LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پاکستان، سعودی عرب کا زرعی و غذائی برآمدات 3 ارب ڈالر تک بڑھانے کا عزم دادو کے کچے علاقے میں دو گروہوں میں فائرنگ کا تبادلہ، 8 افراد ہلاک کال سینٹر کے ذریعے غیر اخلاقی مواد کی فروخت: ایف آئی اے نے مزید 20 چینی شہریوں کو پاکستان بدر کر دیا پاکستان، ترکیہ اور سعودیہ مشترکہ سلامتی و اجتماعی دفاع کیلئے متحد ہیں: وزیراعظم وزیراعظم آزاد کشمیر کا انٹرنیٹ اور داخلی و خارجی راستے بحال کرنے کا اعلان امریکا کے وعدے پورے ہونے تک آبنائے ہرمز نہیں کھلے گی: ایران چین کی معروف کمپنی کا پنجاب کے آئی ٹی سیکٹر میں اظہار دلچسپی نیپال میں سیلاب سے ہلاکتوں کی تعداد 734 ہو گئی، 2,498 افراد لاپتہ شمالی کوریا کی فوجی کمان میں بڑی تبدیلی، وزیرِ دفاع سمیت کئی عہدیدار برطرف پاکستان اور ازبکستان کا اقتصادی روابط مزید مضبوط بنانے پر اتفاق اسلام آباد یادداشت پر عملدرآمد سے مشکلات پر قابو پا سکتے ہیں: ایرانی صدر جماعت اسلامی کے دھرنوں کے 2 ہفتے مکمل، آج راولپنڈی میں تاریخی جلسے کا اعلان بانی پی ٹی آئی کی بہن بتا چکی عمران خان بالکل فٹ ہیں، وزیر دفاع پمز سانحہ: بچوں کو بچانے کی کوششیں ثابت، 9 صفحات پر مشتمل رپورٹ جاری امریکا میڈیا کے ذریعے توانائی مارکیٹ میں ہیرا پھیری کر رہا ہے، عباس عراقچی

معاملات سفارتی طریقے سے حل ہونے لگتے ہیں توامریکا فوجی مہم جوئی شروع کردیتاہے، ایرانی وزیرخارجہ

Web Desk

8 May 2026

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ جب بھی سفارتی طریقے سے معاملات حل کی جانب بڑھتے ہیں تو عین اسی موقع پر امریکاایک خطرناک فوجی مہم جوئی کا انتخاب کرتا ہے۔

سوشل میڈیاپربیان میں ایرانی وزیر خارجہ نے استفسار کیا کہ کیا یہ محض دباؤ ڈالنے کی ایک بھونڈی حکمت عملی ہے؟ یا پھر کسی تخریب کار کی کارستانی، جو ایک بار پھر امریکی صدر کو ایک نئی دلدل میں دھکیل رہی ہے؟

ان کا مزید کہنا تھا کہ وجوہات کچھ بھی ہوں، نتیجہ ہمیشہ ایک ہی رہتا ہے اور وہ یہ کہ ایرانی کبھی دباؤ کے آگے جھکتے نہیں ہیں۔

عباس عراقچی نے امریکی سینٹرل انٹیلیجنس ایجنسی کی جانب سے ایران کے میزائل ذخائر سے متعلق اندازوں کو بھی غلط قرار دیا ہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ ہمارے میزائل کے ذخائر اور لانچرز کی صلاحیت 31 مارچ کے مقابلے میں 75 فیصد نہیں ہے، صحیح اعداد و شمار 120 فیصد ہیں۔

ایرانی وزیر خارجہ کا یہ بیان گذشتہ رات آبنائے ہرمز میں امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والی ایک مختصر جھڑپ کے بعد سامنے آیا ہے۔