں کے استعفوں کے بعد مودی سرکار پریشان، رضاکارانہ ریٹائرمنٹ اور استعفوں پر پابندی لگادی

ٹرمپ سے زیادہ ایران کی باتوں پر یقین کرتا ہوں، سابق سربراہ سی آئی اے

Web Desk

25 March 2026

واشنگٹن: سی آئی اے کے سابق سربراہ جان برینن نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف ایک سخت بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ صدر ٹرمپ کے مقابلے میں ایران کی باتوں پر زیادہ یقین رکھتے ہیں۔ اپنے حالیہ بیان میں جان برینن نے صدر ٹرمپ پر حقائق کو مسخ کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ حقائق بار بار سامنے آنے کے باوجود صدر انہیں تسلیم کرنے سے انکاری ہیں۔

سابق سی آئی اے چیف نے صدر ٹرمپ کے ان دعوؤں کی تردید کی کہ ایران امریکی شرائط پر مذاکرات کے لیے تیار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹرمپ اس وقت اپنی ہی پالیسیوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والی “تخلیق کردہ شکست” سے جان چھڑانے کی کوشش کر رہے ہیں اور وہ غلط بیانی سے کام لے رہے ہیں۔

جان برینن کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں ایران اور امریکہ کے درمیان تناؤ بڑھ رہا ہے اور اسلام آباد میں ممکنہ مذاکرات کی خبریں زیرِ گردش ہیں۔ دفاعی ماہرین برینن کے اس بیان کو امریکی انٹیلی جنس بیوروکریسی اور وائٹ ہاؤس کے درمیان بڑھتے ہوئے اختلافات کے طور پر دیکھ رہے ہیں