مکہ مشترکہ معاہدہ مکمل طور پر دفاعی نوعیت کا ہے: اسحاق ڈار کی وضاحت
Web Desk
9 August 2026
نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان طے پانے والے “مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے” کی وضاحت جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ معاہدہ کسی بھی ملک کے خلاف نہیں بلکہ خطے میں امن، استحکام اور خوشحالی کے فروغ کے لیے اسٹریٹجک دفاعی تعاون کو مضبوط بنانے کا ذریعہ ہے۔ وفاقی دارالحکومت سے جاری اپنے بیان میں انہوں نے بتایا کہ 7 اگست 2026 کو مکہ مکرمہ میں دستخط شدہ یہ معاہدہ تینوں برادر ممالک کی قیادت اور عوام کے درمیان برسوں سے جاری مشاورت، رابطوں اور گہرے تعلقات کا نتیجہ ہے۔ اس معاہدے کے تحت تینوں میں سے کسی ایک ملک پر بیرونی مسلح حملہ تمام ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا، جو اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت انفرادی اور اجتماعی دفاع کے حق سے مکمل ہم آہنگ ہے۔
اسحاق ڈار نے واضح کیا کہ مکہ معاہدہ پاکستان، سعودی عرب یا ترکیہ کے کسی بھی پہلے سے موجود دوطرفہ، کثیرالجہتی یا عالمی و علاقائی تنظیموں کے ساتھ معاہدوں کو منسوخ یا متاثر نہیں کرتا۔ انہوں نے زور دیا کہ یہ معاہدہ خطے کے دیگر ممالک کے لیے بھی کھلا ہے، بشرطیکہ وہ اس کے بنیادی اصولوں کو قبول کریں اور باہمی تنازعات کا حل پُرامن ذرائع، احترام اور تعاون سے نکالنے پر تیار ہوں۔ نائب وزیراعظم کے مطابق، یہ اقدام پاکستان کی خارجہ پالیسی کے بنیادی اصولوں سے ہم آہنگ ہے اور اسلام آباد تمام تنازعات کے پُرامن حل اور خطے میں دیرپا امن و ترقی کے لیے اپنے برادر ممالک کے ساتھ تعاون جاری رکھنے کے لیے پرعزم ہے۔
متعلقہ عنوانات
ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی جیل میں وکلا سے ملاقات کرانے کا حکم
12 October 2026
خیبرپختونخوا میں 6 ڈویژنوں کے کمشنرز تبدیل
12 October 2026
ایران جانے والے 135 تجارتی جہاز واپس موڑ دیے: امریکی فوج
12 October 2026
انکم ٹیکس گوشواروں میں غلطی پر ایف بی آر کا جرمانے عائد کرنے کا فیصلہ
12 October 2026
پاکستان سٹاک مارکیٹ میں مندی، ہنڈرڈ انڈیکس 900 پوائنٹس گر گیا
12 October 2026
جبوتی سے یمن جانے والی تارکین وطن کی کشتی الٹ گئی، 139 افراد ہلاک
12 October 2026
سوڈان میں سونے کی کان پر فضائی حملہ، 72 مزدور ہلاک
12 October 2026
پاکستان، مصر اور ترکیہ کی سعودیہ کیخلاف حوثی ملیشیا کے حملوں کی شدید مذمت
12 October 2026