LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
آئی ایم ایف معاہدہ اور معاشی استحکام بڑی کامیابی؛ سعودی عرب کے خلاف جارحیت کا کوئی جواز نہیں: وزیراعظم شہباز شریف سکیورٹی فورسز نے افغانستان سے اسلحہ سمگلنگ کی کوشش ناکام بنا دی وفاقی کابینہ نے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی نافذ کرنے کی منظوری دے دی پاکستان کی ریاض پر حوثی حملے کی مذمت، سعودی خودمختاری کے تحفظ کا عزم فلوریڈا میں سمندری طوفان سے تباہی، 2 افراد ہلاک، 8 لاکھ صارفین بجلی سے محروم وزیراعظم کی ریاض پر حوثی حملے کی مذمت، سعودی خودمختاری کے تحفظ کا عزم اسپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی کا ارکان اسمبلی کی سکیورٹی واپس لینے پر اظہار تشویش، آئی جی کو مراسلہ ارسال کردیا پی ٹی آئی نے گورنر ہاؤس پر چڑھائی کی تو غیر قانونی اقدام کے جرم میں سہیل آفریدی کو گرفتار کرنے کا حکم دیں گے: فیصل کریم کنڈی فلوریڈا میں سمندری طوفان سے تباہی، 2 افراد ہلاک، 8 لاکھ صارفین بجلی سے محروم یوکرینی علاقے پر روسی حملے: 3 بچوں سمیت 20 افراد ہلاک، 18 زخمی حوثیوں کے تازہ حملوں کے بعد سعودی عرب کا فلائٹ آپریشن شدید متاثر بارش، آندھی اور طوفان کا خدشہ، پنجاب میں کا الرٹ جاری کردیا سال کے آغاز کے مقابلے میں پٹرول 145، ڈیزل 139 روپے مہنگا ہوا ملک کی معاشی ترقی کیلیے موثر اقدامات کی ضرورت، احسن اقبال کراچی، عمرہ زائرین اور بین الاقوامی مسافروں کی ویکسی نیشن شروع

آزاد کشمیر انتخابات کے دوران پبلک سروس کمیشن میں 7 نئے ارکان کی تقرری، اپوزیشن کا اعتراض

Web Desk

9 August 2026

آزاد جموں و کشمیر حکومت نے عام انتخابات کے جاری عمل کے دوران آزاد کشمیر پبلک سروس کمیشن (AJKPSC) میں سات نئے ارکان کو تین سال کی مدت کے لیے مقرر کر دیا ہے، جس پر اپوزیشن جماعتوں پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان تحریک انصاف نے شدید اعتراضات اٹھائے ہیں۔ 8 اگست کو جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق مدحت شہزاد، منیر حسین چوہدری، ڈاکٹر لیاقت حسین، محمد زاہد خان، ڈاکٹر عبد القدوس خان، ڈاکٹر عبد الحمید اور محمد سلیم خان کو رکن مقرر کیا گیا ہے۔ سرکاری ملازمتوں میں بھرتیوں کی نگرانی کرنے والے اس اہم آئینی ادارے میں ان طویل مدتی تقرریوں کو سیاسی اور انتظامی حلقوں میں خاصی اہمیت دی جا رہی ہے۔

عام انتخابات کے تیسرے مرحلے کے دوران ہونے والی ان تقرریوں پر اپوزیشن نے موقف اختیار کیا ہے کہ انتخابی عمل کے دوران آئینی اداروں میں طویل مدتی تقرریاں اخلاقی اور سیاسی طور پر غیر مناسب ہیں۔ پی ٹی آئی کے سینئر رہنما خواجہ فاروق احمد کا کہنا ہے کہ پبلک سروس کمیشن میں فیصلے نئی منتخب حکومت پر چھوڑے جائیں تاکہ وہ عوامی مینڈیٹ کے مطابق اداروں کو منظم کر سکے۔ دوسری جانب، حکومت کی طرف سے انتخابی ایام میں ان تقرریوں پر ابھی تک کوئی تفصیلی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے، تاہم سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق نئی حکومت کے قیام کے بعد ان تقرریوں کے قانونی و انتظامی جواز پر بحث مزید شدت اختیار کر سکتی ہے۔