LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
سینیگال کے ساحل کے قریب تارکین وطن کی کشتی ڈوب گئی، 21 افراد ہلاک کسی بھی دورے کے دوران مارکیٹیں اور کاروبار بند نہ کئے جائیں، مریم نواز کی حکام کو ہدایت امریکی انتخابات کے نتائج نے امریکا کو تاریخ میں کئی قدم پیچھے دھکیل دیا: ٹرمپ مصر میں مسافر ٹرین حادثہ، متعدد بوگیاں پٹری سے اتر گئیں، 64 افراد زخمی غزہ میں بارشوں سے 70 ہزار خیمے زیر آب، ساڑھے 3 لاکھ بے گھر افراد متاثر ایران کیخلاف کسی بھی طاقت کا اتحاد ناکامی سے دوچار ہوگا: ترجمان ایرانی فوج شہباز شریف کی نواز شریف سے ملاقات، ملکی سیاسی و معاشی صورتحال پر مشاورت صدر پوتن کی امریکہ میں جی 20 سربراہی اجلاس میں شرکت کا فیصلہ نہیں ہوا: کریملن پاکستان پوسٹ میں غیر قانونی بھرتیوں کا کیس، اسعد محمود تفتیش سے روپوش قرار پاکستان میں انتظامی یونٹس بنانے کے حوالے سے غور کرنا چاہئے: خواجہ آصف وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی دیوالی کے تہوار پر ہندو برادری کو مبارکباد وزیراعظم شہباز شریف کی آذربائیجان کو یوم فتح کی چھٹی سالگرہ پر مبارکباد شادی اور بچے پیدا کرنے کی ہمت کریں: پوپ لیو کی جنوبی امریکا میں نوجوانوں کو نصیحت سعودی عرب نے ریاض کی جانب داغے گئے 2 بیلسٹک اور 2 کروز میزائل تباہ کر دیے ڈی جی آئی ایس پی آر کا لاہور کی تین جامعات کا دورہ، طلبہ اور اساتذہ سے خصوصی نشستیں

ہم صرف ایک نتھنے سے ہی سانس کیوں لیتے ہیں؟ اس اسرار کا راز جانیں

Web Desk

9 March 2026

کیا آپ نے کبھی غور کیا ہے کہ عام حالات میں سانس لیتے وقت ایک وقت میں ایک نتھنا زیادہ فعال ہوتا ہے؟ یہ دراصل انسانی جسم کا ایک قدرتی اور خودکار عمل ہے جسے نیزل سائیکل (Nasal Cycle) کہا جاتا ہے۔

اگر آپ گہری سانس لے کر غور کریں تو محسوس ہوگا کہ ایک نتھنا زیادہ کھلا ہوتا ہے جبکہ دوسرے سے ہوا کا بہاؤ نسبتاً کم ہوتا ہے۔ یہ کوئی بیماری نہیں بلکہ جسم کا معمول کا نظام ہے جو دن بھر میں کئی مرتبہ خود بخود تبدیل ہوتا رہتا ہے۔

ماہرین کے مطابق جب ہم بیدار ہوتے ہیں تو عموماً ہر دو گھنٹے بعد سانس لینے والا نتھنا تبدیل ہو جاتا ہے، جبکہ نیند کے دوران یہ عمل نسبتاً کم ہو جاتا ہے کیونکہ اس وقت سانس لینے کی رفتار کم ہوتی ہے۔

اس عمل کے دوران ایک نتھنے میں ہوا کا بہاؤ کم ہو جاتا ہے جبکہ دوسرا نتھنا زیادہ کھل جاتا ہے اور زیادہ ہوا وہاں سے گزرنے لگتی ہے۔ وقت کے ساتھ ہوا خشک ہونے اور جراثیم ناک کے خلیات سے ٹکرانے لگتے ہیں تو جسم سانس لینے والا نتھنا تبدیل کر دیتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس پورے عمل کو دماغ خودکار طور پر کنٹرول کرتا ہے۔ تحقیق کے مطابق جب دایاں نتھنا زیادہ فعال ہوتا ہے تو جسم نسبتاً زیادہ متحرک اور الرٹ ہوتا ہے، جبکہ بائیں نتھنے کے فعال ہونے پر جسم زیادہ پرسکون محسوس کرتا ہے۔

یہ قدرتی نظام ناک اور نظام تنفس کو محفوظ رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے کیونکہ انسان کے جسم سے روزانہ تقریباً 12 ہزار لیٹر ہوا گزرتی ہے۔ اس عمل سے ناک کو آرام اور مرمت کا موقع ملتا ہے، شریانوں میں خون کا بہاؤ بہتر ہوتا ہے اور نتھنوں میں نمی برقرار رہتی ہے۔