LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکی فوج نے آبنائے ہرمز سے بارودی سرنگیں صاف کر دیں: صدر ٹرمپ کا دعویٰ امریکی فوجی اڈوں کی منتقلی کیلئے بغداد اور واشنگٹن میں رابطے جاری میر رضا قتل کیس: مقتول کے معدے سے تیزاب کی موجودگی کے شواہد مل گئے امریکا سفارت کاری میں ناکامی کے بعد پابندیوں کا سہارا لیتا ہے: اسماعیل بقائی عمان میں پھنسے آئل ٹینکر سے خام تیل کا اخراج بدستور جاری امریکا سمجھ چکا آبنائے ہرمز فوجی طاقت سے نہیں کھلے گا: ایران کولمبیا میں شدید زلزلے کے بعد آفٹر شاکس کا سلسلہ جاری،77 افراد ہلاک، درجنوں عمارتیں منہدم حکومت کا پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں برقرار رکھنے کا اعلان روس جیسے وسیع ملک میں علاقوں کا آبادی سے خالی ہونا ناقابل قبول ہے: صدر پوتن حکومت بانی پی ٹی آئی کی صحت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی: احسن اقبال شمالی وزیرستان میں رات کے اوقات میں عوامی نقل و حرکت پر پابندی عائد ٹرمپ کا ایران سے جنگی نقصانات کا معاوضہ مانگنے کا اعلان محمد علی ملک سٹیٹ بینک کے ڈپٹی گورنر مقرر، وزارت خزانہ کا نوٹیفکیشن جاری آزاد کشمیر انتخابات: ایل اے 14 غربی باغ میں بڑا اپ سیٹ، ساجد اقبال کی سردار عتیق کو شکست سپریم لیڈر نے ایران کی مسلح افواج میں اعلیٰ فوجی کمانڈروں کی تقرریاں کردیں

آزاد کشمیر انتخابات کے دوران پبلک سروس کمیشن میں 7 نئے ارکان کی تقرری، اپوزیشن کا اعتراض

Web Desk

9 August 2026

آزاد جموں و کشمیر حکومت نے عام انتخابات کے جاری عمل کے دوران آزاد کشمیر پبلک سروس کمیشن (AJKPSC) میں سات نئے ارکان کو تین سال کی مدت کے لیے مقرر کر دیا ہے، جس پر اپوزیشن جماعتوں پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان تحریک انصاف نے شدید اعتراضات اٹھائے ہیں۔ 8 اگست کو جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق مدحت شہزاد، منیر حسین چوہدری، ڈاکٹر لیاقت حسین، محمد زاہد خان، ڈاکٹر عبد القدوس خان، ڈاکٹر عبد الحمید اور محمد سلیم خان کو رکن مقرر کیا گیا ہے۔ سرکاری ملازمتوں میں بھرتیوں کی نگرانی کرنے والے اس اہم آئینی ادارے میں ان طویل مدتی تقرریوں کو سیاسی اور انتظامی حلقوں میں خاصی اہمیت دی جا رہی ہے۔

عام انتخابات کے تیسرے مرحلے کے دوران ہونے والی ان تقرریوں پر اپوزیشن نے موقف اختیار کیا ہے کہ انتخابی عمل کے دوران آئینی اداروں میں طویل مدتی تقرریاں اخلاقی اور سیاسی طور پر غیر مناسب ہیں۔ پی ٹی آئی کے سینئر رہنما خواجہ فاروق احمد کا کہنا ہے کہ پبلک سروس کمیشن میں فیصلے نئی منتخب حکومت پر چھوڑے جائیں تاکہ وہ عوامی مینڈیٹ کے مطابق اداروں کو منظم کر سکے۔ دوسری جانب، حکومت کی طرف سے انتخابی ایام میں ان تقرریوں پر ابھی تک کوئی تفصیلی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے، تاہم سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق نئی حکومت کے قیام کے بعد ان تقرریوں کے قانونی و انتظامی جواز پر بحث مزید شدت اختیار کر سکتی ہے۔