LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
گنجائش ختم! خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کا معاملہ فیصلہ کن مرحلے میں ہے: محسن نقوی بیرسٹر گوہر کی مولانا فضل الرحمان سے ملاقات؛ وزیراعظم سے گفتگو اور خیبر پختونخوا صورتحال پر تبادلہ خیال وزیراعظم اور مولانا ملاقات، خیبرپختونخوا کی صورتحال پر اختلافات سامنے آگئے حکومت اور اپوزیشن مذاکرات کی بحالی کے لئے اہم پیش رفت اسحاق ڈار کا وزیر خارجہ مالدیپ سے، صدر کے دورہ پاکستان کی تیاریوں پر تبادلہ خیال ایکنک کا ملک بھر میں 11 ترقیاتی منصوبوں کی منظوری دینے کا فیصلہ خیبرپختونخوا میں گورنر راج یا ایمرجنسی کے نفاذ پر اتفاق، وفاقی کابینہ کا اجلاس کل طلب خیبرپختونخوا بارے ایوان صدر میں ہونیوالے اجلاس کی اندرونی کہانی سامنے آگئی شارجہ میں خوشبوؤں کی بڑی ایکسپو سج گئی،200 کمپنیوں کی شرکت زیلنسکی کا یوکرین کے توانائی نظام کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچنے کا اعتراف سیاسی رابطوں میں تیزی، شہباز شریف کی مولانا فضل الرحمان سے اہم ملاقات جاری فلسطین میں صدارتی اور پارلیمانی انتخابات ملتوی، نئی تاریخ کا اعلان وزیراعظم کا طالبہ کی خودکشی کے واقعے کا نوٹس، ملزم فوری گرفتار کرنے کا حکم سعودیہ اور خلیجی ممالک میں کشیدگی، ملک بھر کے ایئرپورٹس پر فلائٹ آپریشن متاثر وزیراعظم کی ایئرپورٹس پر سمارٹ سکینرز نصب کرنے کی منظوری

آزاد کشمیر میں انتخابی عمل مکمل، ن لیگ 25 نشستوں کے ساتھ سرفہرست

Web Desk

16 August 2026

آزاد جموں و کشمیر کے عام انتخابات 2026 کے مرحلے میں ضلع باغ کے دو اہم حلقوں کے نتائج کی تکمیل کے ساتھ ہی انتخابی عمل کا بڑا حصہ اختتام پذیر ہو گیا ہے۔ 23 پولنگ سٹیشنز پر دوبارہ پولنگ کے بعد سامنے آنے والے غیر حتمی نتائج کے مطابق دونوں بڑے سیاسی حریفوں—پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی—نے ایک، ایک نشست پر کامیابی حاصل کی ہے۔

حلقہ ایل اے 15 وسطی باغ میں پیپلز پارٹی کے امیدوار سردار ضیاء القمر نے مسلم لیگ (ن) کے مشتاق منہاس کو شکست دے کر کامیابی حاصل کی۔ دوسری جانب، حلقہ ایل اے 16 شرقی باغ سے مسلم لیگ (ن) کے سردار میر اکبر خان نے پیپلز پارٹی کے سردار قمر الزمان کو 3,830 ووٹوں کے نمایاں فرق سے ہرا کر نشست اپنے نام کی۔

ان نتائج کے بعد قانون ساز اسمبلی میں مسلم لیگ (ن) کی مجموعی نشستوں کی تعداد 25 ہو گئی ہے، جس سے اس کی حکومت سازی کی پوزیشن انتہائی مضبوط ہو چکی ہے، جبکہ پیپلز پارٹی 12 نشستوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہتے ہوئے ایوان میں مرکزی اپوزیشن پارٹی کے طور پر سامنے آئی ہے۔ سیاسی ماہرین کے مطابق اب تمام تر نظریں راولاکوٹ اور سدھنوتی کے سات حلقوں میں ہونے والے متوقع ضمنی انتخابات پر جم گئی ہیں، جو نئے ایوان کی حتمی سیاسی ہیئت طے کریں گے۔