LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ماہ نور صفدر کی نکاح کی تقریب، شہباز شریف سمیت اہم شخصیات جاتی امرا پہنچ گئیں پرائیویٹ حج سکیم: 7600 عازمین کی بکنگ مکمل ہو چکی: ترجمان مذہبی امور نئے صوبوں کے قیام کیلئے پورے ملک میں ریفرنڈم کرایا جائے: فاروق ستار سندھ بلدیاتی ترمیمی ایکٹ 2026 پر خصوصی کمیٹی کا اجلاس بے نتیجہ ختم 20 ستمبر کو ہم حکومت کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کریں گے: حافظ نعیم الرحمان نئے صوبوں کا فیصلہ پارلیمنٹ کرے گی، حکومت خود ریفرنڈم نہیں کرا سکتی:رانا ثناء اللہ مولانا فضل الرحمن نے جے یو آئی کی مرکزی مجلسِ عمومی کا اجلاس 19 اور 20 ستمبر کو پشاور میں طلب کر لیا روس میں بین الاقوامی یوتھ فیسٹیول کا آغاز، 250 پاکستانی نوجوان شریک پاکستان کی سعودی عرب میں ایسٹ ویسٹ پائپ لائن پر ڈرون حملوں کی شدید مذمت آزاد کشمیر میں انٹرنیٹ کی بحالی: وزیراعظم افتخار گیلانی کا اہم اعلان انصاف کی بروقت فراہمی ناگزیر، تمام ادارے اپنی ذمہ داریاں ادا کریں: چیف جسٹس تھائی لینڈ میں پاکستان کے 61ویں یوم دفاع و شہداء کی پروقار تقریب امریکا محاصرہ اور جارحیت ختم کرے تو آبنائے ہرمز کھول دیں گے: مسعود پزشکیان ناروے کے بادشاہ کی آخری رسومات کے دو دن بعد شہزادی بھی چل بسیں 9/11 انہی لوگوں نے کیا جن کو امریکا نے ہتھیار فراہم کیے تھے: اسماعیل بقائی

ہم صرف ایک نتھنے سے ہی سانس کیوں لیتے ہیں؟ اس اسرار کا راز جانیں

Web Desk

9 March 2026

کیا آپ نے کبھی غور کیا ہے کہ عام حالات میں سانس لیتے وقت ایک وقت میں ایک نتھنا زیادہ فعال ہوتا ہے؟ یہ دراصل انسانی جسم کا ایک قدرتی اور خودکار عمل ہے جسے نیزل سائیکل (Nasal Cycle) کہا جاتا ہے۔

اگر آپ گہری سانس لے کر غور کریں تو محسوس ہوگا کہ ایک نتھنا زیادہ کھلا ہوتا ہے جبکہ دوسرے سے ہوا کا بہاؤ نسبتاً کم ہوتا ہے۔ یہ کوئی بیماری نہیں بلکہ جسم کا معمول کا نظام ہے جو دن بھر میں کئی مرتبہ خود بخود تبدیل ہوتا رہتا ہے۔

ماہرین کے مطابق جب ہم بیدار ہوتے ہیں تو عموماً ہر دو گھنٹے بعد سانس لینے والا نتھنا تبدیل ہو جاتا ہے، جبکہ نیند کے دوران یہ عمل نسبتاً کم ہو جاتا ہے کیونکہ اس وقت سانس لینے کی رفتار کم ہوتی ہے۔

اس عمل کے دوران ایک نتھنے میں ہوا کا بہاؤ کم ہو جاتا ہے جبکہ دوسرا نتھنا زیادہ کھل جاتا ہے اور زیادہ ہوا وہاں سے گزرنے لگتی ہے۔ وقت کے ساتھ ہوا خشک ہونے اور جراثیم ناک کے خلیات سے ٹکرانے لگتے ہیں تو جسم سانس لینے والا نتھنا تبدیل کر دیتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس پورے عمل کو دماغ خودکار طور پر کنٹرول کرتا ہے۔ تحقیق کے مطابق جب دایاں نتھنا زیادہ فعال ہوتا ہے تو جسم نسبتاً زیادہ متحرک اور الرٹ ہوتا ہے، جبکہ بائیں نتھنے کے فعال ہونے پر جسم زیادہ پرسکون محسوس کرتا ہے۔

یہ قدرتی نظام ناک اور نظام تنفس کو محفوظ رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے کیونکہ انسان کے جسم سے روزانہ تقریباً 12 ہزار لیٹر ہوا گزرتی ہے۔ اس عمل سے ناک کو آرام اور مرمت کا موقع ملتا ہے، شریانوں میں خون کا بہاؤ بہتر ہوتا ہے اور نتھنوں میں نمی برقرار رہتی ہے۔