LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
گوجرانوالہ ٹیچنگ ہسپتال کی چوری ادویات گودام سے برآمد، 4 افسران و اہلکار معطل آزاد کشمیر میں انتخابی عمل مکمل، ن لیگ 25 نشستوں کے ساتھ سرفہرست آزاد کشمیر میں عوام نے انتشار اور تشدد کی سیاست کو مسترد کر دیا: مریم نواز آزاد کشمیر الیکشن: ایل اے 16 میں مسلم لیگ (ن)، ایل اے 15 میں پیپلز پارٹی کامیاب بھارتی فوج کی جانب سے کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کی حمایت، گٹھ جوڑ دوبارہ بے نقاب حزب اللہ کمانڈر کی شہادت کے بعد امریکا سے مذاکرات معطل کر دیے: باقر قالیباف تیل کی قیمتیں کم رکھنا امریکا کی پہلی ، ایران کو جوہری ہتھیاروں سے روکنا دوسری ترجیح ہے: جے ڈی وینس انڈونیشیا میں زلزلے سے جانی نقصان پر وزیراعظم کا اظہار افسوس آزاد کشمیر الیکشن: نتائج کو’’فارم 47 پلس‘‘ کے نام سے یاد رکھا جائیگا: شرجیل میمن نیویارک کی تاریخی پاکستان ڈے پریڈ 42ویں سال میں داخل، بلال سعید پہلی بار میڈیسن ایونیو پر سر بکھیریں گے شور پرود کے پہاڑی سلسلے میں سکیورٹی فورسز کا کامیاب آپریشن،10 دہشت گرد ہلاک آزاد کشمیر میں عوام نے انتشار اور تشدد کی سیاست کو مسترد کر دیا: مریم نواز دنیا کے کسی معاشرے نے خواتین کو محکوم رکھ کر ترقی نہیں کی: چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ مخالفین کیساتھ ہمیشہ اچھا سلوک کیا، امید نہیں تھی کہ پیپلزپارٹی کی طرف سے شکایت کا موقع ملے گا: نوازشریف مسلم لیگ ن کی مرکزی قیادت کا اجلاس شروع، آزادکشمیر میں حکومت سازی پر غور

پاکستان میں مرد بھی ہراساں ہونے لگے، خواتین کے بعد ان کا بھی محتسب سے رجوع

Web Desk

4 July 2026

پاکستان میں کام کی جگہوں پر خواتین کے ساتھ ساتھ اب مردوں کو بھی ہراساں کیے جانے کے واقعات میں خطرناک حد تک اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ ایکسپریس نیوز کو دستیاب دستاویزی حقائق کے مطابق، وفاقی محتسب برائے انسدادِ ہراسیت (فوسپا – FOSPAH) میں درج ہونے والی مجموعی شکایات میں سے تقریباً 40 فیصد شکایات خود مردوں کی جانب سے درج کروائی گئی ہیں۔

دستاویزات کے مطابق، ایک سال کے دوران مجموعی طور پر 1,290 مرد و خواتین نے ہراسانی کے خلاف وفاقی محتسب سے رجوع کیا، جس میں سے 521 مردوں نے کام کی جگہ پر ہراسانی کی شکایات درج کروائیں۔ وفاقی محتسب نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ان میں سے 1,104 شکایات کو نمٹا دیا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق، مردوں اور خواتین کو ہراساں کرنے کے کیسز میں فوسپا کا ہیڈ آفس اسلام آباد پہلے نمبر پر جبکہ پنجاب دوسرے نمبر پر رہا ہے۔

صوبائی سطح پر مردوں کی جانب سے درج کرائی گئی شکایات میں وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے بعد پشاور سے 42، کراچی سے 24 اور بلوچستان سے 2 مردوں نے کام کی جگہ پر ہراسانی کے خلاف وفاقی محتسب سے رجوع کیا۔ دوسری جانب، اسی عرصے کے دوران 769 خواتین نے بھی ہراسانی کے خلاف فوسپا میں شکایات درج کروائیں، جن میں سب سے زیادہ تعداد اسلام آباد سے 496 اور پنجاب سے 154 خواتین کی رہی۔ ماہرین کے مطابق، ان اعداد و شمار سے واضح ہوتا ہے کہ کام کی جگہوں پر محفوظ ماحول فراہم کرنا اب دونوں جنسوں کے لیے یکساں چیلنج بن چکا ہے۔