LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
الیکشن کمیشن نے ٹی ایل پی انٹرا پارٹی الیکشن کیس پر فیصلہ محفوظ پاکستان سٹاک مارکیٹ میں کاروبار کے دوران شدید مندی کا رجحان ڈونلڈ ٹرمپ نے بندر عباس پر حملوں کی ویڈیو جاری کر دی فیفا ورلڈکپ2026 : کوارٹر فائنل لائن اپ مکمل ہوگئی تیل فروخت کا ایرانی لائسنس منسوخ، عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ کے ٹو ایئرویز طیارہ حادثہ: تلاش کے لیے بحری و فضائی آپریشن تیز، کراچی میں ایئرلائن کے دفاتر سیل وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی سری لنکن ہم منصب سے ملاقات، انسداد منشیات اور پولیس ٹریننگ میں تعاون بڑھانے پر اتفاق پاسداران انقلاب کا 85 امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ غنڈہ گردی اور بھتہ خوری کا دور ختم ہو چکا، جھکیں گے نہیں: سپیکر ایرانی پارلیمنٹ تیل فروخت کا ایرانی لائسنس منسوخ، عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ پاسداران انقلاب کا امریکی حملوں کا تباہ کن جواب دینے کا اعلان امریکا کے ایران پر حملہ کے بعد اسرائیل کی جنوبی لبنان پر بمباری امریکہ: ہیوسٹن میں امیگریشن حکام کی فائرنگ، گاڑی افسر پر چڑھانے کی کوشش کرنے والا ملزم ہلاک معاہدۂ جنگ بندی خطرے میں: امریکہ کے ایران پر نئے فضائی حملے، مشرقِ وسطیٰ میں دوبارہ جنگ کا خدشہ پاکستان کے لیے عالمی اعزاز: پاکستانی ماہرِ نفسیات ڈاکٹر عائشہ میاں بین الاقوامی تنظیم کی صدر منتخب

بھارت نے اپنی تاریخ کا سب سے بھاری سیٹلائٹ لانچ کر دیا

Web Desk

25 December 2025

بھارت کی خلائی ایجنسی نے اب تک کا سب سے بھاری پے لوڈ خلا میں روانہ کیا ہے، جس پر وزیر اعظم نریندر مودی نے اسے خلائی شعبے کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیا۔

ایل وی ایم تھری ایم سکس راکٹ کے ذریعے امریکا میں تیار کردہ اے ایس ٹی اسپیس موبائل کمیونی کیشن سیٹلائٹ کو نچلے زمینی مدار میں پہنچایا گیا۔ انڈین اسپیس ریسرچ آرگنائزیشن (اسرو) کے مطابق یہ بھارتی سرزمین سے لانچ کیا جانے والا اب تک کا سب سے بھاری پے لوڈ ہے، جس کا وزن 6 ہزار 100 کلوگرام ہے۔

یہ لانچ بھارت کے کم لاگت مگر بلند عزائم پر مبنی خلائی پروگرام کے لیے بڑی کامیابی ہے، جس کے تحت آئندہ برسوں میں بغیر انسان کے مدار میں مشن اور انسانی خلائی پروازوں کا منصوبہ شامل ہے۔ راکٹ کے ترمیم شدہ ورژن کے ذریعے یہ سیٹلائٹ بھیجا گیا، جسے بھارت مستقبل کے خلائی مشنز میں استعمال کرے گا۔

بھارت تیزی سے پھیلتے ہوئے کمرشل سیٹلائٹ بزنس میں بڑا حصہ حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے، جہاں فون، انٹرنیٹ اور دیگر کمپنیاں جدید اور وسیع کمیونی کیشن سہولیات کی طلب میں ہیں۔ بھارت کا کہنا ہے کہ 2027 میں پہلی انسانی خلائی پرواز سے قبل بغیر انسان کے مدار میں مشن بھیجے گا، اور 2040 تک ایک خلاباز کو چاند پر بھیجنے کا ارادہ رکھتا ہے۔