LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکی فوج نے آبنائے ہرمز سے بارودی سرنگیں صاف کر دیں: صدر ٹرمپ کا دعویٰ امریکی فوجی اڈوں کی منتقلی کیلئے بغداد اور واشنگٹن میں رابطے جاری میر رضا قتل کیس: مقتول کے معدے سے تیزاب کی موجودگی کے شواہد مل گئے امریکا سفارت کاری میں ناکامی کے بعد پابندیوں کا سہارا لیتا ہے: اسماعیل بقائی عمان میں پھنسے آئل ٹینکر سے خام تیل کا اخراج بدستور جاری امریکا سمجھ چکا آبنائے ہرمز فوجی طاقت سے نہیں کھلے گا: ایران کولمبیا میں شدید زلزلے کے بعد آفٹر شاکس کا سلسلہ جاری،77 افراد ہلاک، درجنوں عمارتیں منہدم حکومت کا پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں برقرار رکھنے کا اعلان روس جیسے وسیع ملک میں علاقوں کا آبادی سے خالی ہونا ناقابل قبول ہے: صدر پوتن حکومت بانی پی ٹی آئی کی صحت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی: احسن اقبال شمالی وزیرستان میں رات کے اوقات میں عوامی نقل و حرکت پر پابندی عائد ٹرمپ کا ایران سے جنگی نقصانات کا معاوضہ مانگنے کا اعلان محمد علی ملک سٹیٹ بینک کے ڈپٹی گورنر مقرر، وزارت خزانہ کا نوٹیفکیشن جاری آزاد کشمیر انتخابات: ایل اے 14 غربی باغ میں بڑا اپ سیٹ، ساجد اقبال کی سردار عتیق کو شکست سپریم لیڈر نے ایران کی مسلح افواج میں اعلیٰ فوجی کمانڈروں کی تقرریاں کردیں

نیتن یاہو نے غزہ سے متعلق ٹرمپ کے 15 نکاتی امن منصوبے کو مسترد کردیا

Web Desk

9 August 2026

اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے غزہ سے متعلق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے “بورڈ آف پیس” کی جانب سے پیش کردہ 15 نکاتی منصوبے کو مسترد کر دیا ہے۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق نیتن یاہو نے واضح کیا ہے کہ جب تک حماس کو حقیقی اور مکمل طور پر غیر مسلح نہیں کر دیا جاتا، اس وقت تک اسرائیلی فوج غزہ سے کسی بھی قسم کا انخلا نہیں کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل حماس کی محض ظاہری یا فرضی کمزوری کے بجائے اس کی عسکری صلاحیتوں کا مکمل اور حقیقی خاتمہ چاہتا ہے۔

اسرائیلی وزیراعظم نے مزید بتایا کہ اس معاملے پر امریکی حکام کے ساتھ بات چیت کا سلسلہ جاری ہے؛ امریکہ کی جانب سے پیش کی گئی کچھ تجاویز قابلِ قبول ہیں لیکن بعض نکات اسرائیل کے لیے بالکل نااہلِ قبول ہیں۔ یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غزہ میں جنگ بندی اور معاشی بہتری کی جانب پیشرفت کے لیے یہ 15 نکاتی امن منصوبہ پیش کیا تھا، جس کے بارے میں امریکی حکام کا دعویٰ تھا کہ یہ خطے کو تنازع سے نکالنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔