LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ڈونلڈ ٹرمپ نے بندر عباس پر حملوں کی ویڈیو جاری کر دی فیفا ورلڈکپ2026 : کوارٹر فائنل لائن اپ مکمل ہوگئی تیل فروخت کا ایرانی لائسنس منسوخ، عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ کے ٹو ایئرویز طیارہ حادثہ: تلاش کے لیے بحری و فضائی آپریشن تیز، کراچی میں ایئرلائن کے دفاتر سیل وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی سری لنکن ہم منصب سے ملاقات، انسداد منشیات اور پولیس ٹریننگ میں تعاون بڑھانے پر اتفاق پاسداران انقلاب کا 85 امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ غنڈہ گردی اور بھتہ خوری کا دور ختم ہو چکا، جھکیں گے نہیں: سپیکر ایرانی پارلیمنٹ تیل فروخت کا ایرانی لائسنس منسوخ، عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ پاسداران انقلاب کا امریکی حملوں کا تباہ کن جواب دینے کا اعلان امریکا کے ایران پر حملہ کے بعد اسرائیل کی جنوبی لبنان پر بمباری امریکہ: ہیوسٹن میں امیگریشن حکام کی فائرنگ، گاڑی افسر پر چڑھانے کی کوشش کرنے والا ملزم ہلاک معاہدۂ جنگ بندی خطرے میں: امریکہ کے ایران پر نئے فضائی حملے، مشرقِ وسطیٰ میں دوبارہ جنگ کا خدشہ پاکستان کے لیے عالمی اعزاز: پاکستانی ماہرِ نفسیات ڈاکٹر عائشہ میاں بین الاقوامی تنظیم کی صدر منتخب امریکہ کا ایران پر باقاعدہ فوجی حملہ، متعدد شہر دھماکوں سے گونج اٹھے، عالمی منڈی میں تیل مہنگا حملوں میں ایران کے فضائی دفاعی اور میزائل نظام کو نشانہ بنایا گیا، امریکی حکام

ٹک ٹاک پر کم عمر بچیوں سے مشابہ اے آئی کی نازیبا ویڈیوز بے نقاب؛ تحقیق

Web Desk

30 December 2025

سائنسی جریدے میں شائع ہونے والی ایک تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے تیار کی گئی ایسی ویڈیوز سامنے آئی ہیں جن میں کم عمر بچیوں سے مشابہ کرداروں کو نامناسب انداز میں پیش کیا جا رہا ہے۔ اسپین میں قائم ادارے میلڈیٹا کی تحقیق کے مطابق یہ ویڈیوز ٹک ٹاک کے قواعد کے باوجود لاکھوں لائیکس حاصل کرنے میں کامیاب ہوئیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ درجن سے زائد ٹک ٹاک اکاؤنٹس کمپیوٹر سے تیار کردہ کم عمر لڑکیوں جیسی ویڈیوز شیئر کر رہے تھے، جن کے مجموعی طور پر لاکھوں فالوورز ہیں۔ محققین کے مطابق اکثر ویڈیوز ٹک ٹاک کے اپنے فیچر AI Alive کے ذریعے بنائی گئیں، جبکہ کچھ مواد بیرونی اے آئی ٹولز سے تیار کیا گیا۔

تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ ویڈیوز کے کمنٹ سیکشن میں ٹیلیگرام لنکس موجود تھے جہاں غیر قانونی مواد فروخت کرنے کی پیشکش کی جا رہی تھی۔ ادارے نے ان لنکس کی نشاندہی متعلقہ حکام کو کر دی ہے، تاہم تاحال مؤثر کارروائی نہیں کی گئی۔

ٹک ٹاک کی پالیسی کے مطابق کم عمر افراد کو جنسی انداز میں دکھانا سختی سے ممنوع ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ وہ خودکار ٹیکنالوجی اور انسانی ماڈریشن کے ذریعے مواد کی نگرانی کرتی ہے اور 2025 کی دوسری سہ ماہی میں کروڑوں ویڈیوز اور اکاؤنٹس حذف کیے گئے۔

تاہم محققین کا کہنا ہے کہ کئی اکاؤنٹس اور ویڈیوز کو ابتدا میں قواعد کی خلاف ورزی قرار نہیں دیا گیا، جس سے پلیٹ فارم کی ماڈریشن صلاحیت پر سوالات اٹھتے ہیں۔ ڈیجیٹل ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ مؤثر نگرانی کے بغیر جنریٹو اے آئی بچوں کے تحفظ کے لیے بڑا خطرہ بن سکتی ہے، اسی تناظر میں دنیا بھر میں سوشل میڈیا قوانین سخت کیے جا رہے ہیں۔