LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
استاد نصرت فتح علی خان کو مداحوں سے بچھڑے 29 برس بیت گئے بابائے اردو مولوی عبدالحق کی 65ویں برسی آج منائی جا رہی ہے اسرائیل کا جنوبی لبنان میں سیز فائر کے بعد سب سے مہلک ترین حملہ، 11 افراد شہید جنوبی کوریا نے شمالی کوریا کو جنگ باضابطہ ختم کرنے کی تجویز پیش کر دی ایران نے فرانس کو ملک کے اندرونی معاملات میں مداخلت سے خبردار کر دیا آبنائے ہرمز کی بندش کسی کے مفاد میں نہیں، دوبارہ کھولنا ترجیح ہے: ترک صدر ایران نے امریکی فوجیوں کی تدفین کیلئے جگہ مختص کر دی، 5 ہزار قبروں کی گنجائش ہوگی حوثی باغیوں کے حملوں کے بعد یمن کی المخا بندرگاہ نے آپریشن معطل کر دیا قطر نے ایرانی طیاروں کے 3 پائلٹس کی گرفتاری کے دعوؤں کی تردید کر دی ایران کو اپنے 3 پائلٹس قطر میں قید ہونے کا شبہ، ریڈ کراس سے مدد کی اپیل آبنائے ہرمز ایران کے اختیار میں ہے، ٹرمپ کے بیانات زمینی حقائق تبدیل نہیں کرسکتے: ایرانی عدلیہ گڈز ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال آٹھویں روز میں داخل، حکومت سے آج دوبارہ مذاکرات ہوں گے آبنائے ہرمز کو کھولنے یا بند کرنے کا اختیار صرف ایران کے پاس ہوگا: ایرانی نائب وزیرخارجہ سہیل آفریدی اور اسد قیصر کی ملاقات، بانی پی ٹی آئی کی رہائی سمیت اہم امور پر تبادلہ خیال انڈونیشیا میں زلزلے سے جانی نقصان پر وزیراعظم کا اظہار افسوس

آزاد کشمیر میں انتخابی عمل مکمل، ن لیگ 25 نشستوں کے ساتھ سرفہرست

Web Desk

16 August 2026

آزاد جموں و کشمیر کے عام انتخابات 2026 کے مرحلے میں ضلع باغ کے دو اہم حلقوں کے نتائج کی تکمیل کے ساتھ ہی انتخابی عمل کا بڑا حصہ اختتام پذیر ہو گیا ہے۔ 23 پولنگ سٹیشنز پر دوبارہ پولنگ کے بعد سامنے آنے والے غیر حتمی نتائج کے مطابق دونوں بڑے سیاسی حریفوں—پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی—نے ایک، ایک نشست پر کامیابی حاصل کی ہے۔

حلقہ ایل اے 15 وسطی باغ میں پیپلز پارٹی کے امیدوار سردار ضیاء القمر نے مسلم لیگ (ن) کے مشتاق منہاس کو شکست دے کر کامیابی حاصل کی۔ دوسری جانب، حلقہ ایل اے 16 شرقی باغ سے مسلم لیگ (ن) کے سردار میر اکبر خان نے پیپلز پارٹی کے سردار قمر الزمان کو 3,830 ووٹوں کے نمایاں فرق سے ہرا کر نشست اپنے نام کی۔

ان نتائج کے بعد قانون ساز اسمبلی میں مسلم لیگ (ن) کی مجموعی نشستوں کی تعداد 25 ہو گئی ہے، جس سے اس کی حکومت سازی کی پوزیشن انتہائی مضبوط ہو چکی ہے، جبکہ پیپلز پارٹی 12 نشستوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہتے ہوئے ایوان میں مرکزی اپوزیشن پارٹی کے طور پر سامنے آئی ہے۔ سیاسی ماہرین کے مطابق اب تمام تر نظریں راولاکوٹ اور سدھنوتی کے سات حلقوں میں ہونے والے متوقع ضمنی انتخابات پر جم گئی ہیں، جو نئے ایوان کی حتمی سیاسی ہیئت طے کریں گے۔