LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان پاکستان نے سندھ طاس معاہدے کی معطلی کا معاملہ دوبارہ عالمی فورم پر اٹھا دیا، بھارتی اقدام اشتعال انگیز قرار وزیراعظم شہباز شریف اور اسحاق ڈار کو ملنے والے سرکاری تحائف کی تفصیلات جاری کر دی گئیں ایران پر مسلسل 13ویں رات شدید فضائی حملے، اہداف مکمل کرلئے: سینٹکام یورپی کمیشن نے گوگل پر بھاری جرمانہ عائد کر دیا ٹرمپ کو بغیر سوچے سمجھے جارحیت کی قیمت چکانا پڑے گی: عباس عراقچی نیویارک فائرنگ کا شکار ڈرائیور پاکستانی تارکین وطن دانش سرور نکلا: خاندان کی کفالت کے لیے ہفتے کے ساتوں دن کام کر رہا تھا نیویارک: نقاب پوش ڈکیت نے کیب ڈرائیور کے چہرے پر گولی مار دی، پولیس کی ملزم کی تلاش میں چھاپے جموں و کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ ہے نہ داخلی معاملہ، متنازع علاقہ ہے: پاکستان ابھی ایران کو زیادہ تکلیف نہیں پہنچی، بڑی فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع کرنے پر غور کر رہے ہیں: ٹرمپ کی دھمکی تجارتی جہازوں کے نقصان کا ازالہ ایران کے منجمداثاثوں سے کیا جائے گیا، نقصانات ایرانی رقم سے پورے کیے جائیں گے: ٹرمپ ایران کے شہر بندر عباس اور جزیرہ قشم میں دھماکوں کی اطلاعات امریکا کی ایران پر جارحیت جاری، بندرعباس اور اہواز دھماکوں سے گونج اٹھے میری ٹائم آرگنائزیشن نے بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں پر حملے سنگین خطرہ قرار دیدیئے امریکی شہریوں کیلئے مشرق وسطیٰ سے متعلق سفری ہدایات جاری

ٹرمپ کو بغیر سوچے سمجھے جارحیت کی قیمت چکانا پڑے گی: عباس عراقچی

Web Desk

24 July 2026

ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مسلسل دی جانے والی فوجی کارروائی کی دھمکیوں پر شدید ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ بے سوچے سمجھے کی جانے والی جارحیت ٹرمپ کو توقع سے کہیں زیادہ بھاری قیمت چکانے پر مجبور کرے گی۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری کردہ اپنے ایک بیان میں عباس عراقچی نے کہا کہ امریکی انتظامیہ میں موجود بعض گمراہ اور نااہل افراد زمینی حقائق سے مکمل طور پر آنکھیں بند کیے ہوئے ہیں۔ انہوں نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ امریکی حکام کی تمام تر توجہ صرف 2028 کے امریکی صدارتی انتخابات پر مرکوز ہے اور وہ حقائق کو نظر انداز کر رہے ہیں۔

ایرانی وزیر خارجہ نے واضح کیا کہ امریکی حکام جس جارحانہ رویے اور عسکری اقدامات کی وکالت کر رہے ہیں، اس کا حتمی نتیجہ صرف یہ نکلے گا کہ صدر ٹرمپ کو اس معاہدے کے لیے، جسے وہ حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، بہت بڑی قیمت ادا کرنا پڑے گی۔

صدر ٹرمپ کی جانب سے نقصانات کے ازالے کے لیے ایران کے منجمد اثاثوں کو استعمال کرنے سے متعلق بیان کا جواب دیتے ہوئے عباس عراقچی نے کہا کہ کسی بھی ملک کے قانونی اثاثے ضبط کر کے انہیں غیر متعلقہ اور مستقبل کے دعوؤں کی ادائیگی کے لیے استعمال کرنا ایک انتہائی خطرناک اور تباہ کن عالمی روایت کی بنیاد رکھنا ہے۔

انہوں نے مزید لکھا کہ جو عناصر اس وقت ایسے اثاثوں اور فنڈز کے حصول پر جشن منا رہے ہیں، انہیں یہ بات اچھی طرح یاد رکھنی چاہیے کہ ایک بار جب عالمی سطح پر حکومتوں نے ایک دوسرے کے اثاثوں کی غصب اور ضبطگی کو معمول بنا لیا، تو پھر دنیا میں کسی کا بھی اثاثہ محفوظ نہیں رہے گا۔ اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی عالمی افراتفری اور عالمی معاشی و سیاسی عدم استحکام انتہائی بھیانک اور پرتشدد ہو سکتا ہے۔

واضح رہے کہ امریکی ایوان نمائندگان کی جانب سے ایران کے خلاف جنگ سے روکنے کی قراردادوں اور موقف کے باوجود امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر ایک بار پھر بڑے پیمانے پر ملٹری آپریشن کی دھمکی دی ہے۔ امریکی خبر رساں ادارے ‘ایکزیوس’ سے بات کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ ایران کو ابھی کافی تکلیف نہیں پہنچی ہے اور وہ ‘آپریشن ایپک فیوری’ سے بھی زیادہ شدید اور بڑے فوجی حملوں پر غور کر رہے ہیں۔