LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
گولہ بارود اور ہتھیاروں کا ذخیرہ موجودہ ضروریات سے کہیں زیادہ ہے، ٹرمپ ایران امریکا جنگ میں وقفے سے خام تیل اور قدرتی گیس کی قیمتوں میں نمایاں کمی آزاد کشمیر الیکشن: کوٹلی میں 2 پریزائیڈنگ افسران معطل، گرفتار کر لیا گیا رانا ثنا اللہ نے ایل اے 10 کوٹلی میں انتخاب روکنے کا مطالبہ کر دیا دشمن اب دباؤ کے ذریعے ایرانی قوم کے عزم کو کمزور نہیں کر سکتے، مشیر سپریم لیڈر ایران نے لبنانی جنگجوؤں کا دفاع اپنی سٹریٹجک پالیسی کا حصہ بنا لیا ہے، ایرانی سپریم لیڈر کراچی: جمالی پل کے قریب منی ٹرک نے شہریوں کو کچل ڈالا، 3 افراد جاں بحق آبنائے ہرمز سے گزرنے والا آئل ٹینکر بارودی سرنگ سے ٹکرا کر تباہ بھارتی وزیرِ دفاع کے کشمیر سے متعلق اشتعال انگیز بیانات، پاکستان کی شدید مذمت لیگی قیادت حقیقی معنوں میں عوام کی امنگوں کی ترجمان ہے، مریم اورنگزیب کیپٹن محمد سرور شہید کا 78واں یوم شہادت، مسلح افواج کے سربراہان کا خراج عقیدت جنوبی افریقہ میں فائرنگ، دو سگے بھائیوں سمیت چار پاکستانی جاں بحق یوکرین نے اسرائیل کے کہنے پر ایرانی جہاز کو نشانہ بنایا: عباس عراقچی بحیرہ احمر میں حوثیوں کے حملے ایرانی ایجنڈے کی تکمیل ہیں: یمنی وزیراعظم ٹرمپ نے ایران کو سفارتکاری کا موقع دینے کیلئے حملے روکے: مائیک والٹز

بھارت نے پہلگام واقعے کے بعد سندھ طاس معاہدے کو دہشت گردی سے جوڑا، انڈس واٹر کمشنر

Web Desk

19 December 2025

اسلام آباد: پاکستان کے انڈس واٹر کمشنر مہر علی شاہ نے غیر ملکی سفارتکاروں کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت نے پہلگام واقعے کے بعد سندھ طاس معاہدے کو بھی دہشت گردی سے جوڑنے کی کوشش کی، حالانکہ تنازعات چاہے جتنے بھی سنگین ہوں، سندھ طاس معاہدہ اپنی اصل روح کے مطابق برقرار رہنا چاہیے۔

مہر علی شاہ نے بتایا کہ بھارت نے رواں سال دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں تین بار تبدیلی کی، جبکہ مئی کے مہینے میں دو مرتبہ پانی کے بہاؤ میں چھیڑ خانی کی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی پر تاحال کوئی باضابطہ جواب موصول نہیں ہوا۔

انڈس واٹر کمشنر نے کہا کہ پاکستان شفافیت پر یقین رکھتا ہے اور ہر سطح پر ذمہ داری کا مظاہرہ کرتا رہا ہے، جبکہ بھارت کے پاس اپنے اقدامات کا کوئی جواز باقی نہیں رہا۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان سندھ طاس معاہدہ موجود ہے، جس میں 12 آرٹیکلز شامل ہیں۔

مہر علی شاہ کے مطابق معاہدے میں یہ بات واضح طور پر درج ہے کہ نہ پاکستان اور نہ ہی بھارت یکطرفہ طور پر سندھ طاس معاہدے کو ختم کر سکتے ہیں، اور بھارت پانی کے بہاؤ میں کسی بھی قسم کی یکطرفہ تبدیلی کا مجاز نہیں ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ بھارتی طرزِ عمل سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ سندھ طاس معاہدے کی پاسداری کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا، جس کے باعث پاکستان نے اب یہ معاملہ اقوام متحدہ کی سطح پر اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے۔