LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
متحدہ عرب امارات کے قریب بحری جہاز پر پروجیکٹائل حملہ، جہاز میں آگ لگ گئی جے یو آئی کی مرکزی کور کمیٹی کا اجلاس، سیاسی صورتحال پر غور امریکا میں سمندری طوفان ایسیاس شدت اختیار کرنے لگا، کیٹیگری 3 میں تبدیل ہونے کا امکان سعودی عرب اور حوثیوں میں کشیدگی، اردن میں امریکی شہریوں کیلئے سکیورٹی الرٹ جاری بلاول بھٹو کا پی ٹی آئی کو انتہاپسندی کی سیاست ترک کرنے کا مشورہ اسد قیصر کا فضل الرحمان سے رابطہ آل پارٹیز کانفرنس کیلئے تھا: شوکت یوسفزئی پنجاب کے بیشتر اضلاع میں 10 سے 14 اکتوبر تک بارشوں کی پیشگوئی پی آئی اے کے بیڑے میں جدید ترین بوئنگ 787 ڈریم لائنر طیارے شامل کرنے کا معاہدہ دھرنوں، احتجاج سے کاروبار، تعلیمی سرگرمیاں اور معیشت متاثر ہوتی ہے: سپیکر پنجاب اسمبلی وزیر خزانہ کی نیدرلینڈز کے کاروباری وفد سے ملاقات، سرمایہ کاری پر تبادلہ خیال فیصل کریم کنڈی کا سہیل آفریدی کو مستعفی ہونے کا مشورہ، لانگ مارچ پر تنقید چیف جسٹس پاکستان کی بار نمائندگان سے مشاورتی نشست، ڈیجیٹل عدالتی اصلاحات پر بریفنگ حافظ نعیم الرحمان کا مفت تعلیم کے حق میں تحریک شروع کرنے کا اعلان ٹرمپ پھر محروم، امن کا نوبیل انعام جنوبی افریقا کی خاتون وکیل کے نام مکہ معاہدہ خطے میں استحکام کی ضمانت، سعودی عرب کا دفاع کیا جائے گا: ترجمان پاک فوج

آزاد کشمیر الیکشن: نتائج کو’’فارم 47 پلس‘‘ کے نام سے یاد رکھا جائیگا: شرجیل میمن

Web Desk

15 August 2026

سندھ کے سینئر وزیر اور پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما شرجیل انعام میمن نے میاں نواز شریف اور وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے حالیہ بیانات پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ آزاد کشمیر کے انتخابات کے نتائج کو تاریخ میں ”فارم 47 پلس” کے نام سے یاد رکھا جائے گا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ مسلم لیگ (ن) نے ایک بار پھر تاریخی دھاندلی کے ذریعے “خیراتی مینڈیٹ” حاصل کیا ہے، جبکہ عوام نے 2024ء کی طرح 2026ء میں بھی ن لیگ کے بیانیے کو مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے۔ شرجیل میمن نے واضح کیا کہ جعلی اور دھاندلی زدہ مینڈیٹ کے زور پر حکومت تو بنائی جا سکتی ہے لیکن عوام کے دلوں میں سچی مقبولیت اور احترام حاصل نہیں کیا جا سکتا۔

نواز شریف کے شکوے کا جواب دیتے ہوئے صوبائی وزیر نے کہا کہ پیپلز پارٹی سے شکایت کرنے سے پہلے قائد ن لیگ کو آزاد کشمیر کی سیاسی صورتحال اور وہاں پیدا کیے گئے غیر جمہوری حالات پر نظر ڈالنی چاہیے تھی۔ انہوں نے زور دیا کہ پیپلز پارٹی نے ہمیشہ جمہوری اصولوں، ووٹ کے تقدس اور سیاسی رواداری کی پاسداری کی ہے، اور اگر کسی انتخابی عمل کی شفافیت پر سنجیدہ سوالات اٹھیں تو ان پر آواز اٹھانا پیپلز پارٹی کا بنیادی آئینی اور جمہوری حق ہے۔

شرجیل انعام میمن کے ردعمل کے اہم نکات:

جمہوری حق: انتخابات میں ہونے والی بے ضابطگیوں پر خاموش نہیں رہا جا سکتا، تحفظات جمہوری سیاست کا لازمی حصہ ہیں جنہیں محض الزام کہہ کر نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔عدم دشمنی کا اصول: پیپلز پارٹی نہ پہلے کسی سے دشمنی رکھتی تھی اور نہ اب چاہتی ہے، تاہم جمہوریت کے نام پر عوامی مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالنا کسی صورت قبول نہیں۔مریم نواز کے بیان کا جواب: مریم نواز کی جانب سے گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے انتخابات کا موازنہ کرنا بالکل غیر منطقی اور نامناسب ہے۔طاقت کا بے جا استعمال: اصل مسئلہ سیاسی مخالفت کا نہیں بلکہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب ریاستی طاقت کو عوامی مینڈیٹ کو بلڈوز اور کمزور کرنے کے لیے استعمال کیا جائے۔