LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
خطے کی کشیدگی سے نمٹنے کے لئے مکمل تیاری رکھیں: وزیراعظم محسن نقوی کا بوئنگ ہیڈکوارٹرز کا دورہ، پی آئی اے کیلئے 16 نئے طیاروں پر پیش رفت اسحاق ڈار 2 روزہ سرکاری دورے پر شنگھائی پہنچ گئے پاکستان کا جاپانی سفیر کو ڈی مارش، مشترکہ اعلامیے پر احتجاج پنجاب حکومت خوابوں کی تعبیر تک نوجوانوں کا ساتھ دے گی: مریم نواز آبنائے ہرمز سرخ لکیر، خطے میں امریکی تنصیبات تباہ کر دیں گے: ایرانی افواج ایران امریکا کشیدگی کسی کے مفاد میں نہیں، فریقین تحمل کا مظاہرہ کریں: پاکستان نیب ترامیم کیس: ضمانت کے مقدمات میں سپریم کورٹ کے اختیار پر سوال، فیصلہ محفوظ کیا اب ایم اے پاس افراد سوئیپر بنیں گے؟ آئینی عدالت کے ریمارکس نجی ہاؤسنگ سوسائٹیوں کی سہولتی اراضی کا استعمال تبدیل کرنے پر پابندی ایران میں حکومت کی تبدیلی کیلئے زمینی فوج نہیں اتاریں گے: جے ڈی وینس پنجاب کے 5 اضلاع میں گرین الیکٹرک بس سروس کا باقاعدہ افتتاح الیکشن کمیشن کا عام انتخابات سے قبل انتخابی قوانین، آئین میں تبدیلیوں کا فیصلہ لیبیا کے قریب تارکین وطن کی کشتی الٹنے سے 50 اموات کا خدشہ ایران نے امریکا کے حملوں کے باوجود امریکی خاتون رہا کر دی، ٹرمپ کا خیرمقدم

ایران نے امریکی جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دے دی

Web Desk

10 April 2026

تہران سے جاری ہونے والے ایک اہم بیان میں ایران کے نائب وزیرِ خارجہ سعید خطیب زادہ نے واضح کیا ہے کہ امریکی بحری جہاز آبنائے ہرمز سے گزر سکتے ہیں، تاہم اس کے لیے شرط یہ ہے کہ وہ کسی بھی قسم کی دشمنی پر مبنی یا اشتعال انگیز سرگرمی میں ملوث نہ ہوں۔ بی بی سی فارسی کے مطابق، ایرانی حکام نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ آبنائے ہرمز اس وقت تمام بین الاقوامی بحری ٹریفک کے لیے کھلی ہے، لیکن جہازوں کے محفوظ گزرنے کو یقینی بنانے کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ ایرانی افواج کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہیں تاکہ تکنیکی اور سیکیورٹی معاملات کو بہتر طور پر سنبھالا جا سکے۔

ایرانی نائب وزیر کا مزید کہنا تھا کہ ایران اپنے متعین کردہ محفوظ راستوں کے ذریعے تمام تجارتی اور فوجی جہازوں کی حفاظت کی ضمانت دے گا۔ یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر کڑی تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا تھا کہ تہران آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل کے عالمی معاہدوں کی پاسداری نہیں کر رہا۔ ماہرین اس ایرانی بیان کو خطے میں جاری کشیدگی کو کم کرنے کی ایک سفارتی کوشش قرار دے رہے ہیں، تاہم اس کے عملی نفاذ کے لیے ایرانی بحریہ کے ساتھ کوآرڈینیشن کو لازمی قرار دیا گیا ہے۔