LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی جیل میں وکلا سے ملاقات کرانے کا حکم ایران جانے والے 135 تجارتی جہاز واپس موڑ دیے: امریکی فوج انکم ٹیکس گوشواروں میں غلطی پر ایف بی آر کا جرمانے عائد کرنے کا فیصلہ پاکستان سٹاک مارکیٹ میں مندی، ہنڈرڈ انڈیکس 900 پوائنٹس گر گیا جبوتی سے یمن جانے والی تارکین وطن کی کشتی الٹ گئی، 139 افراد ہلاک سوڈان میں سونے کی کان پر فضائی حملہ، 72 مزدور ہلاک پاکستان، مصر اور ترکیہ کی سعودیہ کیخلاف حوثی ملیشیا کے حملوں کی شدید مذمت معروف اینکر اقرار الحسن کو لاہور سے گرفتار کر لیا گیا ٹرمپ نے بحر الکاہل اور بحر اوقیانوس میں سے کسی ایک کا نام تبدیل کرکے ’بحر ٹرمپ‘ رکھنے کی تجویز دے دی روسی تیل تنصیبات پر حملوں کی صورت میں امریکا کی یوکرین کو ہتھیاروں کی فراہمی روکنےکی دھمکی بھارتی پرواز میں پاور بینک سے آگ لگ گئی، حیدرآباد میں ہنگامی لینڈنگ کرنا پڑی فراری کمانڈر نور خان نے 60 ساتھیوں سمیت سوئی میں ہتھیارڈال دیے جبوتی سے یمن جانیوالے تارکین وطن کی کشتی الٹ گئی، 15 بچوں سمیت 139 افراد ہلاک ایمازون کے بانی کی جیف بیزوز کی اے آئی ٹیکنالوجی کے حوالے سے حیران کن پیشگوئی اے آئی اور جوہری تنازع 2100 میں انسانیت کی بقا کیلئے خطرہ بن سکتے ہیں، رپورٹ میں انتباہ

مکہ مشترکہ معاہدہ مکمل طور پر دفاعی نوعیت کا ہے: اسحاق ڈار کی وضاحت

Web Desk

9 August 2026

نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان طے پانے والے “مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے” کی وضاحت جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ معاہدہ کسی بھی ملک کے خلاف نہیں بلکہ خطے میں امن، استحکام اور خوشحالی کے فروغ کے لیے اسٹریٹجک دفاعی تعاون کو مضبوط بنانے کا ذریعہ ہے۔ وفاقی دارالحکومت سے جاری اپنے بیان میں انہوں نے بتایا کہ 7 اگست 2026 کو مکہ مکرمہ میں دستخط شدہ یہ معاہدہ تینوں برادر ممالک کی قیادت اور عوام کے درمیان برسوں سے جاری مشاورت، رابطوں اور گہرے تعلقات کا نتیجہ ہے۔ اس معاہدے کے تحت تینوں میں سے کسی ایک ملک پر بیرونی مسلح حملہ تمام ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا، جو اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت انفرادی اور اجتماعی دفاع کے حق سے مکمل ہم آہنگ ہے۔

اسحاق ڈار نے واضح کیا کہ مکہ معاہدہ پاکستان، سعودی عرب یا ترکیہ کے کسی بھی پہلے سے موجود دوطرفہ، کثیرالجہتی یا عالمی و علاقائی تنظیموں کے ساتھ معاہدوں کو منسوخ یا متاثر نہیں کرتا۔ انہوں نے زور دیا کہ یہ معاہدہ خطے کے دیگر ممالک کے لیے بھی کھلا ہے، بشرطیکہ وہ اس کے بنیادی اصولوں کو قبول کریں اور باہمی تنازعات کا حل پُرامن ذرائع، احترام اور تعاون سے نکالنے پر تیار ہوں۔ نائب وزیراعظم کے مطابق، یہ اقدام پاکستان کی خارجہ پالیسی کے بنیادی اصولوں سے ہم آہنگ ہے اور اسلام آباد تمام تنازعات کے پُرامن حل اور خطے میں دیرپا امن و ترقی کے لیے اپنے برادر ممالک کے ساتھ تعاون جاری رکھنے کے لیے پرعزم ہے۔