LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
نیویارک میں یہود مخالف جرائم میں اضافہ: این وائی پی ڈی کی جانب سے سب سے محفوظ ترین موسمِ گرما کے دعوے کے باوجود اعداد و شمار جاری قائمہ کمیٹی پیٹرولیم کا اجلاس: قانون سازی میں عدم شرکت کے پارٹی فیصلے کے باعث جی آئی ڈی سی اور گیس سرچارج بل موخر عالمی چیلنجز سے نمٹنے کیلئے اقوام متحدہ کو مزید مضبوط بنانا ہوگا: وزیراعظم گومل یونیورسٹی سے ملحقہ نجی کالجز کے ریکارڈ میں بے ضابطگیوں کا انکشاف پاکستان کو دوبارہ عروج و زوال کے معاشی چکر میں نہیں جانے دیں گے: وزیر خزانہ خیبرپختونخوا کا ٹرانسپورٹ نظام بحران کا شکار، بدانتظامی کے سنگین انکشافات یورپی یونین بھی ایران کے خلاف اقتصادی آپریشن میں شامل ہو گئی: امریکا پاکستان سٹاک مارکیٹ میں کاروبار کے دوران اتار چڑھاؤ جاری حکومت کا جون 2027 تک پیٹرول کی قیمتیں ڈی ریگولیٹ کرنے کا ہدف مقرر ایس ای سی پی کا بڑا سنگِ میل: اگست 2026ء میں 4,761 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ، آئی ٹی سیکٹر سرِ فہرست کوہ پیما ماؤنٹ ایورسٹ کے گلیئشرز کو پگھلانے کا باعث بن رہے ہیں، حیران کن انتباہ آئی ایس پی آر سمر انٹرنشپ پروگرام کے طلبہ کا پی ایم اے کاکول کا مطالعاتی دورہ بھارتی بیان بازی شرمناک، نارووال میں مندر طوفانی بارش سے متاثر ہوا: دفتر خارجہ پاکستانی شہری نے ابوظبی میں 1 کروڑ 50 لاکھ درہم کی لاٹری جیت لی وزیراعلیٰ مریم نواز کا سرگودھا میں مزید 7 الیکٹرو بسیں مہیا کرنے کا اعلان

امتیاز علی کا اغوا جیسے سنگین واقعے کا شکار ہونے کا انکشاف

Web Desk

10 June 2026

ممبئی: بالی ووڈ کے معروف اور مایہ ناز فلمساز و ہدایتکار امتیاز علی نے انکشاف کیا ہے کہ دہلی میں اپنے کالج کے زمانے میں وہ ایک بار اغوا جیسے سنگین واقعے کا شکار ہو گئے تھے۔ اپنی آنے والی نئی رومانوی ڈرامہ فلم ’’واپس آؤں گا‘‘ کی تشہیر (Promotions) کے دوران بھارتی میڈیا سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے 55 سالہ امتیاز علی نے بتایا کہ یہ خوفناک واقعہ ان کے طالب علمی کے دور میں اس وقت پیش آیا جب وہ دہلی یونیورسٹی کے مشہور ‘ہندو کالج’ میں زیرِ تعلیم تھے اور وہاں طلبہ سیاست کی کشیدگی اپنے عروج پر تھی۔ ان کے مطابق، دو بڑی طلبا تنظیموں این ایس یو آئی (NSUI) اور اے بی وی پی (ABVP) کے درمیان جاری شدید کشمکش کے دوران وہ ایک غیر متوقع سیاسی تنازع کا نشانہ بن گئے۔

امتیاز علی نے واقعے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ یہ سارا معاملہ محض ایک پوسٹر سے شروع ہوا تھا جو ہاسٹل کی ایک دیوار پر لگایا گیا تھا۔ انہوں نے صرف اتنی سی درخواست کی تھی کہ اس پوسٹر کو سامنے کی مرکزی دیوار کے بجائے سائیڈ والی دیوار پر لگا دیا جائے، مگر مخالف گروہ نے ان کی بات کو یکسر نظر انداز کر دیا۔ اس پر امتیاز علی نے خود وہ پوسٹر وہاں سے اتارا اور دوسری جگہ منتقل کر دیا۔ فلمساز کے مطابق، اس واقعے کے چند دن بعد انہیں مخالف گروپ کی جانب سے باقاعدہ اغوا کر کے ایک ویران سرکاری کوارٹر میں لے جایا گیا جہاں ان سے سخت پوچھ گچھ کی گئی۔ تاہم، بعد میں جب اس گروپ کے مرکزی رہنما کو حقیقت معلوم ہوئی کہ امتیاز علی نے پوسٹر پھاڑا نہیں تھا بلکہ صرف اس کی جگہ تبدیل کی تھی، تو انہوں نے معذرت کر کے انہیں رہا کر دیا۔ امتیاز علی نے اعتراف کیا کہ اگرچہ وہ ایک انتہائی خوفناک صورتحال تھی، لیکن وقت کے ساتھ ساتھ وہی واقعہ ان کے لیے مثبت یادوں میں بدل گیا کیونکہ اس واقعے کے بعد اغوا کرنے والے گروپ کے کئی لڑکے ان کے اچھے دوست بن گئے۔